ریاض سے باب المندب تک؛ یمن میں جنگ کے نئے مرحلے کے لیے امریکی منصوبہ

یمن

?️

سچ خبریں:سعودی عرب اور اس کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر یمن میں جنگ کا نیا مرحلہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مرکزی ہدف باب المندب اور مغربی ساحل پر انصار اللہ کی پوزیشن ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران یمن میں ہونے والی پیش رفت کو سعودی عرب اور انصار اللہ کے درمیان معمول کی جھڑپوں کا تسلسل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سعودی فضائی حملوں میں اچانک اضافہ، امریکی سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کا سعودی عرب کا دورہ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ان کی ملاقات، مغربی ساحل پر ریاض کے حمایت یافتہ فورسز کی ازسرنو صف بندی اور اسی دوران سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے، جنگ کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس مرحلے کا بنیادی مقصد مغربی یمن اور باب المندب کے دروازے پر انصار اللہ کی پوزیشن کو مستحکم ہونے سے روکنا ہے۔

اس نئے مرحلے کا آغاز گزشتہ جمعرات کو اس وقت ہوا جب بریڈ کوپر ہنگامی مذاکرات کے لیے سعودی حکام سے ملاقات کی غرض سے سعودی عرب پہنچے۔ امریکی رپورٹس اور روئٹرز نے تصدیق کی ہے کہ سینٹ کام کمانڈر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب ریاض نے انصار اللہ کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے واشنگٹن سے مدد طلب کی تھی۔

 اسی دوران امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ فی الحال انصار اللہ کے خلاف جنگ میں براہ راست شامل ہونے کا ارادہ نہیں ہے، تاہم یمنی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور دیگر معاونت میں اضافہ کیا گیا ہے۔

کوپر کی سعودی عرب میں موجودگی کے بعد سعودی حملوں میں ہونے والے اضافے کو سامنے رکھا جائے تو اس دورے کی اہمیت مزید واضح ہوجاتی ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے 5 روز کے دوران یمن کے مختلف علاقوں پر 300 سے زائد فضائی حملے کیے۔ اس سے قبل بھی انصار اللہ نے مختصر مدت کے دوران سعودی فضائی حملوں کی درجنوں کارروائیوں کی اطلاع دی تھی اور بین الاقوامی ذرائع نے بھی کشیدگی میں نمایاں اضافے کی تصدیق کی ہے۔

لہٰذا معاملہ صرف یہ نہیں کہ سعودی عرب نے اپنے حملوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجود شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن امریکی فوجیوں کو براہ راست جنگ میں اتارے بغیر سعودی عرب کی فوجی صلاحیت کو انصار اللہ پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے فعال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

 اس مرحلے کے آغاز میں سینٹ کام کمانڈر کی ریاض میں موجودگی اور اس کے بعد جدہ میں محمد بن سلمان سے ان کی ملاقات اس تعلق کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ روئٹرز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ یہ ملاقات انصار اللہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران ہوئی اور واشنگٹن بیک وقت ریاض کو یمن میں اہداف کی فہرست فراہم کرکے انٹیلی جنس معاونت دے رہا ہے۔

انصار اللہ کا ردعمل بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ دباؤ یک طرفہ نہیں رہے گا۔ یمنی مسلح افواج نے خمیس مشیط میں ملک خالد ایئربیس اور طائف ایئرپورٹ پر حملوں کی اطلاع دی ہے، یعنی ایسے مراکز جو براہ راست سعودی عرب کی فضائی جنگی صلاحیت سے منسلک ہیں۔

شرورہ کو نشانہ بنانا اور اسلحے کے اہم ذخائر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر حملے بھی اسی تناظر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ انصار اللہ محض یمن کے اندر سعودی حملوں کا جواب دینے کے بجائے ریاض کی فوجی کارروائیوں کی قیمت سعودی عرب کے آپریشنل اور فوجی بنیادی ڈھانچے تک منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

تاہم مغربی ساحل کی صورتحال اس پورے معادلے کا زیادہ اہم حصہ ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے رکن اور مغربی ساحل میں نیشنل ریزسٹنس کے نام سے معروف فورسز کے کمانڈر طارق صالح نے پہلے اپنی فورسز کی ازسرنو صف بندی اور ایک متبادل کمانڈ سینٹر کے قیام کا اعلان کیا۔

 انہوں نے کہا کہ یہ اقدام سعودی اتحاد کی قیادت اور صدارتی قیادت کونسل کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کے بعد تحریک مقاومت تہامہ کے نام سے ایک الگ فورس تشکیل دینے کا فیصلہ بھی سامنے آیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ فورس براہ راست سعودی اتحاد کے ڈھانچے سے منسلک ہوگی۔

اس اقدام کا طارق صالح کے ریاض کے دورے اور سینٹ کام کمانڈر کی سعودی عرب میں موجودگی کے ساتھ بیک وقت ہونا اسے محض ایک معمولی تنظیمی تبدیلی سے کہیں زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔

مغربی ساحل پر حالیہ شکستوں اور سعودی اتحاد کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کی پسپائی کے بعد ریاض اور واشنگٹن کے لیے مسئلہ صرف موجودہ محاذوں کو برقرار رکھنا نہیں بلکہ ایسی زمینی فورس کی ازسرنو تشکیل بھی ہے جو بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ انصار اللہ کی پوزیشن مستحکم ہونے سے روک سکے۔ مقاومت تہامہ کی تشکیل کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، یعنی مغربی ساحل کی نئی صورتحال کے مستقل حقیقت بننے سے پہلے اتحاد کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کی ازسرنو صف بندی کی کوشش۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ  اور سعودی عرب کا مقصد صرف سعودی سرزمین پر انصار اللہ کے حملوں کو روکنا نہیں ہے۔ اصل تشویش اس جغرافیائی علاقے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی ہے جو یمن کے مغربی ساحل سے باب المندب تک پھیلا ہوا ہے۔

 اس علاقے میں انصار اللہ کی پیش قدمی باب المندب کی اہم جغرافیائی حیثیت اور بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہوں سے اس کے تعلق کے باعث محض یمن کی داخلی پیش رفت نہیں سمجھی جاسکتی۔

حالیہ دنوں میں بین الاقوامی ذرائع نے بھی اس خطے پر انصار اللہ کے کنٹرول کے بحری آمدورفت اور سعودی تیل کی برآمدات پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

دوسری جانب توانائی کا محاذ بھی تیزی سے یمن کی جنگ کے ساتھ جڑ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ تیل پائپ لائن، جو مشرقی علاقوں سے تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک منتقل کرتی ہے، کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا اور سعودی عرب نے اسے عارضی طور پر بند کردیا۔ روئٹرز کے مطابق اس حملے سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں اور ایشیا میں موجود ریفائنری مالکان سعودی تیل کی رسد میں ممکنہ کمی پر تشویش کا شکار ہوگئے۔

اس کے ساتھ ہی ینبع کے علاقے میں تیل کی تنصیبات اور ذخیرہ گاہوں پر نئے حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

 ینبع کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ بندرگاہ سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرکے تیل کو بحیرہ احمر تک منتقل کرنے کے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔

 چنانچہ اس علاقے میں تیل کی منتقلی کی پائپ لائنوں یا ذخیرہ اور برآمدی مراکز پر کامیاب حملہ ریاض کے اقتصادی اور اسٹریٹجک حسابات پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حالیہ تمام حملوں کو قطعی طور پر انصار اللہ سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔

ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن پر حملے کے حوالے سے دستیاب رپورٹس میں مختلف انتسابات سامنے آئے ہیں اور بعض ذرائع نے اس حملے کا منبع عراق کو قرار دیا ہے۔

 تاہم اس صورتحال کی اسٹریٹجک اہمیت کسی اور پہلو میں ہے: مزاحمتی محاذ اب سعودی عرب کے توانائی کے راستوں اور برآمدی کوریڈورز پر دباؤ کو علاقائی جنگ کے معادلے کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

اسی لیے جنگ کے موجودہ نئے مرحلے کو سعودی عرب بمقابلہ یمن کے محدود فریم ورک میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ یمن کی جنگ کا آبنائے ہرمز کے بحران، توانائی کی برآمدی گزرگاہوں پر دباؤ، بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کو درپیش خطرات اور خطے میں امریکی سرگرمیوں کے ساتھ بیک وقت جڑنا ایک باہم مربوط سلسلہ تشکیل دے رہا ہے۔

حالیہ رپورٹس میں بھی باب المندب اور آبنائے ہرمز سے وابستہ خطرات کے باہمی تعلق اور عالمی توانائی کی منڈی پر ان کے اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس تناظر میں واشنگٹن کا انصار اللہ کے خلاف براہ راست حملے سے گریز کرنے کا فیصلہ یمن کے معاملے سے  کی دستبرداری کا مطلب نہیں۔ اس کے برعکس  سعودی عرب اور اس کے حمایت یافتہ مقامی جنگجوؤں کی صلاحیتوں کو استعمال کرکے مقامی فریقوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ اپنی افواج کو وسیع تر علاقائی جنگ کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ ب

ریڈ کوپر کا سعودی عرب کا دورہ،  کی جانب سے ریاض کو انٹیلی جنس معاونت اور اہداف کی فہرست فراہم کرنا اور مغربی ساحل پر فورسز کی ازسرنو صف بندی اسی حکمت عملی کے نمایاں اشارے ہیں۔

تاہم اس حکمت عملی کو ایک بنیادی مسئلے کا سامنا ہے: اس کے نفاذ کی اصل قیمت سعودی عرب کو ادا کرنا ہوگی۔ فضائی حملوں میں اضافہ، زمینی فورسز کی ازسرنو تشکیل اور مغربی ساحل میں انصار اللہ کی پوزیشن مستحکم ہونے سے روکنے کی کوشش، سب ریاض کے لیے براہ راست اخراجات کا باعث بنیں گے۔

 اس کے مقابلے میں انصار اللہ کا ردعمل جنگ کی قیمت کو یمن کی جغرافیائی حدود سے نکال کر سعودی عرب کے اندر اور اس کے اہم بنیادی ڈھانچے تک منتقل کرسکتا ہے۔

چنانچہ یمن میں اس وقت جاری صورتحال محض میدان جنگ میں طاقت کا توازن بحال کرنے کی سعودی کوشش نہیں ہے۔  مغربی ساحل اور باب المندب میں انصار اللہ کی کامیابیوں کے مستقل حقیقت بننے سے پہلے سعودی فوجی صلاحیت اور اس کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم انصار اللہ نے بھی واضح کردیا ہے کہ بڑھتے ہوئے دباؤ کے جواب میں اس کی کارروائیاں صرف یمن کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہیں گی۔

مشہور خبریں۔

مودی حکومت سفاکانہ کارروائیوں سے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کوہرگزدبانہیں دے سکتی

?️ 26 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت بھارت کے

کیا صیہونی قابض ترکی کے لیے بھی خطرہ ہیں؟

?️ 16 مئی 2024سچ خبریں: ترکی کے صدر نے اپنے بیان میں صیہونی حکومت کے

آئی جی اور رینجرز سے سیکیورٹی کی رپورٹ طلب

?️ 5 نومبر 2022کراچی:(سچ خبریں) کراچی میں ضمنی انتخابات کی تاریخ میں تاخیر پر سندھ

کانگریس ڈیموکریٹس نے ٹرمپ سے فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کے ایک گروپ نے اپنے ملک

فرانس کے آئندہ صدارتی انتخابات اور میکرون کے مشرق وسطی کے دورے

?️ 7 دسمبر 2021سچ خبریں:فرانسیسی صدر کے مشرق وسطیٰ کے متواتر دورے مشرق وسطیٰ میں

عراقی پارلیمانی اتحاد کا شام کی سلامتی کے بارے میں بیان

?️ 30 دسمبر 2024سچ خبریں:عراق کے الفتح اتحاد کے ایک رہنما عدی عبدالہادی نے کہا

ہر دو گھنٹے میں 1 یمنی ماں اور 6 بچے مرتے ہیں:ریڈ کراس

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:ریڈ کراس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ

شہید قاسم سلیمانی ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے سلطنتوں کو چیلنج کیا

?️ 28 دسمبر 2025 شہید قاسم سلیمانی ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے سلطنتوں کو چیلنج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے