ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے بڑا چیلنج؛ راشا ٹوڈے کی رپورٹ

ایران

?️

سچ خبریں:راشا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل، ہائپرسونک ہتھیار اور امریکہ و اسرائیل کے محدود دفاعی ذخائر اس جنگ میں تہران کے اہم اسٹریٹجک برتری کے عوامل بن سکتے ہیں۔

راشا ٹوڈے نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ میں ایران کی طاقت کے مختلف عوامل کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے چند دنوں سے زیادہ جاری رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی حکومت نے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ بندی کے لیے امریکہ سے مدد طلب کی: انصاراللہ 

راشا ٹوڈے کی ویب سائٹ نے اس رپورٹ میں روسی اکیڈمی آف ملٹری سائنسز کے ماہر ولادیمیر پروخوواتیلوف کے حوالے سے ایران کی جنگی برتری کے عناصر پر روشنی ڈالی اور کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ نہ تو کوئی آسان تفریحی کارروائی ہے اور نہ ہی کوئی برق رفتار فوجی آپریشن۔

اس روسی فوجی اور اسٹریٹجک ماہر نے متعدد عملی دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصادم دراصل ان حکومتوں کے لیے ایک خطرناک مہم جوئی بن سکتا ہے جس کے اخراجات بہت زیادہ ہوں گے۔ انہوں نے ایران کے نظام کے خاتمے یا فیصلہ کن اسٹریٹجک کامیابی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران شکست یا انہدام سے بہت دور ہے۔

روسی ماہر نے زور دے کر کہا کہ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تشخیص کے مطابق ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں بیلسٹک میزائلوں کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے اور ان میں سے بعض میزائلوں کی مار تقریباً دو ہزار کلومیٹر تک پہنچتی ہے۔

اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے اس بڑے میزائل ذخیرے میں کئی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں جو اسرائیل تک پہنچنے اور اس کے لیے حقیقی خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان نمایاں میزائلوں میں سجیل جس کی رینج دو ہزار کلومیٹر ہے، عماد جس کی رینج سترہ سو کلومیٹر ہے، قدر جس کی رینج دو ہزار کلومیٹر ہے، شهاب 3 جس کی رینج تیرہ سو کلومیٹر ہے، خرمشہر جس کی رینج دو ہزار کلومیٹر ہے اور ہویزه جس کی رینج تیرہ سو پچاس کلومیٹر ہے شامل ہیں۔

روسی ماہر نے مزید کہا کہ ایران کے اہم ترین اسٹریٹجک ہتھیاروں میں ہائپرسونک میزائل خرمشہر 4 بھی شامل ہے جو صرف بارہ منٹ میں دو ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس رفتار اور بلند درجے کی مانورنگ کے باعث یہ میزائل صہیونی حکومت کے آئرن ڈوم دفاعی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔

پروخوواتیلوف نے مزید کہا کہ بین الاقوامی آزاد تجزیہ کاروں نے ایران کی میزائل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچنے سے متعلق بعض میڈیا دعوؤں پر بھی شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایران کے خلاف طویل عرصے تک بمباری جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ انہیں فضائی دفاعی میزائلوں اور درست نشانے والے ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

اس روسی ماہر نے فنانشل ٹائمز کے حوالے سے مغربی حکام اور تجزیہ کاروں کے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے محدود دفاعی گولہ بارود کے ذخائر ممکنہ طور پر ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے حجم کا تعین کریں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تشویش امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بارہ روزہ جنگ کے دوران فضائی دفاعی میزائلوں کے بے مثال استعمال کے بعد سامنے آئی ہے۔

پروخوواتیلوف کے مطابق امریکہ نے بارہ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے دفاع کے لیے تھاد میزائل دفاعی نظام کے تقریباً ایک سو پچاس میزائل استعمال کیے۔ اس شدید استعمال کے نتیجے میں اس نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی، حالانکہ 2010 کے بعد اس نظام کے لیے مجموعی طور پر چھ سو پچاس سے بھی کم انٹرسیپٹر میزائل طلب کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن نے صرف چند دنوں میں اپنے ان مہنگے میزائلوں کے تقریباً ایک چوتھائی ذخائر استعمال کر لیے۔

فنانشل ٹائمز نے اس جنگ میں امریکہ کو درپیش ایک اور مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز کو اپنے ہتھیار دوبارہ لوڈ کرنے کے لیے بندرگاہوں کی طرف واپس جانا پڑتا ہے کیونکہ تکنیکی اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر سمندر میں ان کی دوبارہ لوڈنگ ممکن نہیں۔ اس صورتحال کے باعث امریکی بحریہ کو عملی محدودیتوں کا سامنا ہے جو مسلسل اور بلا تعطل فوجی کارروائی کی صلاحیت کو کم کر دیتی ہیں۔

اس برطانوی اخبار کے مطابق صہیونی حکومت کے انٹیلی جنس اندازوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حتیٰ کہ اگر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ بھی خطے میں پہنچ جائے تب بھی موجودہ امریکی فوجی صلاحیتیں صرف چار سے پانچ دن تک شدید فضائی حملوں کی حمایت کر سکتی ہیں یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے تک کم شدت کے حملے جاری رکھ سکتی ہیں۔

روسی ماہر نے اپنے تجزیے کو ایک علمی مطالعے کے حوالے سے مکمل کرتے ہوئے کہا کہ جنگی طیارے شاید مضبوط فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور فوجی صلاحیتوں کو کمزور کر سکتے ہیں، مگر وہ کسی ملک کی داخلی سیاست کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے اسٹمسن سینٹر کی ممتاز تجزیہ کار کیلی گریگو کے حوالے سے کہا کہ ایک صدی کے تجربات اور مطالعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اسٹریٹجک بمباری لازمی طور پر عوامی بغاوت کو جنم نہیں دیتی بلکہ اکثر بیرونی جارحیت کے مقابلے میں قومی اتحاد کو مضبوط کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کے دعوے بے نقاب؛ امریکی حملوں سے ایرانی ایٹمی پروگرام تباہ نہ ہو سکا، سی این این اور دیگر ذرائع کی تردید

آخر میں روسی ماہر نے پیش گوئی کی کہ اس فوجی مہم جوئی کی ناکامی کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو داخلی طور پر ایک بڑا انتخابی دھچکا لگ سکتا ہے اور وہ خود کو امن پسند رہنما کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہیں گے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کی جانب سے میانمار زلزلہ متاثرین کیلئے امدادی سامان کی پہلی کھیپ روانہ

?️ 1 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی جانب سے میانمار زلزلہ متاثرین کیلئے

اسرائیل نے غزہ جنگ میں اپنا کوئی بھی اہداف حاصل نہیں کیا

?️ 21 نومبر 2023سچ خبریں:Haaretz اخبار کے مطابق اسرائیل غزہ جنگ میں جو کامیابی ریکارڈ

جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن؛ بھارت کی فوجی برتری یا پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس؟

?️ 28 اپریل 2025 سچ خبریں:بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور

پاکستان: اسلام آباد میٹنگ میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے/دہشت گردی کابل کے ساتھ تعلقات کی ترقی میں رکاوٹ ہے

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: اسلام آباد میں طالبان مخالفین کے اجلاس کے ردعمل میں

ابوظہبی تک پہنچنے والے میزائل اور ڈرون اسرائیل بھی پہنچ سکتے ہیں:صیہونی تحقیقاتی ادارہ

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:امیل تھامس اسٹڈی سینٹر کے ایک ماہر نے متحدہ عرب امارات

یمن کو سعودی صیہونی مشترکہ سازشوں کا سامنا

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:یمنی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے ملک

ایران ہمارا قریبی ساتھی ہے: روس

?️ 5 فروری 2026 سچ خبریں: سرگئی لاوروف، روس کے وزیر خارجہ نے آر ٹی

افغانستان میں بم دھماکے اور ہیلی کاپٹر حادثے میں 5 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے

?️ 18 مارچ 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان میں ایک بس میں بم دھماکے اور ہیلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے