سینیٹ اجلاس بالآخر رواں ہفتے بلانے کا فیصلہ، غزہ کی صورتحال پربحث کی جائے گی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران سیٹ اپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بالآخر پہلی بار پارلیمان کے ایوان بالا کا اجلاس رواں ہفتے بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں غزہ کی صورتحال پر بحث کی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق یہ اعلان پیپلزپارٹی کی جانب سے پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، جے یو آئی (ف) اور کچھ دیگر جماعتوں کی حمایت سے سینیٹ اجلاس بلانے کے لیے 44 دستخطوں پر مشتمل ایک ریکوزیشن جمع کرانے کے 3 روز بعد سامنے آیا ہے۔

تاہم مسئلہ فلسطین کی اہمیت کے باوجود سینیٹ سیکریٹریٹ نے گزشتہ روز سیشن کے حوالے سے ایک متنازع اعلان کیا۔

سیکریٹریٹ نے اس ریکوزیشن کا ذکر نہیں کیا جو چیئرمین سینیٹ کی جانب سے اجلاس بلانے کے فیصلے کی بنیاد ہوتی ہے بلکہ اُن 2 خطوط کا حوالہ دیا جو کہ مسلم لیگ (ن) اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹرز کی طرف سے لکھے گئے تھے حالانکہ اُن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے بعد فلسطین کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بات کرنے کے لیے رواں ہفتے سینیٹ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جن جماعتوں نے ریکوزیشن پر دستخط نہیں کیے تھے اُن میں مسلم لیگ (ن)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور ایم کیو ایم شامل ہیں۔

سینیٹ سیکریٹریٹ نے اِس اعلان میں قائد ایوان اسحٰق ڈار اور بی اے پی کے پارلیمانی لیڈر منظور کاکڑ کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کو لکھے گئے خطوط کا ذکر کیا، جس میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ سینیٹ کا اجلاس بلائیں تاکہ فلسطین کی صورتحال پر بحث اور غور کیا جا سکے۔

پیپلزپارٹی کے ایک قانون ساز نے اس حوالے سے رابطہ کیے جانے پر سینیٹر اسحٰق ڈار کی طرف سے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھنے پر تنقید کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ وہ ریکوزیشن کے بغیر اجلاس نہیں بلوا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ سینیٹ کے اجلاس کے بارے میں اتنے سنجیدہ تھے تو انہیں وزیراعظم کو خط لکھنا چاہیے تھا تاکہ صدر کو سینیٹ اجلاس بلانے کی ایڈوائس دی جائے، یہ خط ’فیس سیونگ‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

سینیٹ کا آخری اجلاس 9 اگست کو ہوا تھا، پیپلز پارٹی کی جانب سے ستمبر میں سینیٹ کا اجلاس بلوانے کی 2 کوششیں کی گئیں لیکن دونوں بار متنازع طور پر اس کی ریکوزیشنز کو مسترد کر دیا گیا۔

سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے باضابطہ ریکوزیشن کے بجائے اسحٰق ڈار اور منظور کاکڑ کی طرف سے لکھے گئے خطوط کا حوالہ دیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی نے بھی ریکوزیشن پر دستخط نہیں کیے تھے، چیئرمین سینیٹ ایسے خطوط کی بنیاد پر اجلاس نہیں بلوا سکتے۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری’گمراہ کن’ اعلامیے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ چیئرمین صرف ریکوزیشن کی بنیاد پر ہی اجلاس طلب کر سکتے ہیں، جس پر 44 سینیٹرز نے دستخط کیے ہیں، سینیٹ اجلاس بلانے کے لیے حکومت کے پاس یہی واحد راستہ ہوتا ہے۔

مشہور خبریں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چوہدری پرویز الہی کو طبی سہولیات کی فراہمی اور جیل سے منتقلی کی درخواست ملتوی

?️ 22 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کو طبی سہولیات

وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اپنے ملک سے کیسے بھاگی؟

?️ 14 دسمبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ

توہین الیکشن کمیشن کیس: عمران خان 23مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب

?️ 17 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی چیئرمین

فی یونٹ بجلی پر 7.41 روپے ریلیف کی واپسی پر صنعتکار برہم، صنعتوں کی بندش کا انتباہ

?️ 31 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صنعتکاروں اور تاجر برادری نے فی یونٹ بجلی

ثالثوں کی جنگ بندی کی تجویز اور صیہونیوں کے فریب کی تفصیلات

?️ 4 اپریل 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو دوبارہ شروع کرنے

مظاہرین نے برطانوی وزیراعظم کی تقریر میں خلل ڈالا

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:   ایسی صورت حال میں جب زندگی گزارنے کے اخراجات اور

امریکہ کی دھوکہ بازیوں سے صیہونی بھی پریشان

?️ 20 اگست 2021سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے افغانستان میں امریکی شکست کا ذکر کرتے ہوئے

سلامتی کونسل اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی خاموشی توڑے: دمشق

?️ 19 جنوری 2023اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بسام صباغ نے بدھ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے