امریکہ نے عمان کو دھمکی کیوں دی؟

عمان

?️

سچ خبریں:امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے عمان پر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمان کی غیر جانبدار پالیسی پر امریکی ناراضی بڑھ گئی ہے اور اسے پابندیوں حتیٰ کہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

واشنگٹن نے دنیا کے مختلف ممالک پر اپنی پالیسیوں کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالنے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اس بار عمان پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع نہ کرنے کی صورت میں عمان کو پابندیوں اور حتیٰ کہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی اور عرب حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ عمان پر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے اور اس ملک کی غیر جانبدارانہ پالیسی کو اپنے لیے مخالفانہ رویہ تصور کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے عمان کو پابندیوں اور حتیٰ کہ بمباری کی دھمکیاں دی ہیں، اگرچہ ایک امریکی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ اس ملک پر حملے کا کوئی حقیقی منصوبہ موجود نہیں ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے چند ہفتوں بعد عمانی حکام نے اپنی روایتی غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت تہران کے ساتھ ایک رابطہ چینل قائم کیا، جس نے عرب خلیجی ممالک کی فضائی راہداریوں کو دوبارہ فعال بنانے میں کردار ادا کیا۔ عرب حکام کے مطابق یہ مسقط کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تھی، جو اس کی سخت گیر غیر جانبداری کی پالیسی کا نتیجہ تھی۔

تاہم چند ماہ بعد یہی غیر جانبداری عمان کے لیے ایک نئے بحران کا سبب بن گئی۔ واشنگٹن، جو ماضی میں عمان کو ایران کے ساتھ رابطے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا تھا، اب اس پر گہرا عدم اعتماد ظاہر کر رہا ہے۔ امریکی اور عرب حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس نے عمان سے واضح طور پر کہا ہے: یا ہمارے ساتھ یا ایران کے ساتھ۔

بمباری کی دھمکی؛ ایک نیا موڑ

رپورٹ کے مطابق کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایک انٹیلی جنس جائزے میں دعویٰ کیا گیا کہ عمان ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ عمانی حکام نے اس الزام کی بارہا تردید کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ اگر عمان ایران کے اس منصوبے کا ساتھ دیتا ہے تو وہ اس کے خلاف فضائی حملوں کا حکم دینے پر غور کر سکتے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی سماجی ذرائع ابلاغ پر عمان کو پابندیوں کی دھمکی دی، تاہم اگلے روز انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ واشنگٹن میں عمان کے سفیر طلال الرحبی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ مسقط کے پاس اس نوعیت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

عرب حکام کے مطابق امریکی رویے میں اچانک آنے والی شدت اور سختی نے عمانی قیادت کو حیران اور پریشان کر دیا ہے، جس کے بعد مسقط نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف سفارتی اور ابلاغی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

امریکی ناراضگی کی وجوہات

رپورٹ کے مطابق عمان اپنے بعض خلیجی ہمسایوں کے برعکس واشنگٹن میں مؤثر سیاسی یا معاشی اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، سعودی عرب اور کویت کے برعکس عمان میں کوئی مستقل امریکی فوجی اڈہ موجود نہیں، اگرچہ جنگ کے آغاز میں امریکہ نے بعض عمانی بندرگاہوں کو رسد کے لیے استعمال کیا تھا۔

دوسری جانب عمان اپنے نقطۂ نظر سے خود کو امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے والا ملک سمجھتا ہے۔ اس کے امریکہ کے ساتھ تقریباً دو صدیوں پر محیط سفارتی تعلقات ہیں جبکہ ایران کے ساتھ بھی تاریخی اور ہمسایگی پر مبنی تعلقات موجود ہیں۔

رپورٹ میں عمان اور ایران کے اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ سلطان ہیثم بن طارق آل سعید خلیج فارس کے واحد عرب رہنما تھے جنہوں نے سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ایران کی نئی قیادت سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی۔

عمان کے وزیر اطلاعات عبداللہ الحراصی نے اس حوالے سے کہا کہ غیر مستحکم خطے میں ذمہ دار قیادت کا تقاضا ہے کہ رابطے کے دروازے کھلے رکھے جائیں اور کشیدگی کو تنازع میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ عمان کے قریبی تعلقات نہ صرف واشنگٹن بلکہ بعض عرب ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی ناراضی کا باعث بھی بنے ہیں۔

مئی میں عمان خلیج تعاون کونسل کا واحد رکن ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پیش کیے گئے اس بیان کی حمایت نہیں کی جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایران کی جانب سے محصول عائد کرنے کے مبینہ اقدام کی مذمت کی گئی تھی۔

رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے عمان کو ایک نازک صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ بھی یاد دلایا گیا کہ عمان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے دو ادوار میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، تاہم دونوں مراحل اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کے لیے بین گوئر کی گھمنڈ اور دھمکیاں

?️ 30 مئی 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر نے جمعہ کے

ایران اور افریقہ کے بڑھتے تعلقات سے صیہونی پریشان

?️ 7 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکام نے ایران اور افریقی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے

ملک میں کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی، 44 افراد کا انتقال

?️ 28 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کوروناوائرس کی خطرناک قسم ڈیلٹا کے پھیلاؤ میں تیزی

کاز لسٹ کی منسوخی، یہ کرنے کے بجائے میری عدالت کی بنیاد میں بارود رکھ کر اڑا دیتے، جسٹس اعجاز اسحٰق

?️ 19 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق

ملک سے ڈالر کا اخراج دوگنا ہوگیا

?️ 22 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے

وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

?️ 12 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف سرکاری دورے پر سعودی

جنگ کے باعث ماہرین کی ہجرت اور فوجی بحران میں اضافہ؛ صیہونی جنرل کی وارننگ

?️ 25 اپریل 2026سچ خبریں:صیہونی جنرل یسرائیل زیو نے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ

ہم عدم اعتماد کا مقابلہ آئینی طریقےسے کریں گے:شاہ محمود قریشی

?️ 21 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ او

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے