غزہ میں جنگ بندی نہیں، نسل کشی جاری ہے:اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ

?️

غزہ میں جنگ بندی نہیں، نسل کشی جاری ہے:اقوامِ متحدہ
اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جسے جنگ بندی کہا جا رہا ہے، وہ درحقیقت ایک حقیقی یا انسانی بنیادوں پر قائم جنگ بندی نہیں ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، فرانسسکا البانیز، جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر ہیں، نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مسلسل بمباری، عام شہریوں کی ہلاکتیں اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی شدید کمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ غزہ میں کبھی بھی حقیقی جنگ بندی نافذ نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کا انسانی بحران اب پوری دنیا کے سامنے ہے، مگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اس بحران کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل خطے میں امریکی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
فرانسسکا البانیز نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات نہ صرف مزید تباہی کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ غزہ کا بحران مستقبل میں پورے خطے میں پھیلنے کا خطرہ بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اکتوبر میں اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک 450 سے زائد فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بمباری کے علاوہ ادویات، پناہ گاہوں اور خوراک کی کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کے سنائپرز شہریوں کو اسپتال جاتے یا خوراک تلاش کرتے ہوئے بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹر نے غزہ میں ہونے والے واقعات کو کھلی نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسوسناک طور پر دنیا اس المیے کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ مختلف ممالک کے عوام فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں، مگر بہت سی حکومتیں یا تو امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے خوفزدہ ہیں یا پھر ان کی پالیسیوں میں شریک ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یورپ میں فلسطینیوں کے حق میں عوامی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں اور بعض ممالک میں اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے بائیکاٹ کی کوششیں ہو رہی ہیں، جن کے اثرات اسرائیلی معیشت پر بھی پڑے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق سب سے بڑی ذمہ داری مغربی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔
فرانسسکا البانیز نے دنیا بھر کے عوام اور حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی حمایت کرنے والے اداروں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں اور ایسے معاشی و مالی تعلقات ختم کریں جو اس جارحیت کو تقویت دیتے ہیں۔ انہوں نے اس جدوجہد کو جنوبی افریقہ کے اپارتھائیڈ نظام کے خلاف عالمی تحریک سے تشبیہ دی۔
انہوں نے مغربی ممالک، خصوصاً اٹلی، فرانس، جرمنی اور برطانیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بچانے کے لیے اپنی ہی عوامی آوازوں کو دبانے میں مصروف ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹر نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، جن کی توثیق عالمی عدالتِ انصاف بھی کر چکی ہے، غزہ، مغربی کنارے اور القدس سمیت فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہے اور اسے مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی سرزمین کو اس کے عوام کے بغیر چاہتا ہے اور جب تک وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا، تشدد اور نسل کشی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے مطابق محض اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کافی نہیں، کیونکہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک منظم دہشت گردی ہے۔
آخر میں فرانسسکا البانیز نے کہا کہ فلسطینی عوام کو ہمدردی نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے عملی نفاذ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ اقتصادی، مالی، عسکری اور اسٹریٹجک تعلقات کا خاتمہ، اور بائیکاٹ و عدم سرمایہ کاری جیسے اقدامات ہی اس ظلم کو روکنے کے مؤثر ذرائع ہیں، جن میں دنیا کے ہر فرد کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کی الجزیرہ چینل کی نشریات روکنے کی کوشش،وجہ؟

?️ 23 فروری 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں الجزیرہ کی نشریات روکنے کی قابضین کی

صیہونی آبادکاروں کا مسجد اقصی پر وحشیانہ حملہ

?️ 10 جولائی 2021سچ خبریں:صیہونی آبادکاروں نےصیہونی پولیس کی حمایت سے آج ہفتے کے روز

عمران خان نے ہدایات دی ہیں کہ آپس کے اختلافات ختم کریں،تمام رہنماء 5 اگست کی تحریک کی تیاریاں کریں، بیرسٹرگوہر

?️ 17 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا

روس نے جمہوریہ چیک کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا

?️ 19 اپریل 2021ماسکو (سچ خبریں) روس نے جمہوریہ چیک کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے

کیا زمینی حملے کی صورت میں اسرائیل حزب اللہ کا مقابلہ کر سکے گا؟

?️ 1 اکتوبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے سینئر رکن محمود قماطی نے قابض اسرائیلی

کسی سے بلیک میل ہوں گے نہ ہی مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے، رانا ثنا اللہ

?️ 8 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ

سلیمان فرانجیہ عون کے حق میں لبنانی صدارتی امیدواری سے دستبردار

?️ 9 جنوری 2025سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ میں ملک کے صدر کے انتخاب کے لیے

صارفین کو بجلی کے ترسیلی نقصانات سے بچانے کیلئے 151 ارب روپے کی سبسڈی

?️ 13 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے