?️
سچ خبریں:یورپی کمیشن نے ٹیکنالوجی خودمختاری پیکیج متعارف کرایا ہے جس کا مقصد امریکہ پر ڈیجیٹل انحصار کم کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت یورپ کلاؤڈ، اے آئی اور سیمی کنڈکٹرز میں اپنی خود کفالت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یورپی کمیشن کی جانب سے ٹیکنالوجی خودمختاری کے نام سے پیکیج کا اجراء سال ۲۰۲۶ میں یورپی یونین کے اہم ترین اسٹریٹجک اقدامات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام صرف ایک ٹیکنالوجی منصوبہ نہیں بلکہ یورپی پالیسی میں خودمختاری کے تصور کی گہری تبدیلی کی علامت ہے۔
یورپی یونین گزشتہ تین دہائیوں میں مختلف اقتصادی اور صنعتی شعبوں میں عالمی سطح پر اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے، لیکن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں وہ اب بھی شدید طور پر غیر ملکی، بالخصوص امریکی کمپنیوں پر انحصار کرتی ہے۔
آج کلاؤڈ انفراسٹرکچر، سرچ انجنز، سوشل میڈیا، موبائل آپریٹنگ سسٹمز اور یورپی حکومتوں کی کئی ڈیجیٹل خدمات گوگل، مائیکروسافٹ، ایمازون، ایپل اور میٹا جیسی کمپنیوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
قانونی اور اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے یورپ کی اصل تشویش صرف اقتصادی نہیں ہے۔ برسلز کے لیے بنیادی مسئلہ جغرافیائی سیاسی بحرانوں کے دوران حاکمیتی کمزوری کا خطرہ ہے۔ یوکرین جنگ کے تجربے، امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی مسابقت، اور امریکی کمپنیوں کے سرورز میں محفوظ ڈیٹا تک امریکی حکومت کی رسائی سے متعلق خدشات نے یورپی پالیسی سازوں کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ ڈیجیٹل انحصار سیاسی دباؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اسی تناظر میں یورپی کمیشن یورپی کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی توسیع، ڈیٹا سینٹرز کی صلاحیت میں اضافہ، مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی حمایت اور سیمی کنڈکٹرز کی مقامی پیداوار کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ پالیسیاں اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جو گزشتہ برسوں میں یورپی چپ ایکٹ، مصنوعی ذہانت فیکٹریوں کے قیام اور خودمختار کلاؤڈ منصوبوں کے ذریعے شروع کی گئی تھی۔
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یورپ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی برتری کو چیلنج کر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری، جدت اور مارکیٹ کے حجم میں یورپ اور امریکی کمپنیوں کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔ ایمیزون، مائیکروسافٹ اور گوگل کا عالمی کلاؤڈ مارکیٹ میں حصہ اس قدر زیادہ ہے کہ قلیل مدت میں ان کا متبادل تلاش کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی جدت کا نظام بھی بکھرا ہوا ہے اور عالمی سطح کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کمی کا شکار ہے۔
ان چیلنجز کے باوجود اس نئے پیکیج کی اہمیت اس کے فوری نتائج سے زیادہ اس پالیسی تبدیلی میں ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے۔ برسلز نے پہلی بار واضح طور پر ٹیکنالوجی کو توانائی اور دفاع کے ساتھ ایک اسٹریٹجک اور قومی سلامتی سے جڑے شعبے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین ڈیجیٹل سنگل مارکیٹ سے ڈیجیٹل خودمختاری کی طرف بڑھ رہی ہے، جو آئندہ دہائی میں عالمی ٹیکنالوجی توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔
آخر میں، یورپ کے لیے ٹیکنالوجی خودمختاری صرف معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے دور میں سیاسی خودمختاری کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ اس حکمت عملی کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف یورپی ڈیجیٹل معیشت بلکہ عالمی نظام میں یورپ کے جغرافیائی سیاسی کردار کا بھی تعین کرے گی۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو کا اقتدار آخری مراحل میں، اسرائیلی سیاستدان ان کی حکومت کے خاتمے کے لیئے متحد ہوگئے
?️ 2 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا اقتدار
جون
عراقی ایوان صدر کے دفتر نے حزب اللہ اور انصار اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کی تردید کی ہے
?️ 5 دسمبر 2025سچ خبریں: جمہوریہ عراق کی صدارت نے انصار اللہ اور حزب اللہ
دسمبر
سابق وزیر خزانہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئی
?️ 30 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی ملک میں
مارچ
بحرین میں اسرائیلی، امریکی اور تین عرب وفود کی ملاقات
?️ 28 جون 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ منامہ
جون
وقت ضائع کیے بغیر پنجاب، خیبر پختونخوا میں انتخابات کیلئے جائیں گے، فواد چوہدری
?️ 4 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے
دسمبر
سپریم کورٹ آف پاکستان میں فل کورٹ بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
?️ 25 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب
جولائی
یمنی جنگ بہت بڑی اسٹریٹیجک غلطی تھی/ سعودی عرب پھنس گیا
?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں: عبدالباری عطوان نے کہا کہ سعودی عرب یمنی جنگ کے
مارچ
مریم نواز ایک شفیق ماں، وعدے نہیں عملی اقدامات کرتی ہیں۔ عظمی بخاری
?️ 17 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ
مارچ