تل ابیب-واشنگٹن سیکورٹی تعاون خطرے میں

سیکورٹی

?️

سچ خبریں:اطلاعات کے مطابق صیہونی حکومت اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کے جاری رہنے سے دونوں فریقوں کا سکیورٹی تعاون بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

المانیٹر ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں تل ابیب میں شدت پسندوں کے زیر اثر سکیورٹی تعاون میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان اختلافات کے سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صیہونی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل مارک میلی کے امریکہ کے دورے نے تل ابیب اور امریکہ کے درمیان اختلافات کا انکشاف کیا۔

واضح رہے کہ تل ابیب کے ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر المانیٹر کو بتایا کہ ہم نے جنرل میلی سے جو کچھ سنا وہ غیر معمولی تھا، مجھے یاد نہیں کہ ہمارے امریکی اتحادیوں نے کبھی ہم سے اتنی سختی سے بات کی ہو۔

انہوں نے کہا کہ میلی سمیت امریکی ہمیں بہت سے چینلز کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ اگر آپ ہم سے ایران کے بارے میں، ایران کو روسی S-400 [ایئر ڈیفنس سسٹم] کی فراہمی کے بارے میں،اس ملک کی یورینیم کی افزودگی اور پابندیوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو مقبوضہ علاقوں کو پرسکون کرو۔

اس سینیئر صہیونی اہلکار کے مطابق امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ نے نیتن یاہو کی کابینہ کے سخت گیر وزراء پر تنقید کی اور نیتن یاہو سے کہا کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کس طرف کھڑے ہیں،اس امریکی جنرل نے تل ابیب کے سیاسی اور عسکری حکام کو انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں فلسطینی دیہاتوں میں کاروں اور مکانات کو تباہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

ایک اور سینئر اسرائیلی فوجی اہلکار نے اس ہفتے المانیٹر کو بتایا کہ وہ خاص طور پر فکر مند ہیں کیونکہ واشنگٹن کے ساتھ پیشہ ورانہ سکیورٹی چینلز ہمیشہ سے مستحکم رہے ہیں، یہاں تک کہ جب سفارتی اور سیاسی تعلقات کشیدہ رہے ہیں، لیکن اب یہ تعلقات بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں، انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ آج کی صورتحال ایک مختلف تجربہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ہم سے تھک چکے ہیں،وہ نیتن یاہو کو واشنگٹن مدعو نہیں کریں گے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نیتن یاہو نیویارک میں اقوام متحدہ کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر صرف ایک راہداری میں جوبائیڈن سے ملاقات کریں گے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہ کرے : طالبان کا شرمین سے خطاب

?️ 10 اکتوبر 2021سچ خبریں: طالبان کی وزارت خارجہ کے سربراہ نے امریکی نائب وزیر

ہماری کوشش ہے کہ پورے ملک میں الیکشن ایک ہی بار ہوں، وزیر داخلہ

?️ 20 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ

مشرق وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے کے لیے پیوٹن کے خیالات 

?️ 8 نومبر 2024سچ خبریں: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کی شام  والڈائی بین

سی این این: برطانیہ امریکہ تجارتی معاہدہ لندن کے لیے ایک بڑی سفارتی فتح ہے

?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: امریکی-برطانیہ تجارتی معاہدے کے بعد برطانوی حکومت کی ایک بڑی

طالبان کا عالمی برادری کی جانب افغانستان کی مالی معاونت نہ کرنے کے نتائج کا انتباہ

?️ 20 ستمبر 2021سچ خبریں:طالبان کے ایک ترجمان نے ایک جرمن ذرائع ابلاغ کو انٹرویو

حکام میرواعظ کو اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے کی اجازت دیں : فاروق عبداللہ

?️ 5 نومبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

مقبوضہ کشمیر میں برہمن سامراج کشمیری عوام کا قتل عام کررہاہے ، عبدالرشید ترابی

?️ 18 مارچ 2025ریاض: (سچ خبریں) سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی نے

ٹرمپ کے ممکنہ دورہ چین پر بیجنگ کا ردعمل

?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں: ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ اپنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے