?️
نتن یاہو کی معافی کی درخواست کو قبول کر لیا جائے گا
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی معافی کی درخواست کے خلاف بڑھتے ہوئے اعتراضات کے باوجود، نیتن یاہو کے قریبی سیاسی ساتھی اور وزیر توانائی ایلی کوہن نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر اس درخواست کی منظوری دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف جاری عدالتی کارروائی اسرائیل کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے اور اس مرحلے پر اس کا جاری رہنا کسی کے مفاد میں نہیں۔
عبری روزنامہ یدیعوت آحارنوت کے مطابق ایلی کوہن نے یہ موقف ایک کانفرنس میں پیش کیا جہاں توانائی اور ٹرانسپورٹ شعبوں کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے لیے عدالت میں پیشیوں کا سلسلہ آئندہ کئی برس تک چل سکتا ہے، جو اسرائیل کے لیے مناسب نہیں۔ ان کے مطابق صدر اسحاق ہرتزوگ اس معاملے پر غور کریں گے اور معافی کی منظوری کا امکان موجود ہے۔
کوہن نے عدالتی کارروائی کو براہ راست اسرائیل کی علاقائی سلامتی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ شدید علاقائی چیلنجوں کے دوران ملک اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ وزیر اعظم ہفتے میں تین بار عدالت کے چکر لگائیں۔ انہوں نے نیتن یاہو کو اسرائیل کے لیے پوری توانائی صرف کرنے والی شخصیت قرار دیا اور کہا کہ بہت سے اسرائیلی بھی یہ نہیں مانتے کہ وہ بدعنوان ہیں۔
تاہم کوہن کے اس بیان نے اسرائیلی معاشرے میں موجود تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ گزشتہ شب تل ابیب اور مقبوضہ قدس میں ہزاروں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے معافی کو عدالتی بغاوت اور قانون کی حکمرانی کی تباہی قرار دیا۔ اپوزیشن رہنما یائیر لاپید نے کہا کہ معافی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نیتن یاہو جرم کا اعتراف نہ کریں اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں۔ بنی گانٹس نے اسے مذہبی یہودیوں کی لازمی فوجی خدمت سے استثنیٰ کے قانون سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے معافی کو نیتن یاہو کی سیاست سے مکمل علیحدگی سے مشروط کیا۔
عبری چینل 13 کے ایک تازہ سروے کے مطابق اٹھاون فیصد اسرائیلی عوام نیتن یاہو کی معافی کے مخالف ہیں جبکہ صرف بتیس فیصد اس کے حق میں ہیں، جن میں اکثریت دائیں بازو کے حامیوں کی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی موجودہ حکمت عملی میں سیاسی مفادات، خاص طور پر ائتلاف کو برقرار رکھنے اور خطے میں سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھانے کو قانون کی بالادستی پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات دو ہزار بیس سے جاری ہیں اور ان کا سلسلہ چار معروف کیسوں، جنہیں ہزار، دو ہزار، تین ہزار اور چار ہزار کے نام سے جانا جاتا ہے، سے جڑا ہے۔
صدر ہرتزوگ دو ماہ کے اندر قانونی ماہرین کی آراء کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔ ان کے سامنے یہ بڑا سوال موجود ہے کہ معافی کی منظوری داخلی سیاسی بحران کو گہرا کرے گی یا اس کی مستردی موجودہ حکومتی اتحاد کو کمزور کر دے گی۔


مشہور خبریں۔
ترکی کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ کا عراق کے کردستان کا دورہ
?️ 29 جنوری 2024سچ خبریں: عراق کے کردستان ریجن کا دورہ کرنے والے ترک انٹیلی
جنوری
مراکش نے صیہونی حکومت کے معاہدے پر کیے دستخط
?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں: مراکش میں اسرائیلی سفیر ڈیوڈ گوفرین نے اعلان کیا ہے
اپریل
کیا سعودی اور امارات کا اتحاد ٹوٹ گیا ہے؟
?️ 1 اگست 2023سچ خبریں:فرانسیسی اخبار Le Monde کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد
اگست
چیئرمین پی ٹی آئی کو تنہا کرنے کیلئے حکومتی مؤقف میں سختی، مذاکرات کا دروازہ پھر بھی کھلا
?️ 2 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان
جون
نیتن یاہو اور اس کے بیٹے کے درمیان شدید مارپیٹ؛باپ کا گلا گھوٹنے کی کوشش
?️ 23 جنوری 2025سچ خبریں:کویتی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن
جنوری
بن سلمان کا نامعلوم مستقبل
?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:81 افراد کو اجتماعی پھانسی دینے کے سعودی حکومت کے نئے
مارچ
اسرائیلی آبادکاروں کا مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ
?️ 24 فروری 2026اسرائیلی آبادکاروں کا مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ رمضان المبارک کے
فروری
برطانوی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری
?️ 13 ستمبر 2022سچ خبریں:برطانوی میڈیا نے جنوبی ایشیا سے تعلقا ریکھنے والے اس ملک
ستمبر