?️
سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے پیچھے ماہرین ایٹمی خطرات، پیونگ یانگ کے میزائل پروگرام اور سیاسی مفادات کو اہم عوامل قرار دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت میں ایک بار پھر شمالی کوریا کے حوالے سے اپنی پالیسی میں نمایاں تبدیلی دکھائی ہے۔ پیونگ یانگ کی جانب سے مسلسل میزائل تجربات کے باوجود ٹرمپ اس ایٹمی طاقت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ اقدامات کے پیچھے سب سے بڑی وجہ شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے ایٹمی خطرات کا خوف ہے۔
امریکی صدر نے اچانک اپنے مشرقی اتحادیوں، خاص طور پر جاپان اور جنوبی کوریا کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کیا اور جنوبی کوریا کے ساتھ مزید بڑی فوجی مشقوں کی مخالفت کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور انہیں شمالی کوریا کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں پسند نہیں تھیں۔
بعد ازاں امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ دوستانہ تعلقات ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پس پردہ ان کا ایک اہم مقصد پیونگ یانگ کے جوہری پروگرام کو ختم کرانا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ شمالی کوریا کا مقصد کم جونگ اُن کو اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنا ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ ایک بار پھر کم جونگ اُن کو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ترک کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے خفیہ طور پر اپنے معاونین پر زور دیا ہے کہ وہ موسم خزاں میں شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ملاقات کی تیاری کریں۔
تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود شمالی کوریا نے ابھی تک ان تجاویز کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا اور اپنے میزائل تجربات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
19 اگست کو، ٹرمپ کی جانب سے پیونگ یانگ کے دورے میں دلچسپی ظاہر کرنے کے ساتھ ہی شمالی کوریا کی جانب سے ایک اور میزائل تجربہ کیا گیا، جس نے جنوبی کوریا اور جاپان میں تشویش پیدا کر دی۔
جنوبی کوریا کی فوج نے اعلان کیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے کم از کم ایک نامعلوم میزائل داغا گیا، جبکہ جاپان نے اس میزائل کو بیلسٹک میزائل قرار دیا۔
دوسری جانب شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئی جوہری صلاحیت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
جنوبی کوریا کے وزیر دفاع کے مطابق شمالی کوریا کے پاس 80 سے 120 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔
اب ٹرمپ یہ حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں کہ شمالی کوریا کے حوالے سے بعض نرم مؤقف اختیار کرکے پیونگ یانگ کے قریب آیا جائے تاکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔
تاہم کئی ماہرین نے ٹرمپ کی اس کوشش کو صرف ایک غیر حقیقی امید قرار دیا ہے۔
شمالی کوریا کے رہنما کی بہن کم یو جونگ نے بھی کہا ہے کہ انہیں اپنے بھائی اور ٹرمپ کے درمیان ممکنہ رابطوں کی اطلاعات کا علم نہیں ہے۔
انہوں نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں میں کمی کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مشقوں کی اشتعال انگیز نوعیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ٹرمپ کی جانب سے کم جونگ اُن کے ساتھ مفاہمت کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کے ایشیائی اتحادی واشنگٹن کے ساتھ اپنے مستقبل کے سکیورٹی تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی حکام اور سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں میں کمی کے ٹرمپ کے اچانک فیصلے نے امریکہ کے دیرینہ اتحادوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
جاپان کو مستقبل میں امریکہ کے ساتھ سکیورٹی مذاکرات پر تشویش ہے، جبکہ تائیوان بھی چین کے مقابلے میں امریکی حمایت کے تسلسل کے حوالے سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہے۔
بھارت بھی، جو روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر ٹرمپ کی ناراضی کا سامنا کر چکا ہے، اب امریکی حمایت پر پہلے جیسا اعتماد نہیں کر رہا۔
یوریشیا گروپ کے سینئر تجزیہ کار اور جاپان و چین میں سابق امریکی سفارت کار جیریمی چان نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ خطے میں امریکہ کے سکیورٹی وعدوں پر بڑھتے ہوئے شکوک کو مزید تقویت دے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ ایران جنگ کے نتیجے سے بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہو سکے اور اب وہ خارجہ پالیسی کے میدان میں ایک نئی سیاسی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روئٹرز نے ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکی صدر شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور عالمی سطح پر ایک کامیابی حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تاکہ ایران جنگ کے حوالے سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
تاہم شمالی کوریا کا وسیع بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ٹرمپ کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے، جسے صرف مفاہمت آمیز بیانات کے ذریعے حل کرنا آسان نہیں ہوگا۔


مشہور خبریں۔
حکومت سے کسی کا ہاتھ نہیں ہٹا
?️ 27 دسمبر 2021کراچی(سچ خبریں) کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا
دسمبر
غزہ پر قبضے کا وقت آگیا ہے: اسرائیل کے وزیر خزانہ
?️ 10 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر خزانہ اور مذہبی صہیونی پارٹی کے
دسمبر
کوئٹہ اور تربت میں ایف سی اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملے، 4 اہلکار شہید
?️ 1 جون 2021کوئٹہ (سچ خبریں)کوئٹہ اور تربت میں ایف سی اہلکاروں پر دو مختلف
جون
پی ٹی آئی کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ عطا تارڑ
?️ 31 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے
جنوری
سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی؛پوری دنیا میں شدید غم و غصہ
?️ 30 جون 2023سچ خبریں: سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے کے واقعے
جون
وائٹ ہاؤس میں متعدد یورپی رہنماؤں کی بیک وقت موجودگی پر ٹرمپ خوش
?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ
اگست
طویل عرصے کے بعد پاکستان، ترکی کے درمیان تجارتی ٹرین کے امکان
?️ 1 مارچ 2021لاہور{سچ خبریں} پاکستان ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق استنبول سے
مارچ
ایران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا:سابق پاکستانی سفیر
?️ 26 فروری 2026 ایران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا:سابق پاکستانی سفیر پاکستان کی
فروری