ٹک ٹاک پر پابندی ختم

ٹک ٹاک

?️

پشاور (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت میں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر لیگل اور وکیل جہانزیب محسود اور درخواست گزار کی وکیل سارہ علی خان عدالت میں پیش ہوئے جس دوران عدالت نے ٹک ٹاک پر عائد پابندی ختم کردی ہے

عدالئدت عدلیہ نے ملک میں ویڈیو شیئرنگ ایپلکیشن ٹک ٹاک کھولنے کی اجازت دے دی ساتھ ہی غیراخلاقی مواد کی روک تھام کیلئے  مزید اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کردی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ڈی جی صاحب اب تک کیا ایکشن لیا ہے جس پر ڈی جی، پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ دوبارہ اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور ٹک ٹاک نے فوکل پرسن بھی تعینات کردیا ہے۔

ڈی جی پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ جتنی بھی غیر اخلاقی اور غیر قانونی چیزیں اپلوڈ ہوں گی ان کو دیکھا جائے گا۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس ایسا سسٹم ہونا چاہیے جو اچھے اور برے میں تفریق کرے، پی ٹی اے ایکشن لے گی تو لوگ پھر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ جب لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ پی ٹی اے ہمارے خلاف ایکشن لے رہی ہے تو پھر وہ ایسی چیزیں اپ لوڈ نہیں کریں گے۔

ڈی جی پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ بات کی ہے کہ جو بار بار ایسی غلطی کرتے ہیں ان کو بلاک کریں۔جسٹس قیصر رشید نے ہدایت کی کہ یہ ون ٹائم نہیں ہونا چاہیے آپ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد روکنے کے مزید اقدامات کریں۔

جس پر پی ٹی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ سائٹس ایسی ہیں جس میں مخصوص چیزیں بلاک نہیں ہوسکتیں پوری ویب سائٹ کو بند کرنا پڑتا ہے۔

بعدازاں عدالت نے ٹک ٹاک دوبارہ کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے پی ٹی اے کو غیر اخلاقی مواد روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔

ساتھ ہی عدالت نے ڈی جی پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 25 مئی تک ملتوی کردی۔

ٹک ٹاک کا ردِ عمل
ویڈیو شیئرنگ ایپلکیشن کھولنے کے عالتی حکم پر ٹک ٹاک انتظامیہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹِک ٹِک کی جانب سے محفوظ اور مثبت آن لائن کمیونٹی کے فروغ کی خاطر کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد کرنے کے لیے ہماری مسلسل وابستگی کا ثبوت ہے۔

ایک بیان میں ترجمان ٹک ٹاک کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک برادری کی تخلیقی صلاحیتوں اور جذبے نے پورے پاکستان میں گھرانوں میں خوشی پیدا کی اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کے حامل کری ایٹرز کو جگہ فراہم کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم پی ٹی اے کے تعاون اور جاری پیداواری بات چیت کو تسلیم کرتے اور پاکستانی صارفین کے ڈیجیٹل تجربے کے لیے ان کے خیال کو سمجھتے ہیں۔

خیال رہے کہ 11 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کے باعث پابندی عائد کردی تھی، عدالت نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے لہذا اسے فوری طور پر بند کیا جائے۔

عدالت نے مزید کہا تھا کہ ٹک ٹاک پر اپلوڈ ہونے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں، اس سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہورہے ہیں۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ملک میں ٹک ٹاک کو بند کرنے کے بعد کھولا گیا ہو، اس سے قبل گزشتہ برس 9 اکتوبر کو پی ٹی اے نے اس ایپلکیشن پر پابندی لگائی گئی تھی جسے 10 روز بعد 19 اکتوبر کو اٹھا لیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

جاپان نئے وزیراعظم کا انتخاب کیسے کرے گا؟

?️ 8 ستمبر 2025سچ خبریں: جاپانی وزیراعظم شیگیرو ایشیبا کے اچانک استعفیٰ کے اعلان کے

عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ آج ہی معطل کرنےکی استدعا مسترد

?️ 24 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من

پاکستان میں گیس کا ایک اور بڑا ذخیرہ دریافت

?️ 28 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی وژن کے

شہداء قوم کا اثاثہ ہیں

?️ 15 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں

قلقیلیہ میں فلسطینیوں اور صیہونیوں کے درمیان شدید جھڑپیں

?️ 27 دسمبر 2021سچ خبریں:  مقبوضہ علاقوں کے مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں کے خلاف

لاہور ہائیکورٹ نے 2015 قصور ویڈیو اسکینڈل کے 2 مجرمان کو بری کردیا

?️ 25 اپریل 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے 2015 کے قصور ویڈیو اسکینڈل کے

شمالی غزہ کے محلّوں کی منظم تباہی اور دھماکوں کا سلسلہ بدستور جاری

?️ 26 دسمبر 2025شمالی غزہ کے محلّوں کی منظم تباہی اور دھماکوں کا سلسلہ بدستور

محمد 2022 میں ہالینڈ میں بچوں کا رکھا جانے والا دوسرا نام

?️ 10 جنوری 2023سچ خبریں:ڈچ حکام کے مطابق اس ملک میں 2022 میں پیدا ہونے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے