قرض پروگرام کا پہلا جائزہ، حکومت، آئی ایم ایف کے درمیان بیک اپ اقدامات پر اتفاق

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) مالیاتی اور زری اہداف سے انحراف کی صورت میں 3 ارب ڈالر کے جاری قرض پروگرام کے وسیع مقاصد کو خطرہ ہونے کی صورت میں نگران حکومت اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے درمیان سال کے آخر تک ’بیک اپ اقدامات‘ پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت کا اختتام جمعہ کو ہوگا، جس میں حالیہ اعداد و شمار کا تبادلہ شامل ہے، جو صرف ستمبر کے آخر تک سہ ماہی کارکردگی اور تمام کلی معاشی ایریاز تک محدود نہیں ہے بلکہ مستقبل کے حوالے سے بھی ہے۔

پالیسی کی سطح پر باضابطہ بات چیت کا آغاز پیر سے شروع ہونے کا امکان ہے، دونوں اطراف سے مستقبل کے لائحہ عمل پر اتفاق ہوگا، جس میں ریٹیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ہدف سے کم ریونیو اکٹھا کرنے کی صورت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بہتر طریقے سے ہدف بنانا شامل ہے۔

اگر آمدنی کے درمیان فرق کم ہوتا ہے تو پہلے مرحلے میں ریٹیلز پر فکسڈ ٹیکس اسکیم لائی جاسکتی ہے، جس کے بعد ریئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بذریعہ آرڈیننس شامل کیا جائے گا، جس کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا، اس حوالے سے مزید وضاحت پالیسی بات چیت کے دوران اگلے ہفتے سامنے آئی گی۔

ذرائع نے بتایا کہ درآمدات میں اضافے کے ذریعے حاصل کردہ محصولات کے اہداف آئی ایم ایف کے مشن کے لیے باعث تشویش ہیں، کیونکہ درآمدات اب تک بجٹ 24-2023 اور جولائی میں قرض کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے وقت توقعات سے کم ہیں۔

ان میں سے کوئی بھی صورتحال ہوتی ہے تو ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ دونوں شعبوں کو یکم جولائی 2024 سے محصولات میں اپنا نمایاں حصہ بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے حوالے سے دونوں جانب سے کوئی بڑے مسائل سامنے نہیں آئے، لیکن زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مؤثر نفاذ کا معاملہ آئینی حدود کے باعث نگران حکومت کے ایجنڈے پر نہیں ہے، تاہم آئی ایم ایف مشن نے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اگست میں حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں پر قابو پانے کے حوالے سے نظرثانی شدہ منصوبہ شیئر کیا تھا، جس میں سالانہ اوسط ٹیرف میں اضافہ اور ماہانہ، سہ ماہی فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں، جو نجی کمپنی کے الیکٹرک پر بھی لاگو ہوں گی، اس کا مطلب ہے کہ گردشی قرضوں میں تازہ اضافہ نہیں ہوگا، جو ستمبر کے آخر تک 25 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

ایک حکام نے بتایا کہ اس بار شعبہ توانائی کے حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ اجاگر نہیں ہوا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پالیسی کی سطح پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں بھی صورتحال بہتر رہے گی۔

حکومت اگلے مالی سال کے بجٹ میں ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرنے کے لیے مناسب رقم مختص کرے گی تاکہ سبسڈیز میں مزید کمی کی جاسکے۔

مشہور خبریں۔

حماس: فاکس نیوز کے دعوے جھوٹ ہیں

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: حماس تحریک کے ایک رکن نے فاکس نیوز کے اس

15 یورپی ممالک صیہونی حکومت کے تعمیری منصوبے کے مخالف

?️ 14 مئی 2022سچ خبریں: پندرہ یورپی ممالک نے جمعہ کے روز عبوری صیہونی حکومت

دی اکانومسٹ میگزین کا ترکی میں اردگان کے سیاسی کھیل کا تجزیہ

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: ترکی میں ملکی تجزیہ نگاروں کے علاوہ بیرون ملک بہت

طالبان کو بین الاقوامی قوانین اور روایات کا احترام یقینی بنانا ہوگا

?️ 2 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سکائی نیوز کو خصوصی

زلنسکی نے انتخابات کرانے کی خبروں کو مسترد کر دیا

?️ 12 فروری 2026زلنسکی نے انتخابات کرانے کی خبروں کو مسترد کر دیا یوکرین کے

عمران خان آنے والی نسلوں کے لئے  کام کر رہے ہیں: شہباز گل

?️ 18 جون 2021اسلام آباد( سچ خبریں) وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گِل کا کہنا

ٹرمپ فاؤنڈیشن کا سعودی عرب کے ساتھ 1.6 بلین ڈالر کا معاہدہ

?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:ٹرمپ فاؤنڈیشن (سابق امریکی صدر کی فیملی کمپنی) نے سعودی کمپنی

سندھ ہائیکورٹ نے عدالتی رپورٹنگ کی اجازت دے دی

?️ 27 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کی جانب سے جاری 21

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے