?️
سچ خبریں:اسرائیل کو خطے میں فوجی، سیاسی اور سفارتی محاذوں پر ناکامیوں کا سامنا ہے،غزہ جنگ اور ایران مخالف اتحاد میں ناکامی کے بعد تل ابیب کی بین الاقوامی ساکھ اور عرب ممالک سے تعلقات بھی بحران کا شکار ہیں۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے میں اپنے مقاصد کے حصول اور غزہ پر جنگ چھیڑنے کے ساتھ ایران کے خلاف اتحاد بنانے کی خواہش رکھتی تھی، حالیہ علاقائی اور عالمی تبدیلیوں سے شدید دھچکا کھا چکی ہے۔
غزہ کے خلاف مسلسل جارحیت کے باوجود، اسرائیلی اور مغربی محققین اس بات پر متفق ہیں کہ تل ابیب نہ تو فوجی کامیابیاں حاصل کر سکا اور نہ ہی سیاسی طور پر اپنا مقام مضبوط کر سکا۔
امریکی-ایرانی مذاکرات میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں اور امریکہ کی ترجیحات تل ابیب کے مفادات پر غالب آ گئی ہیں۔ اسی طرح، سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات بھی اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کے بغیر اپنے راستے پر چل رہے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے یمن کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے سے اسرائیل کو آگاہ نہ کرنا، اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ خطے میں اسرائیل کو شامل نہ کرنا، سبھی اسرائیلی پالیسیوں کی ناکامی اور واشنگٹن-تل ابیب تعلقات میں تناؤ کی علامت ہیں۔
اس کے علاوہ، یورپ و امریکہ میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں بھی کمی آئی ہے، جس سے اس کی علاقائی و بین الاقوامی ساکھ مزید کمزور ہوئی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، اسرائیل اب ایک ریویژنلسٹ (تبدیلی پسند) ریاست کے طور پر ابھرا ہے، جو اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مسلسل فوجی جارحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔
تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ علاقائی قبضہ نہ تو امن لاتا ہے اور نہ ہی تنازعات کو ختم کرتا ہے، بلکہ الٹا خطرات اور بحرانوں کو بڑھاتا ہے۔
سابق امریکی حکومتوں نے بھی اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ عراق اور افغانستان میں امریکہ کی غلطیوں کو نہ دہرائے، مگر تل ابیب اب بھی صرف غزہ اور لبنان میں فوجی قبضے کی حکمت عملی پر اصرار کر رہا ہے۔
محققین کے مطابق، 1980ء کی دہائی میں لبنان پر اسرائیلی قبضے نے حزب اللہ کی پیدائش کا باعث بنی، اور آج غزہ کی جارحیت بھی خطے میں اسرائیل مخالف محور کو مضبوط کر رہی ہے۔
حالیہ ریسرچ کے مطابق، غزہ پر اسرائیلی جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی اتحاد اور نارملائزیشن کے امکانات مزید کمزور ہو گئے ہیں،غزہ میں جاری قتل عام کے باعث عرب دنیا میں اسرائیل کے خلاف غم و غصہ بڑھ چکا ہے، جس کے سبب عرب ممالک اب اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں مزید احتیاط برت رہے ہیں۔
سعودی عرب نے واضح کر دیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، اور اب امریکہ بھی سعودی عرب سے اس کی شرط ختم کرنے پر اصرار نہیں کر رہا۔
امریکی افواج کی شام سے جزوی واپسی نے خطے میں ترک اثر و رسوخ کو بڑھا دیا ہے، اور اس سے اسرائیل کی سیکورٹی اور خطے میں امریکی اثرات کو شدید دھچکا لگا ہے،عبرانی میڈیا کے مطابق، امریکی انخلاء سے نہ صرف اسرائیل کی ایران کے خلاف بازدارانہ حکمت عملی کمزور ہو رہی ہے، بلکہ جنوبی شام میں سیکورٹی تعاون بھی متاثر ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان خلیج کو گہرا کر دیا ہے، اور اسرائیل کی ڈیٹرنس کپیسٹی (بازدارانہ طاقت) سات اکتوبر کے بعد مکمل بحال نہیں ہو سکی،عالمی سطح پر نوجوان نسل اب اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور مزاحمت کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے،غزہ میں اسرائیلی مظالم کے بعد دنیا میں فلسطینی بیانیہ غالب آ چکا ہے، جبکہ اسرائیل کا روایتی پراپیگنڈا بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
مذاکرات کے باوجود حکومت کا الیکشن کرانے کا کوئی ارادہ نہیں، عمران خان
?️ 29 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک جانب پاکستان تحریک
اپریل
سعودی بادشاہ کی جانب سے دیے گئے تحائف کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں، فواد چوہدری
?️ 16 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کےرہنما فواد چوہدری نے کہا کہ
نومبر
عراقی شیعہ اتحاد کا کردستان سے صدارتی انتخاب میں تعاون کا مطالبہ
?️ 24 فروری 2026 سچ خبریں:عراق کی شیعہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد چارچوب ہم آہنگی
فروری
ایران سے چین تک بائیڈن اور ٹرمپ کی ایک جیسی سیاست
?️ 25 جولائی 2022سچ خبریں:نیویارک ٹائمز اخبار نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے
جولائی
امریکی حکومت کا غزہ پٹی کے قریب فوجی اڈے کی تعمیر کی خبر پر ردعمل
?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے غزہ پٹی کے قریب دس ہزار
نومبر
پاکستان نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی نئی مثال قائم کی ہے: وزیراعظم
?️ 18 اکتوبر 2025 جہانیاں: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے
اکتوبر
عطوان: "استحکام کارواں” قابضین کی رسوائی ہے/غزہ کے باشندوں کو واضح پیغام پہنچا رہا ہے
?️ 12 جون 2025سچ خبریں: عرب دنیا کے تجزیہ کار "عبدالباری عطوان” نے مراکش سے
جون
نئے قائد ایوان کے لیے شاہ محمود قریشی اور شہباز شریف میں مقابلہ
?️ 10 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)گزشتہ روز ایوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف
اپریل