شام کے نئے حکمران صیہونی جارحیت کے دباؤ میں ، بحران بڑھنے کا خدشہ: الجزیرہ

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق شام  کے خلاف خصوصاً جنوبی علاقوں میں اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے دمشق کی نئی حکومت کو سخت دباؤ میں آچکی ہے۔

?️

سچ خبریں:الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق شام  کے خلاف خصوصاً جنوبی علاقوں میں اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے دمشق کی نئی حکومت کو سخت دباؤ میں آچکی ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی اقدامات شام کی خودمختاری کو کمزور کر رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جنگ ناگزیر ہو سکتی ہے۔

الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ صہیونی حکومت کی جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم شام کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ جنوبی شام میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے دمشق کی نئی حکومت کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، اور اس عمل کا تسلسل خطے کو خطرناک حد تک غیر مستحکم کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل اور شام کے درمیان سیکیورٹی معاہدے پر اختلاف کا سب سے اہم نکتہ 

رپورٹ کے مطابق، شام سیہونی منصوبوں کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔
الجزیرہ نے اسرائیل کی شام میں دلچسپی کے چند اہم عوامل بیان کیے ہیں:

1: شام، تل ابیب کے اس جغرافیائی منصوبے کا مرکز ہے جس کے تحت "نئے مشرقِ وسطیٰ” کی تشکیل مقصود ہے۔ یہ منصوبہ خطے کے ممالک کو لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کر کے چھوٹے ریاستی ڈھانچوں میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

2: اسرائیل نے شام میں کئی بڑے منصوبے متعارف کرائے ہیں — "گذرگاہِ داوود”، "انسانی راہداری” (السویداء) اور جنوبی شام میں "علاقۂ حائل” — جو تل ابیب کے توسیعی عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔

3: شام کی داخلی کمزوری اور سیاسی عدمِ استحکام، اسرائیل کے لیے مداخلت کا جواز فراہم کرتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، شام اسرائیل کے نزدیک طاقت کے توازن کے تجربات کا لیبارٹری بن چکا ہے جہاں چار مختلف فوجیں بیک وقت اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہیں۔

4: اسرائیل نے جنوبی شام میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس نے دمشق کی انتظامی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ اس خلا کو اسرائیل اپنی موجودگی کے جواز کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

راستہ جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے

الجزیرہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل نے شام میں اپنے لیے دو ہی راستے طے کیے ہیں — یا جنگ، یا ذلت آمیز تسلیم۔
رپورٹ کے مطابق، تل ابیب شام کے جنوبی حصے میں صرف جولان کی بلندیوں تک محدود نہیں بلکہ مزید زمینی توسیع کا خواہاں ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کو گرانے اور شام کی موجودہ غیر مستحکم سکیورٹی صورتِ حال کو اپنی موجودگی کا بہانہ بنا لیا ہے۔
تل ابیب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگر وہ جنوبی شام میں رہے تو ایران کا اثر و نفوذ دوبارہ نہیں بڑھے گا، اور وہ یہ خطرہ مول لینے کے بجائے پیش قدمی جاری رکھے گا۔

دمشق کے ساتھ سکیورٹی معاہدے سے گریز

الجزیرہ کے مطابق، اسرائیل کی قیادت شام کے ساتھ کسی سکیورٹی معاہدے پر تیار نہیں ہے۔
اسرائیل کے سابق موساد افسران اور ریٹائرڈ جنرلوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس مرحلے پر کوئی بھی سکیورٹی معاہدہ اسرائیل کے مفاد میں نہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں تل ابیب کو پسپائی اور فوجی سرگرمیوں پر پابندیاں قبول کرنا پڑیں گی، جبکہ اس کے پاس اس وقت جنوبی شام پر عملی کنٹرول اور قنیطرہ و درعا کے آبی وسائل پر قبضہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنی موجودہ جارحانہ پالیسی برقرار رکھی، تو دمشق کے پاس جنگ کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔
الجزیرہ کے مطابق، شام کے حکمران اگر مذاکرات یا ثالثی کے ذریعے اس بحران سے نہ نکل سکے تو اسرائیلی پیش قدمی ان کے لیے ایک وجودی خطرہ بن جائے گی۔

کیا ٹرمپ کے منصوبے پر بھروسہ ممکن ہے؟

الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا سکیورٹی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جو سوویت یونین کے زوال کے بعد بننے والے پرانے نظام کی جگہ لے گا۔ تاہم، شام کے معاملے میں امریکہ کی دلچسپی اسرائیل کے مفادات سے الگ نہیں۔

واشنگٹن نہ تو شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کر رہا ہے اور نہ ہی دمشق کی خودمختاری کے تحفظ میں کوئی کردار ادا کر رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، امریکہ دراصل ایک ایسا علاقائی نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو اسرائیل کے سکیورٹی مفادات کے تابع ہو۔

مزید پڑھیں:اسرائیل اور شام کی عبوری حکومت کے درمیان سکیورٹی معاہدہ آخری مرحلے میں کیوں ناکام ہوا؟

رپورٹ نے متنبہ کیا کہ اسرائیل کی موجودہ انتہا پسند کابینہ شام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اور اگر اسرائیل نے اپنی پالیسیوں کو جاری رکھا تو شام-اسرائیل جنگ اب ایک ممکنہ نہیں بلکہ ناگزیر حقیقت بن جائے گی۔

مشہور خبریں۔

پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافے کا رجحان جاری، ڈالر مزید ایک روپے 8 پیسے سستا

?️ 11 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) روپے کی قدر میں اضافے کا رجحان جاری ہے،

چین نے تائیوان کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کیوں کیا؟

?️ 18 ستمبر 2023سچ خبریں: تائیوان کے حکام نے اس جزیرے کے گرد 28 چینی

امریکہ جنگی جرائم میں اسرائیل کا شریک ہے: جہاد اسلامی

?️ 4 جون 2025سچ خبریں: فلسطینی تحریک جہاد اسلامی نے زور دے کر کہا ہے کہ

راک نے وین ڈیزل پر کیا  الزام لگایا؟

?️ 31 دسمبر 2021کیلفورنیا(سچ خبریں) ہالی وڈ اداکار ڈیوائن جانسن ‘دی راک’ نے سوشل میڈیا

وفاقی حکومت کانئے ڈیموں کی تعمیر بارے ملکی سطح پر گرینڈ ڈائیلاگ شروع کرنے کافیصلہ

?️ 29 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں ،بارشوں

عمران خان ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل فٹ ہیں، بشری بی بی

?️ 26 مارچ 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) بشری بی بی نے کہا ہے کہ بانی پاکستان

اگر نتن یاہو کو معافی نہ دی گئی تو ٹرمپ عدلیہ پر پابندیاں لگا سکتے ہیں:صہیونی وزیر

?️ 8 دسمبر 2025 اگر نتن یاہو کو معافی نہ دی گئی تو ٹرمپ عدلیہ

ڈنمارک کے دارالحکومت کے ایک شاپنگ سینٹر میں فائرنگ

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے بتایا کہ کوپن ہیگن میں آج ہونے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے