خطے میں امریکی فوجی موجودگی پر روس کا ردعمل

روس

?️

سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کے نائب وزیر الیگزنڈر الیموف نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ موجودگی، جسے محافظ سمجھا جا رہا ہے، درحقیقت خطے کے ممالک کو براہِ راست تنازعات اور جنگ کی راہ پر ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کی کوئی بھی فوجی تنصیب، چاہے وہ کسی بھی ملک میں واقع ہو، جنگی صورتِ حال میں جائز حملے کا نشانہ بن سکتی ہے۔
الیگزنڈر الیموف نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی فوجی اڈے، جنہیں بعض علاقائی ممالک نے اپنی سرزمین پر قائم کر رکھا ہے، اگرچہ بظاہر تحفظ کا ذریعہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ممکنہ طور پر ان ہی ممالک کو تباہ کن جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس عالمی سطح پر قائم اصولوں کے تحت اس صورتحال کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہے، کیونکہ اس طرح کی فوجی موجودگی خطے میں استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
روسی نائب وزیر خارجہ نے اس موقع پر ایک اہم سفارتی پیشکش بھی کی اور کہا کہ ماسکو ایران، امریکہ اور عرب ممالک کے درمیان موجود بحران کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ثالثی کے کردار کو مسلط کرنے کا خواہاں نہیں، بلکہ وہ تمام متعلقہ فریقین — بشمول اسلام آباد، ریاض اور انقرہ — کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہر فریق کی تجاویز کو سننے اور ان کے درمیان قابلِ قبول حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
الیموف نے مزید زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، اور صرف سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی طویل مدتی امن و استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ احتیاط اور تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس پر ایران کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ روس کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم امریکی فوجی موجودگی ان مذاکرات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق روس کا یہ بیانیہ اس کی علاقائی سفارت کاری کے ایک نئے باب کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ماسکو خود کو ایک متوازن اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ امریکی فوجی موجودگی کو عدم استحکام کا باعث قرار دے رہا ہے۔ یہ موقف روس کو عرب ممالک اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

چندے کھانے والے دوسروں کو بھی یہی درس دیں گے: عظمیٰ بخاری

?️ 3 اکتوبر 2025لاہور: (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جن

امریکا میں پاکستانی سفارت خانے میں قومی سلامتی کے مشیر کی اہم پریس کانفرنس، طالبان کے بارے میں بڑا بیان جاری کردیا

?️ 6 اگست 2021واشنگٹن (سچ خبریں)  امریکا میں پاکستانی سفارت خانے میں قومی سلامتی کے

یمن کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل

?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے رکن نے اس

مستقبل کی صنعتوں پر توجہ دینے کی ضرورت  ہے: وزیر خارجہ

?️ 27 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقتصادی سفارت کاری

کچے میں جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن پوری قوت سے جاری رہنا چاہیے۔ وزیراعلی سندھ

?️ 1 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا

کیا بائیڈن غزہ کی جنگ ختم کر پائیں گے؟

?️ 5 نومبر 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں سے شائع ہونے والے اسرائیلی اخبار Ha’aretz نے

چینی ساختہ انسان نما روبوٹ نے بغیر بند ہوئے 106 کلومیٹر چل کر گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا دیا

?️ 25 نومبر 2025سچ خبریں: ایک چینی ساختہ ہیومینائیڈ (انسان نما) روبوٹ نے ملک کے

پاک-روس روابط اور خطے میں بدلتا طاقت کا توازن

?️ 14 اپریل 2021(سچ خبریں)  روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے جنوبی ایشیا کے دورروایتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے