نواز شریف کا ’عمران خان کی مقبولیت‘ کا مقابلہ کرنے کیلئے متحرک ہونے کا فیصلہ

?️

لاہور: (سچ خبریں) سیاسی منظر نامے اور ملک میں جاری بحران کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سیاسی طور پر متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ’جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مقبولیت کا مقابلہ کرنا ہے‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک وزیر نےمیڈیا کو بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کریں گے تاکہ جماعت کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف جو زیادہ تر وقت مری میں گزار رہے ہیں، پہلے بلوچستان جائیں گے، پھر سندھ اور اس کے بعد خیبر پختونخوا کا دورہ کریں گے، اس حوالے سے وہ پنجاب میں بھی ملاقاتیں کریں گے۔

وزیر کے مطابق گزشتہ ماہ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کے اجلاس میں جماعت کو نچلی سطح پر دوبارہ منظم اور فعال کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا، اس کے پیش نظر نواز شریف خود اس عمل کی نگرانی کریں گے اور خالی پارٹی عہدوں پر وفادار کارکنان اور رہنماؤں کو اہمیت دیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں صدر مسلم لیگ (ن) ملک بھر میں ریلیاں نکالیں گے۔

مسلم لیگ (ن) اور میڈیا میں یہ تاثر پایا جاتا رہا ہے کہ نواز شریف کا کردار اب جماعت میں صرف رسمی سطح تک محدود ہوگیا ہے، خاص کر جب سے مرکز میں شہباز شریف کی حکومت بنی ہے، بعض سینئر پارٹی رہنماؤں، بشمول وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مبینہ طور پر پارٹی صدر سے جماعت کے امور میں دوبارہ متحرک ہونے کی درخواست کی ہے۔

پارٹی رہنما نے ڈان کو بتایا کہ اس کے علاوہ موجودہ سیاسی صورتحال بھی نواز شریف کو سیاسی طور پر متحرک ہونے کا تقاضہ کرتی ہے تاکہ جیل میں قید عمران خان کی مقبولیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیاستدانوں کے لیے ’محدود گنجائش‘ پر نواز شریف فکرمند ہیں، وہ غیر جمہوری قوتوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں صدر مسلم لیگ (ن) نے بھائی شہباز شریف کی مرکزی حکومت اور بیٹی مریم نواز کی حکومت پنجاب کو ہدیت دی ہے کہ اہم معاملات پر فیصلہ سازی میں جماعت کو شامل کیا جائے۔

یکم ستمبر کو قبل مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے ڈان کو بتایا جماعت کے اجلاس میں نواز شریف نے حکومتی امور میں پارٹی کے کردار کو بڑھانے کے لیے تجاویز طلب کیں، سابق وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ حکومت اہم انتظامی فیصلے جماعت سے مشاورت کے بعد کرے۔

سابق وزیر داخلہ نے بیوروکریسی کے حوالے سے بتایا تھا کہ’یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت کی فیصلہ سازی میں بیوروکریسی کا عمل دخل زیادہ ہے، جسے سیاسی عمل دخل سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے’۔

مشہور خبریں۔

ایرانی حملوں اور غزہ جنگ سے صہیونی ریاست کی 7 بڑی کمپنیوں کو تاریخی مالی نقصان

?️ 26 جون 2025 سچ خبریں:ایرانی میزائل حملوں اور غزہ کی جنگ نے اسرائیل کی

کشمیری خواتین بھارتی تسلط کی بھاری قیمت ادا کر رہی ہیں، مشعال ملک

?️ 8 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیری رہنما

غزہ میں کس کی حکومت ہے؟صیہونی تجزیہ کار کی زبانی

?️ 18 دسمبر 2023سچ خبریں: صہیونی تجزیہ نگار حماس کی سرنگ سلطنت سے ششدر ہیں

منصور ہادی کی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے یمنی جنگ کو بے فائدہ قرار دیا

?️ 1 دسمبر 2021سچ خبریں:  مشاورتی کونسل کے چیئرمین احمد عبید بن دغر اور مستعفی

انصار اللہ کی جانب سے بائیڈن کے ریاض اور تل ابیب کے دورے کی مذمت 

?️ 16 جولائی 2022سچ خبریں:   یمن کی انصار اللہ استقامتی تحریک کے سیاسی دفتر نے

فرانس لیبیا میں اپنا کھویا ہوا اثر و رسوخ بحال کرنے کی کوشش میں

?️ 22 دسمبر 2025فرانس لیبیا میں اپنا کھویا ہوا اثر و رسوخ بحال کرنے کی

روس کا مزید کئی صیہونی تنظیموں کو سرگرمیاں بند کرنے کا انتباہ

?️ 26 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ روسی حکومت کی طرف

اب ہم مہنگی بجلی کے متحمل نہیں ہو سکتے، وزیراعظم

?️ 5 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے