?️
آٹھ سال مزاحمت کے بعد نتن یاہو نے معافی کی درخواست کیوں کی؟
آٹھ سال کی مزاحمت کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے صدارتی معافی کی درخواست نے اسرائیلی سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نیتن یاہو نے یہ درخواست اس وقت پیش کی ہے جب ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات آٹھ سال کی طویل عدالتی کارروائی کے بعد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور ان کے تمام سیاسی حربے ناکام ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی عدالتی ڈھانچے میں معافی کی درخواست کوئی نئی بات نہیں۔ یہ عمل اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب مقدمہ غیر معمولی طور پر طول پکڑ جائے یا جرم ثابت ہونے کے امکانات واضح ہو جائیں۔ ایسے حالات میں ملزم اگر جرم کا اعتراف کرے تو عدالت اس کے ساتھ سزا کے بارے میں سمجھوتہ کر سکتی ہے۔ لیکن نیتن یاہو نے اپنی درخواست میں نہ جرم کا اعتراف کیا ہے، نہ پشیمانی ظاہر کی ہے اور نہ ہی سیاسی عہدہ چھوڑنے کی آمادگی دکھائی ہے، جو معافی کے عمومی ضابطوں کے خلاف ہے۔
نیتن یاہو پر بدعنوانی کے چار بڑے مقدمات جاری ہیں جن میں رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال، میڈیا کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور جرمن آبدوزوں کے معاہدے میں غیر قانونی مالی فوائد کے الزامات شامل ہیں۔ ان مقدمات کے علاوہ بھی ان پر کئی ایسے الزامات موجود ہیں جنہیں قانونی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر عدالت میں آنے سے پہلے ہی دبایا گیا۔ ان میں ان کی اہلیہ سارا نیتن یاہو کے سرکاری فنڈز کے ناجائز استعمال کا معاملہ بھی شامل ہے۔
نیتن یاہو نے تحریک انصاف اور کابینہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عدالتی نظام میں وسیع تبدیلیوں کی کوشش کی، تاکہ اس کے ذریعے مقدمات سے جان چھڑائی جا سکے۔ ان اصلاحات کو مخالفین نے عدالتی بغاوت قرار دیا جس کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ ضروری بنیادی قوانین میں تبدیلی کے لیے دو تہائی پارلیمانی حمایت درکار تھی جو نیتن یاہو کے پاس نہیں تھی، جس کی وجہ سے ان کا منصوبہ کئی بار ناکام ہوا۔
سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے حملے اور غزہ پر جنگ نے انہیں وقتی طور پر مقدمات سے دور رہنے کا موقع دیا۔ اسی دوران انہوں نے عدالتی نظام میں اپنے حامیوں کی تقرریاں تیز کر دیں۔ تاہم جنگ بندی کے بعد مقدمات دوبارہ فعال ہو گئے اور اب ایسی صورت پیدا ہو گئی ہے کہ امکان ہے عدالتی فیصلہ انتخابات سے پہلے سامنے آ جائے گا، جس سے ان کی سیاسی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں نیتن یاہو نے صدر اسحاق ہرزوگ کو معافی کی درخواست بھجوا دی ہے۔ درخواست میں ان کا واحد مؤقف یہ ہے کہ ملک اندرونی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس درخواست کو متعدد حلقے ایک سیاسی حربہ اور وقت خریدنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت اور معافی کی سفارش نے بھی داخلی سیاست میں دباؤ پیدا کیا ہے، حالانکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان غزہ کی صورتحال پر اختلافات بھی موجود ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نیتن یاہو کے اس اقدام کے تین اہم مقاصد ہیں۔ پہلا یہ کہ بیرونی بحران اور جنگ کی فضا قائم کر کے عدالتی کارروائی کو مزید مؤخر کیا جائے اور عوامی توجہ ہٹائی جائے۔ دوسرا مقصد ٹرمپ کی حمایت کا فائدہ اٹھانا ہے، اگرچہ اس کے بدلے میں انہیں اہم سیاسی رعایتیں دینی پڑ سکتی ہیں۔ تیسرا مقصد وقت حاصل کرنا ہے تاکہ معافی کی درخواست پر صدارتی غور کے دوران انتخابی ماحول پر عدالتی مقدمات کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
تاہم تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر نیتن یاہو اپنے جرم کا اعتراف نہیں کرتے، سیاست چھوڑنے یا کسی آزاد تحقیقاتی کمیٹی کے قیام پر آمادہ نہیں ہوتے تو معافی کا ملنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ صدر کی جانب سے معافی دینا داخلی سیاست میں شدید ردعمل اور اپوزیشن کے اتحاد کا باعث بھی بن سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا ٹرمپ خود کو پولیس کے حوالے کرنے والے ہیں؟
?️ 22 اگست 2023سچ خبریں: ٹرمپ جمعرات کو فلٹن کاؤنٹی جیل میں خود کو تبدیل
اگست
عمران خان آج قوم سے خطاب کریں گے
?️ 3 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا خطاب پانچ بجے نشر
نومبر
شنگھائی تعاون تنظیم؛ ایک آزاد اور انسداد پابندیوں کے مالیاتی بلاک کی تشکیل
?️ 22 نومبر 2025سچ خبریں: شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن، جو کبھی علاقائی سلامتی کے طریقہ کار
نومبر
امریکی شہری یوکرین میں فوجی مداخلت کے مخالف
?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:امریکہ میں کیے جانے والے ایک سروے کے نتائج سے ظاہر
اگست
انگلستان کے ایک علاقے میں مسلمان وزیر کا استعفیٰ
?️ 29 اپریل 2024سچ خبریں: لندن سے حمزہ یوسف برطانیہ کے خطے کے پہلے سینئر سیاستداں
اپریل
بدعنوانی اور رشوت کے الزام میں سعودی وزارتوں کے 600 سے زائد ملازمین گرفتار
?️ 5 جنوری 2022سچ خبریں:سعودی عرب کے انسداد بدعنوانی کے نگراں ادارے کا کہنا ہے
جنوری
ہمارا ہاتھ ابھی ٹریگیر پر ہے:فلسطینی مجاہدین کا صیہونیوں سے خطاب
?️ 15 اکتوبر 2022سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے مشترکہ آپریشن روم
اکتوبر
ٹرمپ کی 100 روزہ حکمرانی؛ تجارتی جنگ، داخلی آمریت اور بین الاقوامی انتشار
?️ 1 مئی 2025 سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے پہلے 100 دنوں میں اختیارات
مئی