شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد؛ بڑھتی غربت سے عملی تقسیم کی جانب سفر

اسد حکومت

?️

سچ خبریں:بشار اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں جولانی حکومت کے خلاف احتجاج، بڑھتی مہنگائی، غربت، صیہونی جارحیت اور غیر ملکی مداخلت نے ملک کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

شام میں جولانی حکومت کی کارکردگی کے خلاف عوامی احتجاج کی سب سے بڑی لہر نے ایک بار پھر بشار اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کی ابتر صورتحال کی جانب عالمی توجہ مبذول کردی ہے۔

بشار اسد حکومت کے خاتمے کے بعد مغربی میڈیا اور مغرب نواز حلقوں کی جانب سے شام کے مستقبل کے حوالے سے یہ تاثر پیش کیا گیا تھا کہ دمشق ماضی سے دوری اختیار کرکے امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی سمت آگے بڑھے تو اقتصادی اور سیاسی دباؤ سے نکل سکتا ہے اور ترقی و استحکام کی نئی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

جولانی حکومت نے بھی امریکی اور صیہونی حکام سے رابطوں، ملاقاتوں اور پابندیاں ختم کرانے کے معاملے کو نمایاں کرکے خود کو اس تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ دعویٰ یہ تھا کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں شام کی معیشت اور عوام کی زندگی بہتر ہوگی۔

تاہم ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کے ساتھ شام میں ہونے والے حالیہ وسیع احتجاج نے اس دعوے کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے: کیا امریکہ اور مغرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور ان کے مطالبات تسلیم کرنے سے واقعی شامی عوام کے حالات زندگی بہتر ہوئے ہیں؟

شام میں موجودہ صورتحال کی اہمیت صرف ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برسوں سے خطے کے عوام اور ایران کو یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ اقتصادی بحرانوں سے نکلنے اور خوشحالی حاصل کرنے کا واحد راستہ مغرب کے ساتھ تعاون، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور ان طاقتوں کے مطلوبہ عالمی نظام کو قبول کرنا ہے۔

تاہم بشار اسد کے بعد شام کا تجربہ عوام کے سامنے ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے، جہاں سیاسی تبدیلی اور مغرب کے قریب جانے کے باوجود اقتصادی بحران ختم نہیں ہوئے بلکہ غربت، عدم استحکام اور معاشی مشکلات بدستور عوام کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب شام بڑھتی ہوئی بیرونی مداخلت کی زد میں بھی ہے۔ صہیونی حکومت کے حملے اور فوجی سرگرمیاں جاری ہیں، ملک کے جنوب میں نئے علاقے قبضے میں لیے گئے ہیں جبکہ ترکی، امریکہ، روس اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتیں اپنے اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایسے حالات میں شام کی عملی تقسیم کا خطرہ بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگیا ہے۔

اس تناظر میں حالیہ احتجاج کو محض اقتصادی ناراضی کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ تعلقات معمول پر لانے کے بدلے خوشحالی کے بیانیے کا ایک امتحان ہے، اور شام کا موجودہ تجربہ اس بیانیے کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔

آغاز کہاں سے ہوا؟

گزشتہ چند روز کے دوران شام میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے بشار اسد حکومت کے خاتمے کے بعد تقریباً 2 سال کے عرصے میں ملک میں عوامی احتجاج کی سب سے بڑی لہر کو جنم دیا ہے۔

مظاہرین نے ٹائر نذر آتش کرکے اور اہم شاہراہیں بند کرکے اپنے غصے کا اظہار کیا۔ ان میں دمشق، دارالحکومت شام، کو حلب، ملک کے صنعتی مرکز، سے ملانے والی شاہراہ بھی شامل ہے۔

 احتجاج اس وقت شروع ہوا جب جولانی حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 175 لیرہ، یعنی 1.32 ڈالر، فی لیٹر کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی عوام نے ملک میں پولیس مراکز پر بھی حملے کیے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج 8 شہروں اور صوبوں تک پھیل گیا، جس سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات مزید بڑھ گئے۔

حلب، ادلب، حماہ، دیہی دمشق، درعا، رقہ، دیرالزور اور حسکہ میں شامی مظاہرین نے احتجاجی مظاہرے کیے، گاڑیوں کے ٹائر جلائے اور اہم و بین الاقوامی راستے بند کرکے جولانی حکومت کی کارکردگی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا۔

شامی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے بھی ایک مشترکہ درخواست پر دستخط کرتے ہوئے ملک کے وزیر توانائی محمد البشیر کے ساتھ فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

90 فیصد شامی عوام خط افلاس سے نیچے

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے شامی عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جو پہلے ہی کئی برس سے شدید اقتصادی بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے جائزوں کے مطابق شام کی 90 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے سے قبل یہ شرح تقریباً ایک تہائی آبادی تک محدود تھی۔

قیمتوں میں اضافہ صرف ڈیزل تک محدود نہیں رہا۔ حکمران حکومت نے گھریلو اور صنعتی گیس کی قیمتوں میں بھی تقریباً 9 فیصد اضافہ کیا۔ 95 اوکٹین پٹرول کی قیمت 28 فیصد اضافے کے بعد 195 لیرہ جبکہ 90 اوکٹین پٹرول کی قیمت 26 فیصد اضافے کے بعد 185 لیرہ فی لیٹر ہوگئی۔

شامی مظاہرین میں شامل بسام العلی نے جولانی سے مخاطب ہوکر کہا کہ حالات اب مزید قابل برداشت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو نئے میدان یا تجارتی مراکز نہیں چاہییں، وہ صرف زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

مصنف اور سیاسی محقق یاسر النجار نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے لیے کوئی جواز موجود نہیں۔

ان کے مطابق اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھی بھی ہوں تو جولانی حکومت کو عوام کو اس اضافے کے لیے تیار کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہییں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ زیادہ گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد کیا جانا چاہیے تھا۔

اقتصادی امور کے ماہر زیاد عربش نے بھی کہا کہ ایندھن کی قیمتوں کو عالمی نرخوں کے مطابق بڑھانا جولانی حکومت کے سامنے واحد راستہ نہیں تھا، تاہم فنی اور انتظامی اعتبار سے یہ سب سے آسان آپشن تھا۔ انہوں نے موسم سرما کی آمد اور اسکول کھلنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں شامی خاندان مہنگائی کے اس مجموعی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

جولانی حکومت پر شامی عوام کا اعتماد کم ہورہا ہے

سیاسی امور کے محقق مضر الدبس نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ردعمل میں عوامی احتجاج ان کے لیے حیران کن نہیں تھا۔ ان کے مطابق اس طرح کے احتجاج کسی نہ کسی وقت ہونا ہی تھے۔

 انہوں نے کہا کہ پہلے دن ہی سے شامی عوام کا حکومت پر اعتماد کمزور ہوگیا تھا اور اس کی بنیادی وجہ حکومت کی سیاسی کارکردگی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام اس سے قبل بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے جیسے فیصلے دیکھ چکا ہے، لیکن اس وقت سڑکوں پر احتجاج نہیں ہوا تھا۔

 اب ناراضی اور دباؤ کی ایک پوری زنجیر جمع ہوچکی ہے اور معاشرے کی جانب سے حکمران حکومت کو واضح پیغام دیا جارہا ہے کہ عوام کا اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے اور محض فتح کے تصور پر انحصار کرکے شامی عوام کو مزید قائل نہیں کیا جاسکتا۔

صیہونی جارحیت میں اضافہ اور نئے علاقوں پر قبضہ

بشار اسد حکومت کے خاتمے کے بعد نہ صرف شام کے خلاف صہیونی حکومت کے حملے بند نہیں ہوئے بلکہ ان میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، یہاں تک کہ جولانی حکومت سے وابستہ مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

جولانی حکومت کی خاموشی میں صہیونی فوجی جنوبی شام کے مختلف علاقوں پر روزانہ حملوں کے علاوہ شہریوں کے گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں اور مختلف بہانوں سے لوگوں کو اغوا بھی کررہے ہیں۔

صہیونی فوج جنوبی شام کے علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر روزانہ نئی چیک پوسٹیں قائم کررہی ہے اور یوں اپنے قبضے کا دائرہ وسیع کررہی ہے۔

دوسری جانب صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر صیہونی حکام کی جبل الشیخ کی چوٹیوں پر کھلے عام موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملہ محض فوجی جارحیت تک محدود نہیں بلکہ اس کے شام کے جنوبی علاقوں کے مستقبل اور دمشق پر اسرائیل کی جانب سے مسلط کیے جانے والے تعلقات کی نوعیت کے حوالے سے بھی وسیع تر سیاسی پہلو ہیں۔

صہیونی حکومت بشار اسد حکومت کے بعد کے دور میں شام کے اندر اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دے کر اسے ایک سیاسی اور سکیورٹی حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں اس سے دستبرداری مشکل ہوجائے۔

جب نیتن یاہو اعلان کرتے ہیں کہ صہیونی فوجی اپنے ٹھکانوں سے دستبردار نہیں ہوں گے تو یہ محض ایک فوجی بیان نہیں رہتا بلکہ قبضے کی ایک نئی بنیاد کو مستحکم کرنے کی کوشش بن جاتا ہے۔

دمشق کے نسبتاً قریب ایک مقام سے صہیونی حکام کی جانب سے جولانی کو دیا جانے والا براہ راست پیغام ظاہر کرتا ہے کہ تل ابیب اپنے زیر قبضہ علاقوں کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

شام میں علاقائی طاقتوں کے درمیان مقابلہ

بشار اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں غیر ملکی افواج کی فوجی موجودگی پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوگئی ہے۔ ترکی، صہیونی حکومت، روس اور امریکہ سمیت مختلف طاقتوں کی مداخلت کو زمینی حقائق کی بنیاد پر شام کی تقسیم کے علاوہ کسی اور شکل میں دیکھنا مشکل ہے۔

شام ایسا ملک بن چکا ہے جہاں دیگر فریق اپنے مفادات کے تحفظ یا اپنے مطلوبہ فریق کو پیغام دینے کے لیے ملک کے استحکام کو متاثر کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ شام کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتے ہیں۔

ترکی کے لیے یہ انتہائی مفید ہوگا کہ شام میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی جغرافیائی علاقے پر اپنا اثر قائم کرے اور وہاں اپنا نفوذ برقرار رکھے۔ یہ اس کردار میں توسیع کی علامت ہوگی جسے انقرہ مستقبل قریب میں ادا کرنا چاہتا ہے۔

صہیونی حکومت اور ترکی کے درمیان بھی شام میں قریبی مقابلہ جاری ہے۔ تل ابیب کے مطابق ترکی کو شمالی شام میں مخصوص جغرافیائی حدود سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے اور نہ ہی جنوب کی جانب، بالخصوص جنوبی علاقوں اور دمشق کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔ صہیونی حکومت شام میں کسی بھی ترک فوجی موجودگی اور دمشق و انقرہ کی جانب سے شامی فوج کی ازسرنو تعمیر اور اسے اسلحے سے لیس کرنے کی کوشش کو اپنی ریڈ لائنز میں شمار کرتی ہے۔

شام کی تقسیم کے حوالے سے خدشات سنجیدہ ہیں، کیونکہ یہ ایک وسیع رقبے پر مشتمل ملک ہے اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے والا ہر شخص واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ جنگ نے صرف انسانی جانوں کے ضیاع اور تباہی ہی نہیں بلکہ سیاسی نقصانات اور اثر و رسوخ کی تقسیم کے میدان میں بھی گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بشار اسد حکومت کے خاتمے کے بعد جولانی حکومت شام کے تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم نہیں کرسکی۔ اس وقت ملک کے مختلف حصے متعدد گروہوں اور دھڑوں کے کنٹرول میں ہیں اور کوئی مرکزی حاکمیت موجود نہیں۔

 یہی صورتحال شام کو عملی تقسیم کی جانب دھکیل رہی ہے۔ جولانی حکومت سے وابستہ عناصر، کرد فورسز، ترک فوج اور جنوبی شام میں بعض دروز گروہ ملک کے مختلف علاقوں کے حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان نزدیک، سیاسی گہما گہمی میں اضافہ

?️ 19 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے نئے آرمی چیف کے

20 لاکھ صہیونی خط غربت سے نیچے

?️ 27 فروری 2026 سچ خبریں:کچھ عرصہ قبل انسشورنس انسٹی ٹیوٹ آف اسرائیل نے سال

شوبز نے مجھے اندر سے توڑ دیا، علیزے شاہ کا ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف

?️ 31 اگست 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ علیزے شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز

اقوام متحدہ کے پانچ ارکان کی رہائی کے لیے القاعدہ نے کیا 10 لاکھ ڈالر کا مطالبہ

?️ 24 فروری 2022سچ خبریں:  یمن کے جنوبی صوبے ابین میں القاعدہ کے دہشت گردوں

ٹرمپ کی ہیرس پر تنقید؛ وجہ؟

?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: 2024 کے انتخابات کے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کیلیفورنیا کے

یمنی عوام کے خلاف جنگ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے : انصار اللہ

?️ 18 فروری 2022سچ خبریں:   انصار اللہ کے رہنما عبدالمالک بدرالدین الحوثی نے جمعرات کو

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کی باتیں بالکل غلط ہیں۔ رانا ثناءاللہ

?️ 2 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر وزیراعظم سیاسی اُمور رانا ثنا اللہ نےکہا

کالعدم ٹی ٹی پی اپنے واٹس ایپ چینلز چلا رہی ہے۔ طلال چودھری

?️ 20 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہاکہ کالعدم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے