?️
سچ خبریں: فلسطینیوں کا دکھ صرف بمباری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صہیونی شہید ہونے کے بعد ان کی لاشوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین ان طریقوں کو ’مرنے والوں کے خلاف تشدد‘ کی ایک شکل سمجھتے ہیں۔
النز رحمت نژاد: لاشوں کو توڑ پھوڑ اور انہیں شہید کرنے کے بعد چھپانا صہیونی غاصبوں کی مجرمانہ پالیسیوں میں سے ایک ہے جس کی وہ غزہ کے خلاف جنگ کے دوران کرتے رہے ہیں۔ سی این این، نیویارک ٹائمز اور یورو میڈیٹرینین ہیومن رائٹس واچ جیسے بین الاقوامی نیٹ ورکس کی رپورٹس اور تحقیقات کے مطابق فوجی آپریشن کے دوران غزہ کی پٹی میں کم از کم 16 قبروں کو مکمل طور پر بلڈوز کر دیا گیا ہے۔
نیز الشفاء اور ناصر اسپتالوں سمیت متعدد مقامات پر اجتماعی قبروں کی دریافت صہیونیوں کی غیر انسانی پالیسی کے مطابق ہے۔ گزشتہ مئی میں اجتماعی تدفین میں تقریباً 520 لاشیں دریافت ہوئی تھیں۔ ان میں سے کچھ لاشیں ناقابل شناخت تھیں، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیموں میں تشویش پھیل گئی اور بین الاقوامی تحقیقات کا آغاز ہوا۔ انسانی حقوق کے ماہرین ان طریقوں کو "مرنے والوں کے خلاف تشدد” کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ تشدد خاندانوں کو اپنے پیاروں کو الوداع کہنے اور رسم و رواج کے مطابق دفنانے کے حق سے محروم کر دیتا ہے۔
بیسان فیاض کی کہانی
جنوری 2024 میں، بیسان فیاض کے اہل خانہ کو اس کے کپڑوں اور شناختی دستاویزات کے ساتھ ایک لاش ملی، جس کے بارے میں ان کے خیال میں بیسان کی تھی۔ اس فلسطینی لڑکی کے اہل خانہ نے یہ مانتے ہوئے لاش کو دفنا دیا کہ ان کی بیٹی غزہ پر ہونے والی ہزاروں بمباری میں سے ایک میں شہید ہوئی ہے۔ بیسان شراف کی تدفین کے بعد پتہ چلا کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور یروشلم میں قابض حکومت کی جیلوں میں قید ہیں، ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ کی وجہ سے جزوی طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت نے بیسان کے خلاف دو طرح کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ایک لڑکی کا لاپتہ ہونا اور دوسرا لاشوں کی ہیرا پھیری اور درست شناخت کے بغیر اہل خانہ تک پہنچانا۔
لوگوں کی گمشدگی
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ بیسان فیاض کے ساتھ جو کچھ ہوا اور غزہ جنگ کے دوران جو کچھ سامنے آیا اسے "جبری گمشدگی” کہا جا سکتا ہے۔ قابضین کا یہ جرم بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت آتا ہے۔ جبری گمشدگی سے تمام افراد کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق، کسی بھی شخص کی قسمت یا اس کے ٹھکانے کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد کوئی بھی گرفتاری یا حراست ایک سنگین خلاف ورزی ہے جو اگر بڑے پیمانے پر سرزد ہو تو انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس آئی سی آر سی نے غزہ میں لاپتہ افراد کی قسمت کا فوری طور پر انکشاف کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: "خاندانوں کا اپنے پیاروں کی قسمت جاننے کا حق ناقابل تردید ہے۔” اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھی غزہ کے ہسپتالوں میں اجتماعی قبروں کی دریافت کو ان خلاف ورزیوں کا سنگین ثبوت قرار دیا جو جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
بسن فیاض؛ ایک علامت
بسن کی کہانی، جو یروشلم میں قابض حکومت کی جیلوں میں ایک "شہید” سے ایک معذور قیدی تک چلا گیا جب اس کے اہل خانہ کو اس کی شناختی دستاویزات اور کپڑوں کے ساتھ اس کی لاش ملی، نہ صرف ایک انسانی ابہام تھا، بلکہ ایک جرم تھا۔ جبری گمشدگی اور جسم میں ہیرا پھیری۔
بسان ان سینکڑوں فلسطینی خاندانوں کے مصائب کی واضح علامت بن گیا ہے جو جنگ کی دھول میں اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ قابضین کی جانب سے درست شناخت کے بغیر لاشوں کے حوالے کرنا، اور غزہ کے اندر متعدد مقامات پر اجتماعی قبروں کی دریافت، عالمی برادری کو ایک فوری اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کے تحت ڈالتی ہے۔ جہاں بین الاقوامی تنظیمیں محض تشویش کا اظہار کرتی ہیں، وہیں فلسطینیوں کے گھروں میں دکھ اور تکلیف جاری ہے۔
اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے، بسن کی کہانی انصاف کے فقدان کا زندہ ثبوت بنی ہوئی ہے اور فلسطینیوں کا دکھ صرف بم دھماکوں یا گرفتاریوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ خود موت کے ہیرا پھیری تک ہے۔ سچائی کو آشکار کرنا اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا کوئی اختیاری اضافی نہیں ہے بلکہ ایک انسانی اور قانونی ضرورت ہے۔ غزہ میں شہریوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے پیمانے کے پیش نظر یہ ضروری ہے، اور دنیا کو ایک حقیقی امتحان کے ساتھ پیش کرتا ہے: خاموشی اور تعاون، یا انصاف اور انسانی حقوق جیسی اقدار کی پاسداری۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بھارت کیخلاف ہماری فتح کی سرٹیفکیشن امریکا دے رہا ہے۔ خواجہ آصف
?️ 21 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ
نومبر
ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے سامنے 3 بڑی رکاوٹیں
?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو شدید رکاوٹوں کا سامنا
اکتوبر
آڈیو لیکس کیس: اٹارنی جنرل کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے اِن کیمرا سماعت کی استدعا
?️ 30 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیو لیکس کیس کی
اکتوبر
امریکی صحافی حراست میں رہے گا: میانمار
?️ 1 اکتوبر 2021سچ خبریں: یمیانمار کی فوج کے ترجمان ژاؤ من تون نے ایسوسی
اکتوبر
ہم عملی طور پر سخت جواب دینے کے لیے تیار ہیں: انصار اللہ
?️ 3 نومبر 2025سچ خبریں: انصاراللہ یمن کی سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے
نومبر
وزیر اعظم کا سڑکوں کی تعمیر میں کرپشن سے متعلق تحقیقات کا اعلان
?️ 29 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان ماضی میں سڑکوں کی تعمیر
ستمبر
کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی:عمران خان
?️ 27 مئی 2022پشاور(سچ خبریں)عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کے تحت آزادی مارچ
مئی
یورپ دنیا میں امن چاہتا ہے تو امریکہ کا ساتھ چھوڑ دے:یورپی پارلیمنٹ ممبر
?️ 3 مارچ 2021سچ خبریں:یورپی پارلیمنٹ کے ایک ممبر نے دنیا میں عدم استحکام کے
مارچ