ٹرانس جینڈر بچوں کیلئے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جائے، وفاقی شرعی عدالت
15 دسمبر
?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر پرسن (حقوق کا تحفظ) ایکٹ 2018 کو چیلنج کرنے کی متعدد درخواستوں پر سماعت کے دوران حکم دیا ہے کہ خواجہ سرا بچوں کے لیے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جائے۔
گزشتہ سماعت پر وفاقی شرعی عدالت نے کہا تھا کہ ٹرانسجینڈر بچوں کی حالتِ زار معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے، چیف جسٹس نے زور دیا تھا کہ ٹرانسجینڈر بچے مجرمان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
وفاقی شرعی عدالت میں ٹرانسجینڈر پرسن (حقوق کا تحفظ) ایکٹ 2018 کو چیلنج کرنے کی متعدد درخواستوں پر آج سماعت ہوئی، کیس کی سماعت چیف جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وزرات انسانی حقوق ٹرانسجیڈر بچوں کو حقوق فراہم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے، اس دوران عدالت کی جانب سے وزارت انسانی حقوق کے حکام کو ہدایت کی گئی کہ عدالت آنے سے پہلے آرڈر پڑھ لیا کریں۔
عدالت نے وزرات انسانی حقوق کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ وہ بغیر کسی تیاری کے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
دوروان سماعت عدالت کے نوٹس پر سی ای او پاکستان سویٹ ہوم زمرد خان پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ آپ بڑا ثواب کا کام کر رہے ہے جس پر زمرد خان نے کہا کہ میں آج اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو لایا ہوں۔
عدالت نے وزرات انسانی حقوق کو کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری انسانی حقوق کو آئندہ سماعت پر ایس او پیز کے ساتھ مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پورا نہیں کررہی ہے، یہ بچے کہا ں جائیں گے۔
عدالت نے حکم دیا کہ خواجہ سرا بچوں کے لیے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جائے، اس موقع پر عدالت نے خصوصی یونٹ کے ایس او پیز کی تیاری کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل بھی دے دی۔
عدالت نے کیس کی سماعت 10 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ تشکیل شدہ خصوصی کمیٹی 24 روز میں ایس او پیز طے کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔
قانون کے تحت ٹرانسجینڈر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سرکاری اداروں میں بطور ٹرانسجینڈر رجسٹر ہوسکتے ہیں یا خود اپنی پہچان لکھوا سکتے ہیں۔
یہ قانون پسماندہ طبقے کو تحفظ فراہم کرتا ہے، البتہ یہ قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد کئی قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔
مختلف حلقوں کی جانب سے اس ایکٹ پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزاروں نے 2021 میں اس قانون کو اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ یہ ’اسلامی احکامات‘ کے خلاف ہے، جس کے بعد رواں سال ستمبر میں وفاقی شرعی عدالت میں اس قانون کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔
مختلف حلقوں نے ٹرانسجینڈر پرسن (حقوق کا تحفظ) ایکٹ 2018 قوانین کو ایل جی بی ٹی (ہم جنس پرستوں، دو جنسی اور خواجہ سرا) کے لیے حوصلہ افزائی قرار دیتے ہوئے اس میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا تھا جب کہ خواجہ سرا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ٹرانس جینڈر اور ایل جی بی ٹی کے درمیان فرق کی وضاحت پر زور دیتے ہوئے عدالت کو تجویز دی تھی کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ماہرین کی رائے ضرور لی جائے۔
مشہور خبریں۔
نیتن یاہو کے ترجمان کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟
?️ 4 نومبر 2024سچ خبریں:صہیونی حکومت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ترجمان اور
نومبر
جرمنی میں کلینکوں کے خلاف لوگ سڑکوں پر
?️ 21 جون 2023سچ خبریں:عملے کی کمی اور اربوں اضافی اخراجات جیسے مسائل کی وجہ
جون
آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کا معاہدہ رواں ہفتے ہونے کا امکان
?️ 22 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) تمام اہم پیشگی شرائط پر عمل آمد کے بعد
فروری
وزیرا عظم نے کسانوں کی مشکلات کو حل کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں
?️ 3 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت زرعی
جنوری
وزیراعظم کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ خیبر پختونخوا سے لانے پر وزراء سے مشاورت
?️ 10 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین
مارچ
گیلانی کی کامیابی یقینی بنانے میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کا بڑا کردار
?️ 4 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} سابق صدر آصف علی زرداری نے سینیٹ انتخابات
مارچ
عراقی وزیراعظم کے دورہ امریکہ کی تفصیلات
?️ 23 مارچ 2024سچ خبریں: عراقی وزیراعظم آئندہ اپریل میں امریکی حکام سے ملاقات کے
مارچ
کل جماعتی حریت کانفرنس کا مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحادواتفاق پر زور
?️ 10 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل
مارچ