اسرائیل کے زوال کے اسباب؛ بیرونی خطرات سے لے کر داخلی بحران تک

اسرائیل

?️

گزشتہ ڈیڑھ دہائی (2010 سے 2025 تک) کے دوران اس ریاست نے ایسے تیز اور گہرے تبدیلیوں کا سامنا کیا ہے کہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے لیے اس کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اب صرف اس کی استحکام ہی نہیں، بلکہ اس کے وجود تک کے خاتمے کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ تجزیہ قطعی جوابات دینے کی بجائے ان پیچیدہ داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی عوامل کو سامنے لاتا ہے جو صہیونی ریاست کے ڈھانچے کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
مغربی ممالک میں اسرائیل کے خلاف بڑھتا غم و غصہ
برطانیہ کی تحقیقی ادارہ YouGov کے ایک سروے کے مطابق، یورپ اور مغربی ممالک کے تقریباً نصف شہری اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جو مغربی حکومتوں اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے خلیج کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں کمی
امریکہ، جو دہائیوں سے اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی و سیاسی اتحادی رہا ہے، گزشتہ برسوں خاص طور پر غزہ کی جنگ کے بعد عوامی سطح پر اسرائیل کی حمایت میں کمی کا شکار ہوا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، 53% امریکی اب اسرائیل کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں، جو 2022 میں 42% تھا۔ یہ رجحان نوجوان نسل میں اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے ردِ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
یورپی ممالک نے بھی، خاص طور پر 2023 کی غزہ جنگ کے بعد، اسرائیل کے خلاف اپنے موقف میں تبدیلی کی ہے۔ فرانس اور جرمنی جیسے اہم ممالک نے اسرائیلی فوجی پالیسیوں کی کھلم کھلا مذمت کی ہے، جبکہ یورپی امداد کے کچھ پروگراموں پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔ کارنیگی یورپ کے مطابق، اسرائیل کے جرائم پر خاموشی یورپ کی ساکھ کو مشرقِ وسطیٰ میں نقصان پہنچا رہی ہے۔
 اسرائیل کا سب سے بڑا چیلنج
اگرچہ کچھ عرب ممالک نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کیے، لیکن مقاومت کا محور (ایران، حزب اللہ، حماس، اور یمن کی انصاراللہ) اسرائیل کے خلاف اپنی مخالفت پر قائم ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے دوران اس محور نے غزہ کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔
ترک اسرائیل تعلقات میں کشیدگی
2024 میں ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیلی کابینہ کے ترکی مخالف بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
اسرائیل کا داخلی بحران: سیکولر اور حریدی یہودیوں کے درمیان تصادم
اسرائیلی معاشرے میں سیکولر اور انتہا پسند حریدی یہودیوں کے درمیان گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ عبرانی ذرائع کے مطابق، حریدی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 2050 تک اسرائیل کی کل آبادی کا ایک تہائی بن جائے گی۔ یہ گروہ معاشی اور فوجی خدمات سے مستثنیٰ ہے، جس سے معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو رہا ہے۔
فلسطینی ریاست کا خطرہ
اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر فلسطینیوں کو مکمل حقوق نہ دیے گئے تو یہ صورتحال ایک بڑے بغاوت کا سبب بن سکتی ہے، جس سے فلسطین پر یہودی تسلط ختم ہو جائے گا۔
یمن اسرائیل کے لیے نیا خطرہ
یمن کی انصاراللہ تحریک اب ایک علاقائی طاقت بن چکی ہے اور اسرائیل پر کئی میزائیل حملے کر چکی ہے۔ اسرائیلی دفاعی نظام ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے، جس سے یمن ایک خودمختار خطرہ بن گیا ہے۔
معاشی بحران اور ہجرت
اسرائیل میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات، مہنگائی، اور سماجی عدم مساوات نے شہریوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق، اسرائیل کے ہنر مند اور امیر شہری بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کر رہے ہیں، جس سے معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
آخر اسرائیل کب اور کیسے ختم ہوگا؟
ماہرین کے مطابق، داخلی انتشار، عسکری چیلنجز، اور بین الاقوامی دباؤ اسرائیل کو تیزی سے زوال کی طرف لے جا رہے ہیں۔ سابق شاباک سربراہ یوآل ڈسکن کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینی تنازعہ کا سیاسی حل نہ نکالا گیا تو اسرائیل اپنی یہودی شناخت کھو دے گا۔

مشہور خبریں۔

جے یو آئی (ف) کا بلوچستان حکومت میں شمولیت کا حتمی فیصلہ تاخیر کا شکار

?️ 3 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچی خبریں) بلوچستان حکومت میں شمولیت کی دعوت ملنے کے باوجود

امید ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا،شوکت ترین

?️ 21 نومبر 2022کراچی: (سچ خبریں) سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ امید ہے پاکستان ڈیفالٹ

چین کے خلاف امریکہ کی نئی حکمت عملی میں مسلم ممالک کا اہم رول

?️ 13 اپریل 2021(سچ خبریں) امریکہ چین کے خلاف ایک بہت بڑی سرد جنگ میں

یوکرین اوڈیسا پر کیمیائی حملے کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ماسکو

?️ 24 اپریل 2022سچ خبریں:  یوکرین کے اس غیر مصدقہ الزامات کے بعد کہ روس

ڈاکٹر شہباز گل کا گرفتاری کے بعد پہلا بیان

?️ 10 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) غداری کے مقدمے میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل

فلسطین کی حمایت میں امریکہ اور یورپ میں مظاہرے

?️ 24 اپریل 2022امریکہ کے کئی شہروں بشمول الینوائے میں شکاگو، ٹیکساس میں ہیوسٹن اور

حرا مانی کا  آریان کی رہائی پر خوشی کا ظہار

?️ 31 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حرا مانی نے بھی

تہران میں اسماعیل ھنیہ کا بزدلانہ قتل

?️ 31 جولائی 2024سچ خبریں: آج صبح، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے جنرل پبلک ریلیشنز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے