?️
سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے جنوبی لبنان میں ’’یلو لائن‘‘ ماڈل پر مبنی قبضہ منصوبے کی تفصیلات جاری کی ہیں، جس میں دیہات کی تباہی، حزب اللہ کے علاقوں پر کنٹرول اور 10 کلومیٹر تک سیکیورٹی زون قائم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
لبنان کی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مبینہ معاہدے کے دعووں کے باوجود صہیونی میڈیا نے ایک ایسے منصوبے کی تفصیلات جاری کی ہیں جو عملی طور پر جنوبی لبنان کے بڑے حصے پر قبضے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
جنگ بندی کے آغاز کے بعد، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا، صیہونی فوج جنوبی لبنان میں اس علاقے میں موجود رہی جسے اینٹی ٹینک میزائلوں کے مقابلے کی لائن کہا جاتا ہے۔
صیہونی فوجی ریڈیو کے مطابق، اسرائیل غزہ میں نافذ ’’یلو لائن‘‘ ماڈل کو جنوبی لبنان میں بھی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے تحت جنوبی لبنان کے دیہات کی تباہی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
’’یلو لائن‘‘ سے مراد وہ فرضی حد ہے جس کے تحت غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور جس کے مطابق صیہونی افواج کو مخصوص معاہدے کے تحت پیچھے ہٹنا تھا، تاہم اس لائن کو عملی طور پر قبضے کے استحکام کے لیے استعمال کیا گیا اور بارہا اس کی خلاف ورزی بھی کی گئی۔
صیہونی میڈیا کے مطابق یہ منصوبہ لبنان میں صیہونی حکام اور لبنانی نمائندوں کے درمیان امریکہ میں ہونے والی ملاقات میں پیش کیا گیا، جسے لبنان کی حکومت نے تسلیم کیا، اور اسے مزاحمتی قوتوں کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے اہم نکات درج ذیل بتائے گئے ہیں:
1۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ ایک نئی لائن مقرر کی گئی ہے جس پر صیہونی فوج کنٹرول رکھے گی، جو موجودہ اینٹی ٹینک آپریشن لائن کے مطابق ہے۔ اس علاقے کو بھی غزہ کی طرز پر ’’یلو لائن‘‘ کہا جا رہا ہے۔ اس زون میں 5 سے 10 کلومیٹر تک کا علاقہ شامل ہے اور اس میں 55 لبنانی دیہات آتے ہیں، جہاں کے مکینوں کو واپس جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
2۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی صیہونی فوج حزب اللہ سے منسلک انفراسٹرکچر اور ان دیہات کو تباہ کرتی رہے گی، تاکہ جنوبی لبنان میں ایک سیکیورٹی بفر زون قائم کیا جا سکے۔
3۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اس زون میں موجود حزب اللہ کے جنگجو، خاص طور پر بنت جبیل جیسے علاقوں میں، یا تو خود کو حوالے کریں گے یا نشانہ بنائے جائیں گے۔
4۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ صیہونی فوج کو ہر اس جگہ پر کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے جہاں خطرہ محسوس کیا جائے۔
5۔ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ جنوبی لبنان کی فضائی نگرانی کے لیے ڈرونز کی پروازیں مسلسل جاری رہیں گی۔
دوسری جانب تحریک امل کے مرکزی رکن خلیل حمدان نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے جلد بازی اور غیر قانونی اقدامات کیے ہیں اور لبنانی عوام اور پارلیمانی دھڑوں کی بڑی اکثریت کو نظرانداز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مزاحمتی قوتوں کی حمایت اور صیہونی جارحیت کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں سے خود کو الگ کر لیا ہے، جبکہ اس کا مقصد قیدیوں کی رہائی، جنگ بندی اور اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلاء جیسے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے تھا۔
خلیل حمدان نے مزید کہا کہ براہ راست مذاکرات بے فائدہ ہیں اور یہ لبنان کو ایسے عمل میں دھکیل دیتے ہیں جہاں وہ صرف رعایتیں دیتا ہے جبکہ فائدہ صرف اسرائیل کو پہنچتا ہے۔


مشہور خبریں۔
نادرا کو بااختیار بنانے کے لیے قانون متعارف
?️ 12 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)حکومت نے نادرا کو بااختیار بنانے کے لیے قانون متعارف
جون
مزاحمتی محور کے خلاف عربی عبرانی بلاک کا افسانہ کہاں گیا؟
?️ 21 اکتوبر 2023سچ خبریں: حماس کے کامیاب آپریشن اور صیہونی حکومت کے دفاعی-سکیورٹی ڈھانچے
اکتوبر
وہ ہمارے حقوق غصب کرنا چاہتے ہیں یمنیوں کا سلامتی کونسل کو جواب
?️ 14 اپریل 2022سچ خبریں: بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صدارت
اپریل
صہیونی فوجی کمپنی "مایا” کے ملازمین کی شناخت اور ویڈیو ایک ہیکنگ گروپ کی طرف سے شائع کی گئی ہے
?️ 31 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج سے منسلک مایا کمپنی کی ہیکنگ کے بعد
اکتوبر
سب کیلئے اچھا یہی ہوگا تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں، سینیٹر مشاہد حسین سید
?️ 11 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) سینئر سیاستدان سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے
مارچ
غزہ میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی مداخلت کی کوئی خبر نہیں
?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطینی قوم کی امنگوں کی حمایت میں شامی عوام کے مظاہرے
اکتوبر
وزیراعظم نے 38 ارب روپے کے تاریخی رمضان ریلیف پیکج کا اجراء کردیا
?️ 14 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے 38 ارب روپے کے
فروری
صہیونی لابی مسلمانوں میں گھسنے کی کوشش میں
?️ 27 ستمبر 2023سچ خبریں: انصار اللہ تحریک کے روحانی پیشوا سید عبدالملک بدر الدین
ستمبر