روس کی نظر میں پوتن اور ٹرمپ کی ملاقات کسی بھی فوری حل کا سبب نہیں بن سکی 

آلاسکا

?️

روس اور امریکہ کے صدور ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی آج الاسکا میں ہونے والی تاریخی ملاقات نے عالمی سیاست کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اس ملاقات کو روسی تجزیہ کار ایک ’’ابتدائی قدم‘‘ قرار دے رہے ہیں، نہ کہ فوری طور پر بحرانوں کے حل کی چابی۔
الاسکا اور سائبیریا کے درمیان فضائی راستہ وہی ہے جس سے دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکہ نے سوویت یونین کو آٹھ ہزار سے زائد جنگی طیارے فراہم کیے تھے۔ آج ایک بار پھر پوتن کا طیارہ اسی سمت میں پرواز کر رہا ہے، مگر اس بار مقصد نازی جرمنی کے خلاف اتحاد نہیں بلکہ یوکرین تنازعے پر امن مذاکرات ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق، صدر ٹرمپ ذاتی طور پر پوتن کا الاسکا ایئرپورٹ پر استقبال کریں گے۔ ملاقات کے ایجنڈے میں یوکرین جنگ کے علاوہ اقتصادی تعاون اور دوطرفہ کشیدگی کم کرنے پر بھی بات چیت شامل ہے۔
روسی روزنامہ ایزوستیا نے لکھا ہے کہ یہ ملاقات بنیادی طور پر آئندہ مذاکرات کا مقدمہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان فضائی رابطوں کی بحالی اور تجارتی تعلقات میں نرمی پر بھی غور متوقع ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ ملاقات ’’ابتدائی‘‘ ہوگی اور مستقبل میں روس، امریکہ اور یوکرین کے رہنماؤں کے براہِ راست مذاکرات کا امکان ہے۔
روس کی خارجہ پالیسی کونسل کے رکن آندرے کارتونوف نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں معجزاتی موڑ کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔ ان کے مطابق ایسی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کی تیاری میں طویل وقت درکار ہوتا ہے اور چند دنوں میں کسی بڑی پیش رفت کی امید درست نہیں۔
اسی طرح، والدای کلب کے ماہر تیموفی برداچوف نے بھی زور دیا کہ یہ ملاقات صرف طویل سفر کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق، دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں کسی ایک طاقت کے ذریعے عالمی نظام مسلط کرنا ممکن نہیں رہا۔
الاسکا ملاقات روس اور امریکہ کے صدور کے درمیان یوکرین جنگ (فروری 2022) کے بعد پہلا براہِ راست مکالمہ ہے۔ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان چھ ٹیلیفونک گفتگو اور دو مذاکراتی عمل (ریاض اور استنبول میں) ہو چکے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ماسکو نے حال ہی میں ایک مجوزہ جنگ بندی پیش کی ہے جس میں مشرقی یوکرین کے بعض حصوں کو روس کے ساتھ ملانے اور امریکہ کی مدد سے ان علاقوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کی تجویز شامل ہے۔ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ’’کچھ زمینی تبادلے‘‘ دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، تاہم یہ تجویز یورپی اور یوکرینی رہنماؤں میں تشویش کا باعث بنی ہے۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے البتہ کہا ہے کہ روس کی نیت امن پر نہیں بلکہ نئے فوجی حملوں پر مرکوز ہے۔
روس کے معاون صدر یوری اوشاکوف نے وضاحت کی کہ الاسکا کو مقامِ ملاقات اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ دونوں ممالک ہمسایہ اور قطب شمالی میں مشترکہ اقتصادی مفادات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، اصل توجہ یوکرین بحران کے پرامن حل پر مرکوز ہوگی، جبکہ آئندہ ملاقات روس میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔

مشہور خبریں۔

حماس کی تباہی کے بغیر عرب ممالک کے ساتھ صلح ناممکن: نیتن یاہو

?️ 24 نومبر 2023سچ خبریں:اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو  نے جمعرات کو کہا کہ

ترکی کی کون سے کمزوری عراق کے ہاتھ میں ہے؟

?️ 24 جون 2023سچ خبریں:عراق کے آبی وسائل کے وزیر نے عراق میں پانی کے

ایران کی انڈرگراؤنڈ میزائل اور ڈرونز مراکز کی رونمائی

?️ 8 مارچ 2022سچ خبریں:ایران کی سپاہ پاسداران فوج نے پہلی بار اپنے انڈر گراؤنڈ

ایران کا افزودہ یورینیم کسی بھی صورت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا: بقائی

?️ 18 اپریل 2026 سچ خبریں:اسماعیل بقائی، ترجمان وزارت خارجہ ایران نے کہا ہے کہ

بحران سے دوچار ٹیکساس پر کیا بیت رہی ہے؟

?️ 22 فروری 2021سچ خبریں:امریکی ریاست ٹیکساس کے بہت سارے حصے غیر معمولی شدید برفباری

دنیا تاریخ کے سب سے بڑے تیل بحران کی طرف بڑھ رہی ہے

?️ 4 اپریل 2026سچ خبریں:بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا

حکومت کی مشکلات میں اضافہ

?️ 22 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں) حکومتی اتحاد مین شامل جماعتوں کے وعدے پورے نہ

بلے کا نشان واپس:‏سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی اپیل کل سماعت کیلئے مقرر

?️ 11 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے