?️
سچ خبریں:غزہ کی سیٹلائٹ تصاویر سے جنگ کے بعد بھی جاری تباہی اور بنیادی ڈھانچے کی بربادی کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ صیہونی فوج کی جانب سے زیر کنٹرول علاقوں میں توسیع کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
غزہ سے حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر تصاویر جنگ سے تباہ حال اس علاقے کے رہائشی محلوں میں ہونے والی ناقابل تصور تباہی کو ظاہر کرتی ہیں۔ امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
المیادین کے مطابق، غزہ میں صیہونی کارروائیوں کے تباہ کن اثرات صرف فوجی حملوں سے ہونے والی بربادی تک محدود نہیں رہے، کیونکہ سیٹلائٹ تصاویر ایک ایسی نئی صورتحال سامنے لا رہی ہیں جو اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے زمینی سطح پر تشکیل پا رہی ہے۔
غزہ کی پٹی سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق، صیہونی فوج کے طے شدہ انخلا کی لائنوں تک پیچھے ہٹنے اور جنگ بندی کے انتظامات پر عمل درآمد کے بجائے صیہونی زیر کنٹرول علاقوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال عمارتوں کی مسلسل مسماری اور مقامی باشندوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے ساتھ جاری ہے، جس کے باعث علاقے کی تعمیر نو بدستور انتہائی مشکل دکھائی دیتی ہے۔
روزنامہ نیویارک ٹائمز کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق، اسرائیل نے غزہ کے اندر اپنی پوزیشنیں مضبوط کی ہیں، 12 فوجی اڈے قائم کیے ہیں اور دفاعی و کنکریٹ کی دیواروں اور مٹی کے پشتوں کو طے شدہ انخلا کی لکیر سے آگے کے علاقوں تک پھیلا دیا ہے۔
اخبار کے مطابق، جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے غزہ کی تقریباً 53 فیصد اراضی پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا، تاہم صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ مئی میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ کنٹرول تقریباً 60 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
معاہدے کی خلاف ورزی
نیویارک ٹائمز کے مطابق، صیہونی فوج نے ایک نارنجی علاقہ قائم کیا ہے جہاں لوگوں کی آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اس کے علاوہ نئے دفاعی پشتے بھی تعمیر کیے گئے ہیں، جن میں سے بعض تقریباً 1 میل تک طے شدہ انخلا کی لکیر کے اندر غزہ کے علاقے میں داخل ہیں۔
جنوبی غزہ میں خان یونس کے قریب اخبار نے 6 فوجی اڈوں کی نشاندہی کی ہے جو جنگ بندی کے بعد قائم کیے گئے۔ ان میں سے بعض اڈے جنگ کے دوران تباہ ہونے والے گھروں اور دیہات کے ملبے پر تعمیر کیے گئے ہیں۔
اخبار کے مطابق، یہ صورتحال غزہ میں ایک نئی حقیقت کو مستحکم کر رہی ہے اور علاقے کو 2 حصوں میں تقسیم کر رہی ہے: ایک حصہ صیہونی کنٹرول میں ہے جبکہ دوسرے، نسبتاً چھوٹے حصے میں غزہ کی تقریباً 20 لاکھ آبادی کی اکثریت رہائش پذیر ہے۔
نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا کہ صیہونی زیر کنٹرول علاقے میں ہزاروں عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں، جبکہ زیادہ تر فلسطینی ایک انتہائی گنجان ساحلی پٹی میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں رہائش اور بنیادی خدمات کی شدید قلت ہے۔
تباہی کی شدت ظاہر کرنے والی تصاویر
اسی سلسلے میں نیوزویک نے بتایا کہ گوگل ارتھ کی جانب سے غزہ کی تصاویر میں کی جانے والی تازہ کاریوں سے وہاں کے محلوں اور شہروں پر صیہونی کارروائیوں کے اثرات انتہائی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
نیوزویک نے اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ مرکز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی کی 82 فیصد عمارتیں، یعنی تقریباً 2 لاکھ عمارتیں، متاثر ہوئی ہیں اور ان میں سے تقریباً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔
تصاویر میں رفح کے وسیع علاقے بھی دکھائے گئے ہیں جہاں گھروں کی پوری قطاریں مٹ چکی ہیں۔ اسی طرح الشفا اسپتال کے اطراف کا نقشہ بھی بنیادی طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔
نیوزویک کے مطابق، رواں سال حاصل یا جاری کی گئی نئی تصاویر میں رہائشی علاقے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے تجزیہ کاروں اور یورپی حکام کو غزہ میں تباہی کی وسیع پیمانے پر شدت کے بارے میں خبردار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
نیوزویک نے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ کے اندر تقریباً 19 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور 60 فیصد سے زیادہ آبادی اپنے گھروں سے محروم ہوگئی ہے۔
امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی پر عمل درآمد میں مشکلات
نیویارک ٹائمز کے مطابق، واشنگٹن کی ثالثی میں اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کا مقصد اگلے مراحل کی راہ ہموار کرنا تھا، جن میں صیہونی فوج کا بتدریج انخلا اور حماس کو غیر مسلح کرنا بھی شامل تھا۔ تاہم، بنیامین نیتن یاہو کی غزہ سے انخلا کی مخالفت کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔
فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پابندیوں اور تباہی کا سلسلہ جاری رہنے سے غزہ کی تعمیر نو مزید مشکل ہورہی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے صیہونی انسانی حقوق کی تنظیم گیشا کے سربراہ کے حوالے سے خبردار کیا کہ غزہ میں آبادی کا غیر معمولی دباؤ، بیماریوں کا پھیلاؤ اور فلسطینیوں کے لیے دستیاب زرعی اراضی کے بیشتر حصے کا نقصان سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے۔
جنگ بندی کے بعد بھی تباہی کا سلسلہ جاری
سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی عمارتوں کی مسماری کا سلسلہ جاری رہا۔ نیویارک ٹائمز نے اگست کے اواخر سے ستمبر کے اوائل کے درمیان دیر البلح کے جنوب میں 100 سے زائد عمارتوں کی تباہی کی نشاندہی کی ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں خطرات کی روک تھام اور مسلح گروہوں کے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز سے اب تک انخلا کی لائن کے قریب 196 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں 18 خواتین اور 43 بچے بھی شامل ہیں۔
تل ابیب کا دعویٰ ہے کہ اس کے فوجیوں نے ان مسلح افراد پر فائرنگ کی جو انخلا کی لائن کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔


مشہور خبریں۔
لندن نے یوکرین کے ساتھ 100 سالہ شراکت کو ایک قدم آگے بڑھا دیا
?️ 13 نومبر 2025 لندن نے یوکرین کے ساتھ 100 سالہ شراکت کو ایک قدم
نومبر
پینٹاگون کی جانب سے یوکرین کی ہتھیاروں کی امداد روکنے کے حکم پر وائٹ ہاؤس حیران
?️ 6 مئی 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے تقریباً ایک ہفتے بعد،
مئی
مقبوضہ گولان میں اسرائیلی فوج کا تربیتی اڈہ کھل گیا
?️ 8 ستمبر 2025سچ خبریں: اسرائیل مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں جنوبی لبنان کی طرز
ستمبر
وفاق میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا سیاسی تعاون پر اتفاق
?️ 12 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے
فروری
شہبازشریف کا بند پاور پلانٹس کی فوری بحالی کا حکم
?️ 3 جولائی 2022لاہور(سچ خبریں) وزیر اعظم محمّد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کی
جولائی
یمن جنگ کی سب سے بڑی رکاوٹ
?️ 15 جولائی 2023سچ خبریں:یمن کے بحران کے سیاسی حل کے حوالے سے غیر ملکی
جولائی
پشاور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کو ’بلے‘ کا انتخابی نشان واپس مل گیا
?️ 10 جنوری 2024پشاور:(سچ خبریں) پشاور ہائی کورٹ نے انتخابی نشان کیس میں الیکشن کمیشن
جنوری
اسٹیٹ بینک نے ڈالرز سمگلنگ روکنے کے لئے اہم فیصلہ کیا
?️ 7 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں) میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک نے پاکستان سے
اکتوبر