مصری عوام کی جنگ میں ایران کی حمایت؛ مشترکہ تاریخ ، ایک ہی دشمن

مصری عوام

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف مبینہ جنگ کے دوران مصری عوام کی حمایت نے خطے میں نئی سیاسی و سماجی بحث چھیڑ دی ہے۔

درج ذیل تحریر میں مصر اور ایران کی مشترکہ تاریخی یادداشت، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف عوامی جذبات اور علاقائی طاقت کے توازن پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے قلب میں، جہاں تاریخی یادداشتیں موجودہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے ٹکراتی ہیں، وہاں صیہونی و امریکی اتحاد کے مقابلے میں ایران کے ساتھ مصری عوام کی وسیع حمایت ایک اہم اور قابلِ توجہ رجحان کے طور پر سامنے آئی ہے۔

 یہ حمایت کسی وقتی ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ قبضے اور استعمار کے خلاف مشترکہ تاریخی جدوجہد کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے،یہ ہم آہنگی خاص طور پر اکتوبر ۱۹۷۳ کی جنگ اور ایران سے متعلق موجودہ واقعات کے درمیان تاریخی ہم زمانی کے تناظر میں مزید واضح ہوتی ہے۔

تاریخی یادداشت؛ سینا کی آزادی سے آج تک ۶ اکتوبر ۱۹۷۳ کو، جو کہ ۱۰ رمضان ۱۳۹۳ ہجری قمری کے برابر تھا، مصری فوج نے نہر سوئز عبور کرتے ہوئے تاریخی فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس نے بارلیو لائن کو توڑ دیا اور ۱۹۶۷ کی شکست کے بعد عرب وقار کو دوبارہ بحال کیا۔

 یہ جنگ ۱۹۶۷ سے ۱۹۷۳ تک جاری رہی، اور اس دوران مصری عوام، خصوصاً کسان، مزدور اور نوجوان، اس جدوجہد کا بھاری بوجھ اٹھاتے رہے۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد نے جانیں قربان کیں اور کئی جنگی قیدی بنے۔ اس وقت واضح دشمن اسرائیل تھا جسے امریکہ کی غیر مشروط حمایت حاصل تھی۔

آج عام مصری شہری ایران کو اسی تاریخی راستے کے تسلسل میں دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایران بھی اسی دشمن کے مقابل کھڑا ہے اور اپنی خودمختاری اور خطے کے دفاع کی جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ تاثر محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ ایک تاریخی احساس کے طور پر موجود ہے۔

اس تناظر میں مصری عوام کے مختلف طبقات، خصوصاً مزدور اور عام شہری، سوشل میڈیا پر ایک غیر معمولی عوامی مہم چلا رہے ہیں جس میں اسرائیل اور امریکہ کی کارروائیوں کی مذمت اور ایران کی حمایت کی جا رہی ہے۔ یہ کوئی سرکاری منظم مہم نہیں بلکہ عوامی جذبات کا اظہار ہے۔

طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت کے طور پر ایران کی مزاحمت

تجزیہ کے مطابق، ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران نے دو بار امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ دباؤ کا مقابلہ کیا اور اپنے اسٹریٹجک اہداف کے تحفظ میں کامیاب رہا۔ دونوں مواقع پر بنیادی نتیجہ یہ رہا کہ مخالفین اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

اگرچہ ابتدائی حملوں میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں، لیکن نہ ایران کا جوہری پروگرام ختم کیا جا سکا اور نہ ہی سیاسی نظام کو کمزور کیا جا سکا۔ اسی دوران خطے میں کشیدگی مختصر عرصے تک محدود رہی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ مزاحمت مصری عوام کو ۱۹۷۳ کی جنگ کی یاد دلاتی ہے، جب ابتدائی حیرت کے باوجود حتمی فتح حاصل کی گئی۔

ڈیجیٹل میڈیا اور عوامی مزاحمت

قاہرہ، اسکندریہ اور دیگر شہروں میں عام شہری اپنے موبائل فونز کے ذریعے ایسی ویڈیوز اور مواد تیار کر رہے ہیں جو مغربی بیانیے کو چیلنج کرتا ہے۔ ان مواد میں ۱۹۷۳ کے شہداء کی یاد اور ایران کی موجودہ صورتحال کو جوڑ کر یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ دشمن ایک ہے۔

یہ عوامی رجحان اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران کی شکست پورے خطے کو مزید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ اسی لیے بعض حلقے ایران کو پورے خطے کی مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں۔

اگرچہ مصر کی سرکاری پالیسی کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام پر زور دیتی ہے، لیکن عوامی سطح پر ایران کے ساتھ ہمدردی کا ایک مضبوط رجحان موجود ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

مصری عوام کی اس حمایت کو خطے میں طاقت کے یکطرفہ تسلط کے خلاف ایک علامتی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ پالیسیوں نے مختلف اقوام کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔

یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حقیقی استحکام طاقت کے دباؤ سے نہیں بلکہ انصاف اور باہمی تعاون سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کی جانب سے غزہ کیلئے 17ویں امدادی کھیپ روانہ

?️ 3 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر پاکستان کی جانب

چین اور روس عالمی نظام کے لیے خطرہ ہیں: یورپی یونین

?️ 12 مئی 2022سچ خبریں: جاپان کے وزیر اعظم فومیا کشیدا اور کونسل آف یورپ

شام پر حملہ کرنے کی صہیونی ہالی ووڈ کی داستان 

?️ 14 ستمبر 2024سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے شام کے تنازعات کی افواج کے حوالے

بجٹ کی منظوری پر فردوس عاشق کی عوام کو مبارکباد

?️ 26 جون 2021لاہور (سچ خبریں) پنجاب کا مالی سال 22-2021ء کا بجٹ منظور ہونے

تابش گوہر کو ایک اور نیا منصب دے دیا گیا

?️ 30 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کابینہ میں تازہ ترین ردوبدل کے نتیجے میں وزیر

وزیراعظم نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر روک لگا دی

?️ 31 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی تقریر لکھنے کا ٹاسک دیا اور خود وفد کا حصہ بنایا، شمع جونیجو

?️ 28 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی وفد کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل

لندن میں جنسی زیادتی کے واقعات کی تشویشناک شرح

?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: انگلینڈ کے دارالحکومت لندن میں جنسی زیادتی کے واقعات کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے