ٹرمپ یمن کے دلدل میں اپنے سعودی اتحادی کی مدد کیوں نہیں کررہے؟

یمن

?️

سچ خبریں:المیادین کے مطابق یمن کی جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی عدم مداخلت کی بڑی وجوہات امریکی فوج کی نئی جنگ کے لیے محدود تیاری، انصار اللہ کی صلاحیتوں کا خوف اور باب المندب کی ممکنہ بندش ہیں۔

یمن کی جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی براہ راست مداخلت سے گریز کی وجہ امریکی فوج کی جانب سے ایک نیا محاذ کھولنے کی عدم تیاری، انصار اللہ کی طاقت کا خوف اور اس خدشے کو قرار دیا جارہا ہے کہ یمنی فورسز باب المندب کو بدستور بند رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

المیادین کے مطابق خلیج فارس کے قریب موجود امریکی فوجی دستے اس وقت جنگی تیاری کے اعتبار سے مثالی صورتحال میں نہیں ہیں۔ جنگی بحری جہازوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں پر تعینات فوجیوں میں بڑھتی بے اطمینانی اور حوصلہ شکنی کے علاوہ گولہ بارود اور مختلف اقسام کے میزائلوں کی شدید کمی نے امریکی فوجی قیادت کو 2 مشکل آپشنز کے سامنے کھڑا کردیا ہے۔

پہلا آپشن انصار اللہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ کے باقی ماندہ ذخائر اور میزائل بھی تیزی سے استعمال ہوجائیں گے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کی صورت میں امریکی فوج تقریباً بے بس ہوجائے گی۔

دوسرا آپشن یہ ہے کہ امریکہ خود کو اس تنازع سے دور رکھے تاکہ کم از کم ایران کے ساتھ جنگ میں کسی بھی نئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی فوجی تیاری برقرار رکھ سکے۔

تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے یمن میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے دوران اب تک دوسرے آپشن کا انتخاب کیا ہے۔ اس فیصلے سے امریکہ کو فوری طور پر 2 مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔

1۔ پہلا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنا ہے، کیونکہ ٹرمپ کی یمن کی جنگ میں براہ راست شمولیت عملی طور پر انصار اللہ کو باب المندب کو مستقل طور پر بند کرنے کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہوگی۔

2۔ دوسرا مقصد سعودی عرب کو ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست فوجی شرکت سے انکار اور ایسے علاقائی اتحاد قائم کرنے کی کوشش پر سزا دینا ہے جن کا مقصد امریکی حفاظتی چھتری سے بے نیاز ہونا یا اس پر انحصار کم کرنا ہو۔

دوسری جانب صنعاء کی فورسز کی پیش قدمی روکنے کے لیے امریکی مداخلت ایک ایسی فضائی کارروائی کا تقاضا کرے گی جو کئی روز تک جاری رہے۔ بصورت دیگر محدود حملہ بے اثر ثابت ہوگا اور اس کے نتیجے میں انصار اللہ کی جانب سے بعد میں حاصل ہونے والی ہر کامیابی مزید نمایاں ہوجائے گی۔

تجزیہ کے مطابق ایسی صورتحال دراصل امریکہ اور سعودی عرب دونوں کی بیک وقت دوہری شکست کے مترادف ہوگی۔

مشہور خبریں۔

آئی ایم ایف حکومت پاکستان کی پالیسیوں کا معترف، تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی

?️ 14 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے عالمی مانیٹری فنڈ اور

رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی وجہ ؟

?️ 26 ستمبر 2023سچ خبریں:نیوز ذرائع نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ سعودی

یمن میں ایک جامع سیاسی حل پر اردن کا زور

?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:    اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اپنے بحرینی

امریکہ نے اسرائیل میں فوج بھیجنے سے کیا انکار

?️ 10 اکتوبر 2023سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے کوآرڈینیٹر

غزہ میں شہدا کی تازہ ترین تعداد

?️ 1 ستمبر 2026سچ خبریں:غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری

پاک بھارت کشیدگی کے دوران دشمن کے سائبر حملے، ایڈوائزری جاری

?️ 7 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور بھارت کی کشیدگی کے تناظر میں

اقوام متحدہ نے سوڈان میں جنگ کے پھیلنے کے خطرے سے خبردار کیا/کوئی علاقہ محفوظ نہیں ہے

?️ 31 اکتوبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ نے سوڈان میں جنگ کے پھیلنے اور پڑوسی

امریکی انتخاباتی دوڑ کی تازہ ترین صورتحال

?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکہ میں ہونے والے حالیہ سروے کے نتائج سے معلوم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے