عالمی خاموشی کے درمیان اسرائیل نسل کشی سے لفطف اندوز ہو رہا ہے

غزہ میں لوگ بھوک اور قحط کی وجہ سے سڑکوں پر زندگی کی بازی ہار رہے ہیں

?️

عالمی خاموشی کے درمیان اسرائیل نسل کشی سے لفطف اندوز ہو رہا ہے

غزہ میں جاری قحط، قتل عام اور اجتماعی نقل مکانی ایک ایسی المناک داستان بن چکی ہے جس پر دنیا کی خاموشی انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔

غزہ کے صحافیوں کی آواز جو اندھیرے خیموں سے بھوک اور خون کے سائے میں نکلتی ہے دنیا سے انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے لیکن عالمی ضمیر گویا سو چکا ہے۔

2007 سے اسرائیل نے غزہ کو دنیا کا سب سے بڑا کھلا جیل خانہ بنا رکھا ہے۔ خوراک، دوا، پانی اور بجلی کی بندش روز کا معمول ہے۔ اسرائیلی افواج کے منظم حملے، شہری آبادی، اسپتالوں اور پناہ گاہوں کو ملبے میں بدل چکے ہیں۔غزہ اب ایک ایسی جگہ بن چکی ہے جہاں زندہ رہنا ایک معجزہ بن گیا ہے۔

غیر عسکری آبادی، خواتین، بچے، بزرگ سب نشانے پر ہیں۔ اسرائیل نہ صرف جسموں کو مار رہا ہے، بلکہ غزہ کی اجتماعی شناخت کو مٹانے پر تُلا ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق 70 فیصد سے زائد رہائشی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔ تقریباً 1.9 ملین افراد جبری طور پر بے گھر ہو چکے ہیں یہ 1948 کی نکبہ کے بعد سب سے بڑا انسانی المیہ ہے۔

اسرائیل نے بھوک کو جنگی ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے۔ بازار خالی، اشیائے خور و نوش ناپید، اور قحط زدہ ماؤں کی آہوں سے فضا بوجھل ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز، مریض، یہاں تک کہ بچوں کو بھی دن بھر میں ایک وقت کا کھانا نہیں ملتا۔اب بھوک سے موت صرف ایک خدشہ نہیں، ایک روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔صحافی بھی خود خبر بن گئے

غزہ کے صحافی، جن کا کام دنیا کو حالات سے آگاہ کرنا ہے، خود اب فاجعے کا حصہ بن چکے ہیں۔الجزیرہ کے صحافی انس شریف نے لکھا:خدا کی قسم، بازار چھان مارے، کچھ بھی نہیں نہ آٹا، نہ سبزی، نہ خوراک۔

فلسطینی رپورٹر محمد ابوسعدہ کو شدید بھوک کے باعث اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ ناہض حجاج نے لکھا: "ہم سب مر رہے ہیں۔ اگر کل ہم خبر نہ دے سکے تو حیران نہ ہونا۔

خیموں کے سائے میں، خالی معدوں کے ساتھ غزہ کے رپورٹر چیخ رہے ہیں تحریر کیجیے، بولیے، چیخیے کہیں ایسا نہ ہو کہ غزہ بھوک کی ایسی قبر میں دفن ہو جائے جسے کوئی یاد بھی نہ کرے۔

غزہ کی نسل کشی ایک حادثہ نہیں، ایک منصوبہ ہے۔ بھوک، بیماری، اور جبری ہجرت، جنگ کے نتائج نہیں بلکہ نسلی صفائی کے ہتھیار بن چکے ہیں،عالمی برادری کو چاہیے کہ فوری طور پر غزہ کا محاصرہ ختم کرے، امدادی راستے کھولے، اسرائیل کو جنگی جرائم پر جواب دہ بنائے، اور آوارہ فلسطینیوں کی واپسی و تعمیر نو کی ضمانت دے۔

 

مشہور خبریں۔

دھرنوں میں اہلکاروں کو شہید اور زخمی کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں، وزیراعظم

?️ 3 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے انتشار پھیلانے والوں کے

ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا ردعمل

?️ 11 مئی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے بعد

اسد قیصر نے وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس گمراہ کن پروپیگنڈہ قرار دیدی

?️ 17 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے رہنماء اسد قیصر نے

جولانی: اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں

?️ 26 جون 2025سچ خبریں: "احمد الشعراء”، جسے "ابو محمد الشعراء” کے نام سے جانا

2022 کی گرمی میں 61 ہزار یورپی ہلاک

?️ 11 جولائی 2023سچ خبریں:نئی تحقیق کے مطابق گزشتہ موسم گرما میں شدید گرمی کی

متحدہ عرب امارات کے صدر کی فرانس کے صدر سے ملاقات

?️ 18 جولائی 2022سچ خبریں:   متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان نے

ٹرمپ نے صدرِ کلمبیا کو منشیات مخالف مہم کا اگلا ہدف قرار دے دیا

?️ 12 دسمبر 2025 ٹرمپ نے صدرِ کلمبیا کو منشیات مخالف مہم کا اگلا ہدف

وزیراعظم کی نیشنل شپنگ کارپوریشن کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت

?️ 18 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل شپنگ کارپوریشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے