ٹرمپ ارب پتیوں کے حصار میں، عام امریکی مہنگائی سے پریشان: امریکی میڈیا

مہنگائی

?️

سچ خبریں:امریکی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ حکومت کرپٹو کرنسی، مصنوعی ذہانت اور بڑے منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے جبکہ عام شہری مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور اخراجاتِ زندگی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا ادارے ایم ایس نو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں کرپٹو کرنسی، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز جیسے شعبوں کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ عام امریکی شہری مہنگائی، پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ عام امریکیوں کے مسائل کو دیگر سیاست دانوں سے بہتر سمجھتے ہیں، تاہم حالیہ اقتصادی صورتحال خاص طور پر معیشت کے شعبے میں ان کی پالیسیوں اور عوامی خدشات کے درمیان بڑھتے فاصلے کو ظاہر کر رہی ہے۔

ایم ایس نو کے مطابق ٹرمپ ایسے وقت میں کرپٹو کرنسی صنعت کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں جب کئی امریکی شہری ان کے اور ان کے خاندان کے اس شعبے سے مالی تعلقات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے ڈیٹا سینٹرز کے قیام کی بھی حمایت کر رہے ہیں، لیکن یہ منصوبے اب ووٹروں کے درمیان بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔

رپورٹ میں ٹرمپ حکومت کے امیر ترین افراد پر مشتمل ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ایم ایس نو کے مطابق ان کی انتظامیہ میں بڑی تعداد میں کروڑ پتی اور ارب پتی افراد شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹ میں امریکی معیشت کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے بلبلے سے باہر کئی تشویشناک نشانیاں موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اب بھی بڑھ رہی ہیں، قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ طویل مدتی امریکی بانڈز پر شرح سود تقریباً 2 دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ان حالات نے مہنگائی، قرضوں اور امریکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ایم ایس نو کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کرپٹو کرنسی صنعت کے سربراہان سے ملاقات کے دوران کانگریس سے ایسے قانون کی منظوری کا مطالبہ کیا جو اس شعبے اور ان کے ذاتی کاروباری مفادات کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں مختلف سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں امریکی شہری ٹرمپ اور ان کے خاندان کی کرپٹو کرنسی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

سروے کے مطابق 63 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا کرپٹو کرنسی سے منافع کمانا نامناسب ہے، جبکہ 69 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ ان کے کاروباری مفادات صدارتی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ماضی میں بٹ کوائن کو دھوکا دہی اور کرپٹو کرنسی کو انتہائی خطرناک چیز قرار دے چکے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ان کے خاندان سے وابستہ کاروبار نے کرپٹو شعبے سے تقریباً 1.4 بلین ڈالر آمدنی حاصل کی ہے۔

ایم ایس نو کے مطابق ٹرمپ خاندان کی کمپنی اب کرپٹو کرنسی کے ذریعے بینکاری کے شعبے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے، جس پر ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن سمیت کئی حلقوں نے تنقید کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی حکومت میں 57 ایسے افراد کو شامل کیا جن کے اثاثے کم از کم 100 ملین ڈالر ہیں، جبکہ ان میں سے 8 افراد ارب پتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں جارج ڈبلیو بش اور جو بائیڈن کی حکومتوں میں 100 ملین ڈالر سے زیادہ دولت رکھنے والے افراد کی تعداد 5، جبکہ باراک اوباما کی حکومت میں 3 تھی۔

ایم ایس نو کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے متوسط طبقے کے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے مفادات کی نمائندگی کریں گے اور اقتدار سنبھالتے ہی مہنگائی کے خلاف اقدامات کریں گے، لیکن موجودہ صورتحال میں وائٹ ہاؤس پر امیر ترین طبقے کے اثر و رسوخ کے الزامات لگ رہے ہیں۔

رپورٹ میں ٹرمپ کی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی حمایت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کا استعمال زیادہ تر امیر اور شہری علاقوں میں بڑھ رہا ہے، جبکہ نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات دارون عجم اوغلو نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور کئی خاندانوں کی حقیقی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سیاست دان، جو پہلے اپنے علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز لانے کے لیے مقابلہ کرتے تھے، اب ووٹروں کے دباؤ کے باعث محتاط ہو رہے ہیں۔

پیو ریسرچ کے ایک نئے سروے کے مطابق 71 فیصد امریکی بالغ افراد کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت روزگار کے مواقع کم کر سکتی ہے۔ 30 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح 73 فیصد ہے۔

اس کے باوجود ٹرمپ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ضابطوں میں کمی پر زور دے رہے ہیں اور اس صنعت کے ممکنہ اقتصادی اثرات سے متعلق عوامی خدشات کو کم اہمیت دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے آخر میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور بلند شرح سود کے خطرات کا ذکر کیا گیا ہے۔

ایم ایس نو کے مطابق 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز پر شرح سود گزشتہ ہفتے 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے گھروں، گاڑیوں اور حکومتی قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بلند شرح سود حکومتی قرضوں پر سودی اخراجات میں اضافہ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں مزید قرض لینے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے اور یہ صورتحال دوبارہ شرح سود میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

ایم ایس نو کے مطابق امریکہ اس وقت اپنے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ خرچ کر رہا ہے۔

رپورٹ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک ایسے وائٹ ہاؤس کی تصویر پیش کرتی ہے جو عام امریکیوں کے معاشی مسائل کے بجائے دولت مند طبقے، کرپٹو کرنسی، مصنوعی ذہانت اور بڑے سرمایہ کاری منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ ملک میں مہنگائی اور معاشی مستقبل کے حوالے سے عوامی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کی مخالفت؛ زیر حراست بحرینی کارکن کے خلاف الزام

?️ 19 نومبر 2022سچ خبریں:بحرین میں انسانی حقوق کے ایک کارکن کو صیہونی حکومت کی

پاکستان فلسطینیوں کی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھے گا:انوار الحق کاکڑ

?️ 11 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ نے عالمی قوتوں

افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، عمران خان

?️ 18 مارچ 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین

غزہ کی پٹی میں 5 دن میں 70 فلسطینی بچے شہید

?️ 12 جنوری 2025سچ خبریں:غزہ کی پٹی کے شہری دفاع کے ادارے نے اطلاع دی

پاکستان واضح کرچکا، کسی بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل

?️ 10 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے

’مقصد الیکشن سے روکنا ہے، ’فراڈ کیس میں فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

?️ 15 دسمبر 2023راولپنڈی: (سچ خبریں) راولپنڈی کی اینٹی کرپشن عدالت نے 35 لاکھ روپے

غزہ پر اسرائیل کے زمینی حملے ناکام ، وجوہات ؟

?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں:پال کربی نے بی بی سی انگلینڈ میں لکھا کہ اسرائیل

تہران پرامید، ٹرمپ مایوس؛ ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا رد عمل

?️ 2 اکتوبر 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، تہران اور واشنگٹن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے