پاکستانی ناظم الامور کو بچانے کیلئے جان کا نذرانہ بھی دے دیتا، سپاہی اسرار

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کے دوران پاکستانی ناظم الامور کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے زخمی سپاہی اسرار محمد نے کہا کہ وہ پاکستانی اعلیٰ عہدیدار کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ بھی دے دیتے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں پاکستان میں زیر علاج سپاہی اسرار محمد نے بتایا کہ ان کا تعلق فوج کے اسپیشل سروسز گروپ سے ہے اور وہ اپریل سے کابل میں پاکستان کے سفیر کی سیکیورٹی پر تعینات ہیں۔

سپاہی اسرار محمد کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز اس وقت پیش آیا جب پاکستانی ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی نماز عصر کی ادائیگی سے فارغ ہوئے تھے۔

اپنے ہسپتال کے بستر سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ سفیر نماز کی ادائیگی کے بعد چہل قدمی کر رہے تھے کہ کسی نے فائرنگ کر دی، میں ان سے تقریباً پانچ میٹر پیچھے تھا اور میں نے ان پر چھلانگ لگائی اور انہیں بچانے کے لیے نیچے گرادیا۔

زخمی سپاہی کے مطابق ان کے سینے میں اس وقت گولی لگی جب وہ پاکستانی سفیر کا سر اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گولی لگنے کے بعد انہوں نے ایک ہاتھ زخم پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے عبیدالرحمٰن نظامانی کو گھسیٹ کر محفوظ مقام پر لے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹانگ میں گولی لگنے کی وجہ سے وہ تھوڑی دیر بعد بے ہوش ہو گئے کیونکہ دیگر سیکیورٹی اہلکار بھی جائے وقوع پر پہنچ چکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سفیر کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا تھا اور اگر مجھے اپنی جان بھی قربان کرنی پڑتی تو بھی پروا نہ تھی کیونکہ سب سے اہم چیز مشن کے سربراہ کی حفاظت تھی اور میں نے ایسا ہی کیا۔

اپنی ٹوئٹ میں کابل میں پاکستان کے سابق سفیر منصور احمد خان نے زخمی سپاہی کی بہادری کو سراہا۔

انہوں نے لکھا کہ اسرار کی بہادری اور ڈیوٹی سے لگن پر فخر ہے، میں ذاتی طور پر ان کا اور پوری ایس ایس جی ٹیم کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے کابل میں بطور سفیر خدمات کی انجام دہی کے دوران میری حفاظت کی، پاکستان کے ان عظیم بیٹوں کو سلام۔

پاکستان کے سفارت خانے پر حملہ جمعے کو کابل کے کارتِ پروان محلے میں کیا گیا جسے دفتر خارجہ نے عبیدالرحمٰن نظامانی کی زندگی پر قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا۔

حملے میں سپاہی اسرار شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں بذریعہ ہیلی کاپٹر پشاور منتقل کیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

ایران سعودی عرب تعلقات میں ترقی کا اہم موڑ

?️ 19 اپریل 2025سچ خبریں: تہران کے دورے پر گئے سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان

عالمی برادری مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے: حریت کانفرنس

?️ 13 اکتوبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل

غزہ پر صیہونی فضائی، زمینی اور سمندری حملے

?️ 27 فروری 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کے زمینی، فضائی

وفاقی کابینہ نے نیب کے نئے چیئرمین کے تقرر کی منظوری دے دی

?️ 21 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناللہ نے کہا ہے کہ

حماس: رفح کو یکطرفہ طور پر کھولنے کا اسرائیل کا مقصد غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنا ہے

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: حماس کے ترجمان حازم قاسم نے صیہونی حکومت کے رفح

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کریں گے، چوہدری شجاعت حسین کا اعلان

?️ 12 جنوری 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین

نگران وزیراعظم کا بجلی چوروں، واجبات کے نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

?️ 4 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے حکام کو قانون نافذ

یمن میں برطانوی اور امریکی جارحیت؛ خطے میں ایک نئے بحران کا آغاز

?️ 13 جنوری 2024سچ خبریں:یمن پر امریکہ اور انگلستان کی کھلی جارحیت حوثیوں کی جانب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے