ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر سماعت براہِ راست نشر کی جائے، بلاول بھٹو کی سپریم کورٹ میں درخواست

?️

 اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر خارجہ و چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت لائیو ٹیلی کاسٹ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

بلاول بھٹو کی جانب سے درخواست وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صدارتی ریفرنس میرے والد آصف علی زرداری کی جانب سے دائر کیا گیا۔

بلاول بھٹو کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کی سازش کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی، ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دے دی گئی جوکہ ملکی تاریخ میں نظام، انصاف کا بدترین زوال تھا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی لیکن ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، انہوں نے تمام عمر قانون کی حکمرانی کی جدوجہد کی، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا پورے عدالتی نظام پر دھبہ ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ اس دھبے کو مٹانے کے لیے عدالتی کارروائی براہ راست نشر کی جانی چاہیے تاکہ پورا پاکستان اسے سن سکے اور شفافیت آئے۔

واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس پر صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں 11 سال بعد رواں ماہ سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ 12 دسمبر کو (کل) ذوالفقار علی بھٹو کیس کی سماعت کرے گا۔

یاد رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔

ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہو چکی ہیں۔

صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت 2 جنوری 2012 کو جبکہ آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی۔

صدارتی ریفرنس پر پہلی 5 سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کیں جبکہ آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی۔

‏سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس 5 سوالات پر مبنی ہے، صدارتی ریفرنس کا پہلا سوال یہ ہے کہ ذوالفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہوگا؟ اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟

چوتھے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا ذوالفقار بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟ جبکہ پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟

مشہور خبریں۔

جنگ بندی کے منصوبے پر حماس کا نیا ردعمل

?️ 25 جولائی 2025سچ خبریں:  حماس تحریک نے آج جمعرات کی صبح اعلان کیا کہ

غزہ میں صہیونی ریاست کی سفاکیت ایک بار پھر شروع

?️ 20 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی ریاست نے غزہ میں نسل کشی اور جارحیت کو

اسرائیل نے 85 فیصد غزہ کو فوجی علاقہ قرار دے دیا؛ آنروا کی شدید مذمت

?️ 8 جولائی 2025 سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے آنروا کا کہنا ہے کہ

الاقصیٰ طوفان صہیونیوں کے خلاف ایک اہم جنگی موڑ

?️ 7 اکتوبر 2024سچ خبریں: الاقصیٰ طوفان آپریشن کی برسی پر ردعمل کے بعد فلسطینی مزاحمتی

میں صدر بن جاؤں گا تو یوکرین کی جنگ ایک دن میں بند کر دوں گا:ٹرمپ

?️ 5 مارچ 2023سچ خبریں:امریکہ کے متنازعہ سابق صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر

بن گوئیر کے لامحدود تنازعات؛ نیتن یاہو کی کابینہ کا سب سے بڑا چیلنج

?️ 5 جنوری 2025سچ خبریں: نیتن یاہو کی سربراہی میں قائم صیہونی حکومت کی کابینہ

طالبان پاکستان مذاکرات کی تفصیلات

?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں:طالبان اور پاکستان نے سعودی عرب میں ہونے والے حالیہ مذاکرات

کیا دنیا کے رہنما غزہ میں نسل کشی روک سکتے ہیں؟ اقوام متحدہ کے عہدیدار کی زبانی

?️ 14 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے غزہ میں فلسطینیوں کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے