ایران اور امریکہ کے درمیان آخری میدان جنگ

ایران اور امریکہ

?️

سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں آبنائے ہرمز مرکزی محاذ بن چکی ہے۔ فوجی، سیاسی اور سفارتی محاذوں پر صورتحال کے بعد اب خلیج فارس میں طاقت کے توازن اور سمندری سلامتی کا مستقبل اسی اہم آبی گزرگاہ سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

ایران کے جنوبی علاقوں، بالخصوص جنوبی صوبوں پر امریکی حملوں کے نئے سلسلے کے آغاز کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ منگل کی صبح ایک بار پھر جنوبی ایران کی فضائیں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کا منظر بن گئیں۔ اس مرتبہ بھی جھڑپوں کا مرکز آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی ساحلی علاقے رہے۔

امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر مسلسل تیسرے روز ایران میں مختلف اہداف پر حملے کیے گئے۔ واشنگٹن کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بندرعباس، کیش، قشم، بوموسی، آبادان، بندر امام خمینی، ماہشہر اور جنوبی ایران کے دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی حکام کے مطابق بعض حملوں میں غیر فوجی بنیادی ڈھانچے اور شہری آبادی کے اطراف کے علاقے بھی متاثر ہوئے۔

اسی دوران ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام نے اعلان کیا کہ بندرعباس، لار اور آبنائے ہرمز کے قریب تین امریکی ڈرون مار گرائے گئے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایران میں جاری جنگ اب صرف میزائل حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ فضائی اور ڈرون محاذ بھی اس تنازع کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔

بعد ازاں ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ امریکی حملوں کے جواب میں کویت میں امریکی افواج کے مواصلاتی مراکز، پیٹریاٹ دفاعی نظام، ایندھن کے ذخائر، کنٹرول ٹاور اور اسلحہ گوداموں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی بحریہ نے ایک امریکی جنگی جہاز پر کروز میزائل سے حملہ کیا۔

ادھر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے مسلسل کئی بیانات میں نصر 2 کارروائیوں کے تسلسل کا اعلان کیا۔ سرکاری بیانات کے مطابق بحرین، کویت اور اردن میں مختلف امریکی فوجی اہداف، سیٹلائٹ مواصلاتی مراکز، امریکی فوجی تنصیبات، پیٹریاٹ ریڈار، ابتدائی انتباہی نظام، ایندھن کے ذخائر اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے بعض حصوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ سپاہ نے اردن میں ایک ایسے فوجی اڈے پر بھی میزائل حملے کی اطلاع دی جہاں اس کے مطابق امریکی افواج تعینات تھیں۔

اس صورتحال کے دوران سب سے نمایاں پہلو یہ رہا کہ دونوں فریقوں کی توجہ مسلسل آبنائے ہرمز پر مرکوز رہی۔ سپاہ پاسداران نے اپنے چھٹے بیان میں کہا کہ دو بڑے تیل بردار جہازوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے نیوی گیشن نظام بند کر کے آبنائے ہرمز کے سیکورٹی کنٹرول مرکز کی وارننگز کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی اور بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔

تقریباً اسی وقت برطانوی سمندری تجارتی ادارے نے اطلاع دی کہ جنوبی عمان میں ایک تیل بردار جہاز میزائل حملے کی زد میں آیا، جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق امریکہ کی حمایت یافتہ جنوبی بحری راہداری استعمال کر رہا تھا۔

دریں اثنا، سمندری آمد و رفت کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی اداروں، جن میں کیپلر، ونڈورڈ، میرین ٹریفک، روئٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس شامل ہیں، کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں ایک بار پھر نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اہم آبی گزرگاہ اب بھی جنگ سے پہلے کی معمول کی صورتحال سے کافی دور ہے۔

واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکی مؤقف کو آبنائے ہرمز کے گرد مرکوز کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ دعویٰ دہرایا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول امریکہ کے پاس ہے اور اعلان کیا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی جا رہی ہے۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے نام پر وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے محصولات وصول کرے گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کا بھی ذکر کیا، جس سے امریکی حکمت عملی میں تضاد نمایاں نظر آتا ہے۔

حالیہ صورتحال کی سب سے اہم خصوصیت صرف فوجی حملوں میں اضافہ نہیں بلکہ اس تنازع کی نوعیت میں بتدریج تبدیلی ہے، جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکہ کی توجہ ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور علاقائی پالیسیوں پر مرکوز تھی، لیکن اب امریکی حکام، سینٹکام اور خود صدر ٹرمپ کے بیانات میں مرکزی موضوع آبنائے ہرمز بن چکا ہے۔

اسی تبدیلی نے ماہرین کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا خلیج فارس میں جاری کشیدگی صرف ایک فوجی تصادم ہے یا پھر خطے کے مستقبل کے سیکورٹی نظام کے تعین کی بڑی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

جنگ کے آغاز سے اب تک کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کے اعلانیہ اہداف میں مسلسل تبدیلی آئی ہے۔ ابتدائی دنوں میں ایران کی فوجی طاقت ختم کرنے، جوہری پروگرام محدود کرنے، علاقائی کردار تبدیل کرنے اور بعض اوقات ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے جیسے اہداف بیان کیے گئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ سب پس منظر میں چلے گئے اور ان کی جگہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔

اب وائٹ ہاؤس، سینٹکام اور صدر ٹرمپ کے بیانات میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول، جہاز رانی کی آزادی، بحری محصولات، متبادل بحری راستے اور ایران کی بحری ناکہ بندی جیسے موضوعات نمایاں ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی ترجیح اب اس آبی گزرگاہ کو جنگ سے پہلے کی صورتحال میں واپس لانا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے تجربات بھی اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ امریکہ نے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے پہلے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی دباؤ، بحری اتحاد، عرب ممالک اور نیٹو کے تعاون اور اسلام آباد مفاہمت جیسے مختلف راستے آزمائے، مگر میدان میں ان اقدامات کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے میں دونوں ممالک کی تشریح ایک دوسرے سے مختلف رہی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی سلامتی، بحری راستوں اور آمد و رفت کے ضابطوں کا تعین تہران کی مقرر کردہ ترتیب کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ امریکہ جنوبی بحری راہداری، تجارتی جہازوں کی حفاظت، امریکی بحری موجودگی اور آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق بیانات کے ذریعے اپنے زیر قیادت سیکورٹی نظام کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اسی اختلاف نے ایک مرتبہ پھر فوجی تصادم کو جنم دیا۔ موجودہ حملے بھی زیادہ تر انہی علاقوں میں ہو رہے ہیں جو براہ راست آبنائے ہرمز، بحری راستوں اور جہاز رانی کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہرمزگان، بندرعباس، جنوبی جزائر اور ساحلی تنصیبات پر امریکی حملوں کے مقابلے میں ایران کی جانب سے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جانا اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

واشنگٹن کی موجودہ حکمت عملی صرف فوجی دباؤ تک محدود نہیں بلکہ اس میں بحری دباؤ، اقتصادی ناکہ بندی، نفسیاتی جنگ، بحری کمپنیوں کو دھمکیاں، آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی موجودگی کو جائز قرار دینا اور جنوبی ایران پر محدود مگر مسلسل حملے شامل ہیں، تاکہ مکمل جنگ سے بچتے ہوئے ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

اس کے مقابلے میں ایران کی حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ تہران صرف جوابی حملوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ آبنائے ہرمز میں اپنے مقرر کردہ قواعد میں کسی بھی تبدیلی کی قیمت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سپاہ پاسداران کے مسلسل بیانات، آبنائے ہرمز کے انتظام پر زور، خطے میں امریکی فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اور مقررہ بحری راستوں سے ہٹ کر گزرنے والے جہازوں کو خبردار کرنا اسی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حالیہ واقعات سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ موجودہ تصادم محض فوجی حملوں کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ اس بات کا امتحان بن چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کھیل کے قواعد کون طے کرے گا۔ اس سوال کا جواب صرف موجودہ بحران ہی نہیں بلکہ خلیج فارس کے مستقبل کے سیکورٹی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

حالیہ ہفتوں کی ایک اہم پیش رفت آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران میں قومی اتفاق رائے کا مضبوط ہونا بھی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ اب صرف توانائی کی ترسیل یا بین الاقوامی تجارت کا راستہ نہیں رہی بلکہ ایرانی حاکمیت، علاقائی سالمیت اور خلیج فارس میں قومی اقتدار کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

ایرانی فوجی قیادت اور سرکاری بیانات میں مسلسل اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کوئی بھی جہاز ایرانی نگرانی اور مقررہ ضوابط کے بغیر نہیں گزر سکتا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اسے صرف ایک عسکری مسئلہ نہیں بلکہ اپنی مدافعاتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔

ادھر جنوبی خلیج فارس کے عرب ممالک بھی اس کشیدگی کے باعث پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہیں، کیونکہ حالیہ ایرانی حملوں میں انہی ممالک میں قائم بعض امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جنہیں تہران امریکی کارروائیوں میں معاون سمجھتا ہے۔

اسلام آباد مفاہمت کے تجربے نے بھی مستقبل کی کسی ممکنہ سفارتی کوشش پر اثر ڈالا ہے۔ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی سطح نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، جس کے باعث مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں زیادہ سخت شرائط اور گہری بداعتمادی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ محدود فوجی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا، جبکہ ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے سفارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔

آج کی صورتحال میں آبنائے ہرمز صرف ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ خطے کے مستقبل کے سیکورٹی نظام کے بارے میں دو مختلف تصورات کے درمیان بنیادی میدان بن چکی ہے۔ ایک طرف امریکہ سمندری سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی میں اپنا کردار برقرار رکھنے پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنی حاکمیت اور اپنے طے کردہ انتظامی نظام کو تسلیم کرانے پر زور دے رہا ہے۔

جب تک ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے درمیان کوئی مشترکہ بنیاد پیدا نہیں ہوتی، اس وقت تک صرف فوجی حملوں میں کمی یا اضافہ اس بحران کے مستقل خاتمے کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

مشہور خبریں۔

ترکی اسرائیل کے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟ترک صدر کی زبانی

?️ 31 مارچ 2024سچ خبریں: ترکی کے صدر نے کہا کہ یہ ملک تل ابیب

اسلووینیا کایوروویژن 2025 میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی کا مطالبہ

?️ 22 دسمبر 2024سچ خبریں:اسلووینیا کی حکومت نے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ

شہید سید حسن نصر اللہ کے فراق میں نبیہ بری کا دل کو چھو لینے والا خط

?️ 29 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے حزب اللہ کے سکریٹری

بشار اسد کا زوال ایک خطرناک اور غیر یقینی لمحہ ہے:جو بائیڈن

?️ 9 دسمبر 2024سچ خبریں:امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے شام میں مرکزی حکومت کے

امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے صدر نے استعفیٰ کیوں دیا ؟

?️ 15 اگست 2024سچ خبریں: کولمبیا یونیورسٹی کی صدر منوشے شفیق نے مختصر اور ہنگامہ

ٹرمپ موساد کے جال میں کیسے پھنس گئے؟

?️ 22 مئی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ اور مذاکرات کے درمیان پھنسے ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی فیس 60 دن کے لیے معاف 

?️ 19 جون 2026سچ خبریں:ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ایران اور امریکہ کے

امریکی سینیٹرز میں پاکستان سے متعلق مسودہ قانون پر خاموش نہیں بیٹھیں گے

?️ 1 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے