امریکہ کی تمام تر کوششیں صیہونی مفادات کے لیے ہیں: حزب اللہ

حزب اللہ

?️

سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ میں وفاداری بہ مزاحمت گروپ کے رکن حسین الجشی نے امریکی-صیہونی دشمن کی جانب سے لبنان کے خلاف جارحیت اور فساد انگیزی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان پر مسلسل قبضہ کار حملوں کا ایک مقصد اس خطے کو آبادی سے خالی کرنا اور لبنانیوں کو بے گھر کرنا ہے۔
حزب اللہ کے اس نمائندے نے کہا کہ یہ صیہونی دشمن کے توسیع پسندانہ منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے جس کا مقصد لبنانی اراضی پر بتدریج قبضہ کرنا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا یہ ریگیم دیگر عرب ممالک کے ساتھ کرتا آیا ہے۔ صیہونی ریجیم کی فطرت ہی جارحیت اور قبضہ پر مبنی ہے اور جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ امریکی-صیہونی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد ہمارے خطے کو ہتھیار ڈالواں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ  امریکہ اور قبضہ کار ریجیم لاٹھی اور گاجر کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ یعنی قبضہ کار حملہ کرتے ہیں، تباہی مچاتے ہیں اور عوام کو مارتے ہیں، جبکہ امریکی اس ریگیم کے جرائم کی حمایت کرتے ہوئے اپنے آپ کو ثالث کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
حزب اللہ کے اس نمائندے نے زور دے کر کہا کہ امریکی جو کچھ پیش کر رہے ہیں وہ صیہونی ریجیم کے مفادات کے لیے ہے، اور امریکہ سیاسی اور معاشی دباؤ کے ذریعے صیہونیوں کے لیے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ میدان جنگ میں حاصل کرنے سے قاصر رہے۔
حسین الجشی نے لبنان کے خلاف حالیہ امریکی ایلچی ٹام باراک کے بیانات اور دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹام باراک نے صاف طور پر کہا ہے کہ امریکہ تل ابیب کی سلامتی کو خطرہ بننے والے ہتھیاروں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہی بات ثابت کرتی ہے کہ واشنگٹن کا حقیقی مقصد لبنان کے طاقت کے ذرائع کو ختم کرنا اور ہمارے ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی دشمن کسی بین الاقوامی معاہدے یا چارٹر کا احترام نہیں کرتا۔ سب نے دیکھا کہ اس ریجیم کے نمائندے نے کھلم کھلا اقوام متحدہ کے چارٹر کو پھاڑ ڈالا۔ اس کے علاوہ، گزشتہ دہائیوں سے لے کر اب تک سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی کوئی بھی قرارداد صیہونیوں کی قوموں پر جارحیتوں کو روکنے یا مقبوضہ علاقوں کو آزاد کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
مزاحمت کے اس نمائندے نے نشاندہی کی کہ لبنان کے اندر کچھ لوگ جو براہ راست صیہونی دشمن سے مذاکرات کی جلدی میں ہیں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں، کیونکہ یہ ریگیم کبھی بھی امن کا طلبگار نہیں رہا، وہ تو لبنان کی ہتھیار ڈالنے کی خواہش کرتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی گواہی قبضہ کار ریگیم کے نمائندے کی راس الناقورہ میں میکانزم کمیٹی کی حالیہ میٹنگ کے دوران دی گئی بات ہے، جہاں اس نے صاف کہا کہ تل ابیب لبنان پر اپنے فوجی حملے جاری رکھے گا۔
حزب اللہ کے مذکورہ نمائندے نے ہتھیاروں کے مسئلے کے حل کے بہانے لبنان میں خانہ جنگی کھڑی کرنے کی امریکہ اور صیہونی ریجیم کی فتنہ انگیزیوں کے بارے میں انتباہ کرتے ہوئے زور دیا کہ لبنان کو لاحق قریب الوقوع خطرہ تمام لبنانیوں کو بلا امتیاز متاثر کرے گا۔ دشمن لبنان کی زمین، پانی اور وسائل پر نظر رکھتا ہے اور ہمیں قومی طاقت کے عناصر، بشمول وحدت، مزاحمت اور فوج کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے، پر کاربند رہتے ہوئے اس امریکی-صیہونی تخریبی منصوبے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

وفاقی ادارے بجلی بلوں کے نادہندہ نکلے، آئیسکو کے نوٹسز جاری کرنے کے اعلان پر حکومت ناراض ہوگئی

?️ 15 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی ادارے بجلی بلوں کے نادہندہ نکلے جس

امریکی سینیٹر کی تل ابیب کو اسلحے کی برآمد مشروط کرنے کی درخواست

?️ 28 مارچ 2024سچ خبریں: امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا ہے کہ اسرائیل ممکنہ

غزہ کی پٹی میں صیہونی جاسوس کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمتی ہدایات

?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں لاؤڈ اسپیکر سے لیس طیاروں کے

آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر کے سبب پاکستان کو قرضوں کی ادائیگیاں روکنی پڑ سکتی ہیں

?️ 14 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ایک امریکی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر

چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت اور امریکہ کا تعاون

?️ 2 فروری 2023سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کے

پاکستان کے خلاف مہم چلانے والے پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اب بھی ہوں گے

?️ 5 جنوری 2022راولپنڈی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر

بائیڈن نے انتخابی مہم کے لیے پہلے عوامی فنڈ جمع کرنے کا کیا اہتمام

?️ 3 مئی 2023سچ خبریں:باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صدر جو بائیڈن اور

حزب اللہ: مزاحمت کا ہتھیار ایک داخلی معاملہ ہے

?️ 18 اپریل 2026سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب صدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے