سولر پینل پر ٹیکس کیوں لگایا گیا؟ چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت جاری کردی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) راشد محمود لنگڑیال نے سولر پینل پر ٹیکس سے متعلق وضاحت جاری کردی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے سولر پینل پر ٹیکس عائد کر دیا ہے، اس حوالے سے اپنی بجٹ تقریر میں وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ سولر پینلز کے درمیان مسابقت میں برابری کو یقینی بنانے کے لیے تجویز ہے کہ سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے، یہ اقدام پاکستان میں سولر پینلز کی مقامی صنعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس معاملے پر چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) راشد محمود لنگڑیال نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بیرون ممالک سے دو طرح کا سولر پاکستان میں آتا ہے، جو اسمبل فارم میں سولر آتا تھا اس پر ٹیکس نہیں تھا اور جو اسمبل فارم میں نہیں اس پر پہلے سے ٹیکس تھا، اسمبل سولر پر ٹیکس نہ ہونے سے لوکل مصنوعات میں گیپ تھا، درآمدی سولر پر ٹیکس مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے لگایا گیا۔

اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے 4 ہزار ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی ہے، مزید 2 ہزار 700 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی میں کمی کی گئی جن میں سے 2 ہزار ٹیرف لائنز براہ راست خام مال سے تعلق رکھتی ہیں، اس کے نتیجے میں برآمدکنندگان کو فائدہ پہنچے گا کیوں کہ اخراجات میں کمی آنے سے وہ مسابقت کے قابل ہوں گے اور زیادہ برآمدات کرسکیں گے، ٹیرف اصلاحات ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوں گی، آئندہ سالوں میں ٹیرف میں کٹوتی کو مزید آگے لے کر جائیں گے اور ٹیرف کے پورے نظام میں مجموعی طور پر چار فیصد کمی کی جائے گی، اس طرح کی اصلاحات گزشتہ 30 سال میں نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال ہم نے انفورسمنٹ کے ذریعے 400 ارب سے زیادہ ٹیکس اکھٹا کیا، دو ہی طریقے ہیں یا تو انفورسمنٹ کرلیں یا ٹیکس لگا دیں، اس حوالے سے قانون سازی کے لیے دونوں ایوانوں سے بات کریں گے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے، تعمیراتی شعبے میں ٹرانزیکشن کاسٹ کم کرنے کے اقدامات کیے ہیں تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے، ایڈیشنل ٹیکس زرعی شعبے پر نہ لگانے پر بورڈ سے بات کی گئی، چھوٹے کسانوں کے لیے قرضے دیئے جائیں گے، کھاد پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ زیر غور تھا مگر کسانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ختم کر دیا گیا۔

مشہور خبریں۔

 تل ابیب-دمشق طاقت کا توازن؛ تعلقات کی بحالی یا شام کی تقسیم؟

?️ 24 جولائی 2025 سچ خبریں:شام اور صہیونی ریاست کے تعلقات حالیہ مہینوں میں شدید

یوٹیوبر زیبا وقار منجھے ہوئے سیاست دانوں کے خلاف انتخابی میدان میں اتریں گی

?️ 24 جنوری 2024لاہور: (سچ خبریں) یوٹیوبر، اسلامی مبلغ اور ڈاکٹر زیبا وقار پنجاب کے

ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ٹرمپ کا نیا دعویٰ

?️ 4 اپریل 2025سچ خبریں: ایسی حالت میں کہ جب اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام

ابھی تو شروعات ہے؛جہاد اسلامی کا صیہونیوں کو انتباہ

?️ 22 جون 2023سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک نے ایک بیان جاری کرکے صیہونی

افغانستان میں برطانیہ کے جنگی جرائم 

?️ 11 اکتوبر 2023سچ خبریں:ٹائمز اخبار میں مضامین کی اشاعت کے بعد انگلینڈ میں ملک

عراقی خاک کو کسی بھی ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال کیے جانے کی مخالفت 

?️ 5 فروری 2026 سچ خبریں:شیعہ ہم آہنگی فریم ورک، جو عراق کی پارلیمان کی

رہنما انصار اللہ: غزہ میں صہیونیوں کے نشانے پر بچے بھی شامل ہیں

?️ 2 اگست 2025سچ خبریں: انصار اللہ یمن کے سربراہ نے اعلان کیا کہ صیہونی

پاکستانی وزیر خارجہ کا بھارت کا ممکنہ دورہ

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:پاکستان کے وزیر خارجہ مئی کے وسط میں شنگھائی تعاون تنظیم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے