لبنان کے خلاف صیہونی جارحیت کا اصل مقصد کیا ہے؟

لبنان کے خلاف صیہونی جارحیت کا اصل مقصد کیا ہے؟

?️

سچ خبریں:حزب‌اللہ کے پارلیمانی رکن حسین جشی نے کہا ہے کہ لبنان کے خلاف صیہونی حملوں کا مقصد اس ملک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا، 2024 کے جنگ بندی معاہدے کو ختم کرنا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا دباؤ بڑھانا ہے، تاکہ امریکی-صہیونی منصوبہ خطے پر مسلط کیا جا سکے۔

المنار  نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق لبنان کی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے حالیہ صیہونی جارحیت اور حزب‌اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے جاری کوششوں کے پس پردہ محرکات پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حزب اللہ کو فوری طور پر غیرمسلح ہونا چاہیے:امریکہ

رپورٹ کے مطابق، حزب‌اللہ کے پارلیمانی بلاک کے رکن حسین جشی نے کہا کہ کفردونین علاقے میں مجاہدین، عام شہریوں، انجینئرنگ ٹیموں اور فوجی چھاؤنی کے قریب کیے جانے والے صہیونی فوج کے حملے اس بات کی واضح علامت ہیں کہ اسرائیل فوجی اور غیر فوجی اہداف میں کوئی فرق نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ان حملوں کے ذریعے لبنان کو نئے مذاکرات کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے، تاکہ 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کو منسوخ کیا جا سکے اور گزشتہ سال کی جارحیتوں کو دوبارہ دہرایا جائے، ان کا مقصد لبنان پر نئے سیاسی اور سیکورٹی شرائط مسلط کرنا اور خطے پر امریکی-صہیونی تسلط کے منصوبے کو آگے بڑھانا ہے، تاکہ خطے کے وسائل پر مکمل قبضہ یقینی بنایا جا سکے۔

جشی نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت، خطے کی اقوام کو امریکہ اور صیہونیوں کے تابع بنا دیا جائے گا اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی ہر امید کو ختم کر دیا جائے گا۔

امریکی ایلچی تام باراک نے خود کہا تھا کہ ایک فریق کو غالب ہونا ہے اور دوسرے فریق کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے واشنگٹن اور تل ابیب، مقاومت کے ہتھیاروں کو ختم کرنے پر بضد ہیں۔

یہی ہتھیار تھے جنہوں نے 1982 میں مقبوضہ علاقوں کی آزادی ممکن بنائی، اور یہی آج اسرائیل کے ‘گریٹر اسرائیل’ کے وہم کے راستے میں سب سے مضبوط رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ دہشت گرد کون ہے؟ حزب‌اللہ؟ یا وہ لوگ جو 10 ہزار کلومیٹر دور سے جنگی سازوسامان کے ساتھ آ کر ہمارے خطے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں؟

مزید پڑھیں:لبنانی حکومت حزب اللہ کے مکمل خلع سلاح کی ذمہ دار ہے:امریکہ  

آخر میں انہوں نے تاکید کی کہ حزب‌اللہ کبھی بھی امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کے ساتھ طولانی جنگ بندی ناممکن : اسلامی جہاد

?️ 13 جون 2023سچ خبریں:اسلامی جہاد موومنٹ کے سیاسی دفتر کے رکن احسان عطایا نے

اسلام آباد دھرنے کے شرکا کا کوئٹہ واپسی پر پرتپاک استقبال

?️ 26 جنوری 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) اسلام آباد میں ایک ماہ طویل احتجاجی دھرنا دینے

ہم پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے:چیف جسٹس

?️ 7 اپریل 2022 اسلام آباد(سچ خبریں)اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع

مودی حکومت تنازعہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے: حریت کانفرنس

?️ 16 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل

18 بار عمر قید کی سزا سنائے جانے والے فلسطینی قیدی کی منگنی کی کہانی

?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:اسرائیلی جیل میں قید 18 بار عمر قید کی سزا

جنیوا میں اصولی مؤقف اختیار کرنے پر ایرانی سفیر پاکستان کے شکر گزار

?️ 24 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے جنیوا میں ایران

وزارت آئی ٹی کا نیشنل سپر ایپ اور ویب پورٹل لانچ کرنے کا اعلان

?️ 5 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) شہریوں اور کاروباری حضرات کو سرکاری خدمات ایک

طوفان الاقصی کے بارے میں صیہونی فوج کا اعتراف

?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: صیہونی مسلح افواج کے سربراہ ہرتزی ہالوی نے 7 اکتوبر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے