?️
سچ خبریں:امریکی ریاست لوزیانا میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے نئے انتخاباتی نقشوں کی منظوری پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام سیاہ فام ووٹرز کی سیاسی طاقت کم کرنے کی کوشش ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں نے امریکی ریاست لوزیانا میں انتخابی حلقہ بندیوں کے نئے نقشے منظور کر دیے ہیں، جس پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ اقدام سیاہ فام ووٹروں کی سیاسی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
سی این این کے مطابق لوزیانا کے ریپبلکن قانون سازوں نے، ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے، کانگریس کے لیے نئے انتخابی حلقوں کی منظوری دی ہے۔ اس اقدام کو ناقدین سیاہ فام آبادی کے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ فوراً ہی ریپبلکن گورنر جیف لینڈری نے دستخط کر کے نافذ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک ایسا کانگریشنل حلقہ عملاً ختم ہو جاتا ہے جہاں سیاہ فام اکثریت موجود تھی۔ اس تبدیلی کے بعد کانگریس میں نشستوں کا توازن ریپبلکن پارٹی کے حق میں 4-4 سے بدل کر 5-1 ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے لوزیانا کے سابق انتخابی نقشے کو مسترد کیے جانے کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ اس پیش رفت نے ملک بھر میں انتخابی حلقہ بندیوں کے دوبارہ تعین پر جاری سیاسی کشمکش کو مزید شدت دے دی ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں بھی شامل ہیں تاکہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن اکثریت برقرار رکھی جا سکے۔
ڈیموکریٹک رہنماؤں اور شہری حقوق کی تنظیموں بشمول امریکن سول لبرٹیز یونین نے اس اقدام کو انتخابی ہیرا پھیری قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق سیاہ فام ووٹروں کو سفید فام اکثریتی علاقوں میں تقسیم کر کے ان کی سیاسی طاقت کو جان بوجھ کر کم کیا جا رہا ہے۔ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس کے خلاف قانونی جنگ شروع ہو چکی ہے۔
ریاستی سینیٹر سیم جینکنز نے کہا کہ یہ نقشہ سیاہ فام کمیونٹیز کو خاموش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عدالتی مقدمات سامنے آ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لوزیانا میں موجودہ انتخابی نقشہ ایک سابقہ عدالتی فیصلے کے تحت بنایا گیا تھا، جس میں ایک حلقہ سیاہ فام اکثریت کے لیے مخصوص کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اسے مسترد کر دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ریپبلکن پارٹی اس وقت انتخابی حلقہ بندیوں کی جنگ میں برتری حاصل کر رہی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کی اکثریت یقینی طور پر برقرار رکھ سکے گی۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے امریکہ میں مختلف ریاستوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی حلقہ بندیوں میں یہ تبدیلیاں سیاہ فام امریکیوں کی سیاسی آواز کو دبانے کی کوشش ہیں اور یہ عمل نسلی امتیاز کے خطرے کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا
?️ 4 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن
مئی
پاکستان اور آئی ایم ایف کے اقتصادی جائزہ مذاکرات کا اگلا راؤنڈ واشنگٹن میں ہوگا۔ ذرائع
?️ 9 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان اور آئی ایم ایف کے اقتصادی جائزہ
اکتوبر
فیس بک میسینجر میں میسیج کو ایڈٹ کرنے کا فیچر پیش
?️ 17 دسمبر 2023سچ خبریں: دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ ’فیس بک‘
دسمبر
صہیونیوں کو یمن اور فلسطین میں ممکنہ میزائلی حملوں کا خطرہ
?️ 19 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی ریڈیو اور ٹیلی ویژن تنظیم نے اطلاع دی ہے
مارچ
ایران میں ہونے والی حالیہ بدامنی کے لیے یورپی یونین کی حمایت
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:ویانا مذاکرات کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے کے بعد یورپی
ستمبر
صہیونی ریاست نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی: فلسطینی مزاحمت
?️ 27 جولائی 2025سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے
جولائی
غزہ میں تباہ کن ویرانی؛ 90 فیصد رہائشی علاقے زمین بوس
?️ 19 جنوری 2025سچ خبریں:غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ اور قابض اسرائیلی افواج کے
جنوری
وال سٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا: روس کے ساتھ جنگ کا امریکہ اور یورپ کا خفیہ منصوبہ
?️ 27 نومبر 2025سچ خبریں: ایک امریکی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ یورپی اور
نومبر