امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب، امارات اور قطر کی حمایت کا خاتمہ

امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب، امارات اور قطر کی حمایت کا خاتمہ

?️

سچ خبریں:یمنی تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم طہ الحوثی نے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی طرف سے انصاراللہ کے خلاف سعودی عرب، امارات اور قطر کی حمایت کرنے میں کمی کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔

یمنی سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم طہ الحوثی نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں یمن کی جنگ کے حوالے سے مغربی طاقتوں کی پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یمن نے اسرائیل کے دفاعی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا

 ان کے مطابق، ایک دہائی سے جاری جنگ اور اس میں مغربی اتحادیوں کی مسلسل ناکامی کے بعد، اب امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل یمن کے جنگ میں سعودی عرب، امارات اور قطر کی غیر مشروط حمایت کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر الحوثی کا کہنا ہے کہ یمن میں انصاراللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل ناکامی کا سامنا ہے، اور اب مغربی طاقتیں ان ممالک کی حمایت میں پیچھے ہٹ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل اب سعودی عرب اور امارات کو براہ راست فوجی، سیاسی یا اقتصادی مدد فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، ان کے مطابق، امریکی، برطانوی اور اسرائیلی افواج یمن کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مغربی طاقتوں کی پالیسی میں تبدیلی کا اثر سعودی عرب اور امارات پر واضح ہو رہا ہے، ڈاکٹر الحوثی نے یہ بھی کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کے منصوبے سے دستبردار ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی عادی کاری کے لیے قدم اٹھائیں اور اپنے خاندان کے اندر جانشینی کے عمل پر غور کریں۔

مزید برآں، ڈاکٹر الحوثی نے کہا کہ سعودی عرب، امارات اور قطر کے لیے حوثیوں کے خلاف نئے فوجی اقدام کی کوششوں کا نتیجہ ان کی حکومتوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ حوثی فورسز قلیل وقت میں سعودی عرب اور امارات کے دارالحکومتوں میں داخل ہو سکتی ہیں اور آرامکو، مقامی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر حملہ کر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر الحوثی نے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حمایت یافتہ سیاسی گروپوں جیسے طارق عفاش اور حزب الاصلاح کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ گروہ مفاد پرست ہیں اور حوثیوں کے ساتھ مقابلے کے لیے قابل اعتماد نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں:یمن کی ایک جیل پر امریکی حملہ ممکنہ جنگی جرم ہے: عفو بین الملل

انہوں نے مزید کہا کہ حتی کہ دونالڈ ٹرمپ کی دوبارہ واپسی کی صورت میں بھی امریکہ کو یمن میں نیا فوجی اقدام کرنے میں مشکل پیش آئے گی، کیونکہ امریکی فوج دیکتاتوری حکومتوں کی حمایت میں مزید جنگ میں حصہ نہیں لے گی۔

مشہور خبریں۔

امریکی انتخابات کے موقع پر سیاسی تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر

?️ 23 اکتوبر 2024سچ خبریں: جب کہ متنازعہ اور فیصلہ کن امریکی صدارتی انتخابات میں

مداحوں نے پریانکا چوپڑا اور اداکارہ ژالے سرحدی کو ایک دوسرے کے مشابہہ قرار دیا

?️ 25 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) مداحوں نے پاکستانی اداکارہ و ماڈل ژالے سرحدی اور

جرمنی بھی نتن یاہو کے خلاف

?️ 23 مئی 2024سچ خبریں: ہیگ کی عدالت کے پراسیکیوٹر کی جانب سے صیہونی رہنماؤں

وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں شرکت کیلئے ماسکوچلے گئے

?️ 17 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار شنگھائی

ایران امریکہ اور اسرائیل پر غالب آ گیا؛ صہیونی ویب سائٹ کا اعتراف

?️ 22 جون 2026سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ اور سیاسی شخصیات نے حالیہ جنگ میں ایران

نیتن یاہو کی سمجھوتہ کرنے والوں کو ڈانٹا۔ عرب زمینوں کو نگلنے کا منصوبہ

?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: نام نہاد "گریٹر اسرائیل” منصوبے کے بارے میں نیتن یاہو

ایران کے خوف کی وجہ سے صہیونی وفد کی دوحہ میں غیر معمولی آمد

?️ 17 اگست 2024سچ خبریں: صیہونی کان نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ ایران

ہیگ کورٹ کا غزہ کے بارے میں بیان

?️ 9 دسمبر 2023سچ خبریں: بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل نے اقوام متحدہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے