?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف مجوزہ اتحاد ناکام ہو گیا جب امریکہ کے اتحادیوں نے ٹرمپ کی درخواست مسترد کر دی۔
امریکہ کے اتحادی ممالک نے ایران کے خلاف فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا، جس کے پیچھے اسٹریٹجک مفادات، معاشی خدشات اور خطے میں طاقت کے بدلتے توازن جیسے عوامل کارفرما ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے 9 اسفند 1404 کو ایران کے خلاف جارحانہ حملوں کے آغاز اور اپنے اعلانیہ اہداف کے حصول میں ناکامی کے بعد واشنگٹن نے ایک کثیر الجہتی فوجی اتحاد قائم کرنے کے لیے وسیع سفارتی اور سیکیورٹی کوششیں شروع کیں تاکہ زمینی، بحری اور فضائی سطح پر ایران کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
تاہم مستند رپورٹس کے مطابق امریکہ کے تمام متوقع اتحادیوں، جن میں برطانیہ، جرمنی، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، عراق اور ترکی شامل ہیں، نے واضح طور پر اس فوجی تعاون سے انکار کر دیا۔ یہ اجتماعی ردعمل امریکہ کی خطے میں بالادستی کی حکمت عملی کی ناکامی اور ایک بڑی سفارتی شکست کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے اتحادیوں کی جانب سے اس انکار کی وجوہات محض سفارتی نہیں بلکہ گہرے اسٹریٹجک حساب کتاب، لاگت و فائدہ کے تجزیے اور اس اقدام کے غیر مستحکم اثرات کے ادراک پر مبنی ہیں۔
یورپی اور ایشیائی اتحادیوں، جیسے برطانیہ، جرمنی، اٹلی، جاپان اور جنوبی کوریا نے اس فیصلے کے ذریعے واضح کیا کہ وہ اب امریکہ کی جارحانہ اور مداخلت پر مبنی پالیسیوں میں فوجی کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس رویے کی ایک بڑی وجہ 2018 میں امریکہ کا جوہری معاہدے سے نکلنا اور اپنے سفارتی وعدوں پر عدم عملدرآمد ہے، جس نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
خطے کی سطح پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، ترکی اور عمان نے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے آزادانہ فیصلہ کیا۔ ان ممالک کے لیے توانائی، تجارت اور علاقائی استحکام کلیدی عوامل ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی ان کی معیشتوں کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ایران کی دفاعی صلاحیت اور ممکنہ جنگی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط اور غیر جانبدارانہ مؤقف اختیار کیا۔
سلامتی اور جغرافیائی سیاست کے نقطہ نظر سے یہ رویہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے اسٹریٹجک تغیر کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ ممالک جو ماضی میں امریکہ کے زیر اثر فیصلے کرتے تھے، اب بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کو سمجھتے ہوئے خودمختار پالیسیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ترکی نے اپنے علاقائی مفادات کے باعث جنگ سے دوری اختیار کی جبکہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی کشیدگی سے بچنے کو ترجیح دی۔
اس طرح امریکہ کی جانب سے اتحاد سازی کی ناکامی دراصل غلط اسٹریٹجک اندازوں کا نتیجہ ہے۔ واشنگٹن یہ سمجھتا تھا کہ سفارتی دباؤ اور سیکیورٹی یقین دہانیوں کے ذریعے وہ ایک وسیع اتحاد قائم کر لے گا، لیکن حقیقت میں کوئی بھی ملک ایسے منصوبے کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہوا جس کے معاشی، سیکیورٹی اور انسانی اخراجات بہت زیادہ ہوں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف امریکہ کے لیے ایک سیاسی شکست ہے بلکہ خطے اور دنیا کے ممالک کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور پختہ فیصلہ سازی کی علامت بھی ہے۔
خطے میں نئی صف بندی اور بدلتا ہوا توازن طاقت
امریکہ کے مجوزہ اتحاد کی ناکامی محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی علاقائی ترتیب کے آغاز کی علامت ہے جس میں طاقت کا توازن نمایاں طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔ ایران اس نئی صورتحال میں ایک اہم اور ناقابل نظر انداز ہونے والا کردار بن کر ابھرا ہے۔
ایران کے خلاف حملوں اور اس کے بعد عالمی ردعمل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران نہ صرف ایک دفاعی قوت کے طور پر مضبوط ہے بلکہ علاقائی سیاست میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ایران کی بازدار قوت اور اس حقیقت کا ادراک ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے نتائج وسیع اور غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں خطے میں ایک نیا بلاک ابھر رہا ہے جو باہمی تعاون، سیکیورٹی ہم آہنگی اور بیرونی طاقتوں سے آزادی پر مبنی ہے۔ اس نئے رجحان کے تحت کئی علاقائی ممالک ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی طرف مائل نظر آتے ہیں تاکہ مشترکہ مفادات کے ذریعے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مستقبل کے ممکنہ منظرنامے
امریکہ کے مجوزہ اتحاد کے ناکام ہونے کے بعد خطے میں مستقبل کی صورتحال تین ممکنہ راستوں پر آگے بڑھ سکتی ہے۔
پہلا منظرنامہ محدود پیمانے پر کشیدگی میں اضافہ ہے، جس میں امریکہ یکطرفہ کارروائیوں کا سہارا لے سکتا ہے، تاہم اس کے اخراجات کے پیش نظر یہ کم امکان رکھتا ہے۔
دوسرا اور زیادہ ممکنہ منظرنامہ کشیدگی میں تدریجی کمی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل کے حل کی طرف واپسی ہے، خاص طور پر جب خطے کے ممالک استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تیسرا منظرنامہ موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا ہے جس میں دونوں فریق بازدار قوت کے تحت ایک توازن قائم رکھتے ہیں اور براہ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی فوجی، سفارتی اور علاقائی صلاحیتیں اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کریں گی اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کی قیمت کو بڑھا کر توازن کو برقرار رکھیں گی۔


مشہور خبریں۔
وزیر داخلہ کے بیان پر فواد چوہدری کا ردعمل
?️ 27 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق
جولائی
اگلے مہینے میں خیبر پختوانخواہ اور پنجاب کے وزیر اعلی تبدیل ہو سکتے ہیں
?️ 31 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ضمیر حیدر نے کہا
مارچ
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 13 دہشت گرد ہلاک
?️ 8 مارچ 2026راولپنڈی (سچ خبریں) خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ 5 مختلف جھڑپوں
مارچ
کترینہ کیف کیساتھ فلم کی آفر ہوئی تھی، ابرار الحق کا انکشاف
?️ 26 اپریل 2024لاہور: (سچ خبریں) نامور گلوکار ابرار الحق نے انکشاف کیا ہے کہ
اپریل
پاک ایران پارلیمنٹ فرینڈشپ گروپ: ایران پاکستان تعاون کو مضبوط بنانا خطے کے مفاد میں ہے
?️ 11 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاک ایران پارلیمنٹ فرینڈشپ گروپ کے سربراہ نے کہا
اکتوبر
یمن کے خلاف امریکی اور برطانوی تازہ ترین جارحیت
?️ 27 جنوری 2024سچ خبریں: المسیرہ ٹی وی چینل نے یمن کے مغرب میں واقع
جنوری
کچھ لیک ہونے والی امریکی خفیہ دستاویزات کے بارے میں
?️ 16 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لیک ہونے
اپریل
شمالی غزہ میں صہیونیوں کے مجرمانہ منصوبے کا انکشاف
?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں: شمالی غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ
نومبر