جمہوری رہنماؤں کی زبردست فتح؛ امریکی مقامی اور ریاستی انتخابات سے ٹرمپ باہر

ٹرمپ

?️

سچ خبریں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2024 کے صدارتی انتخابات جیتنے کے صرف ایک سال بعد، امریکہ میں ہونے والے مقامی اور ریاستی انتخابات کے نتائج سے ڈیموکریٹس پارٹی کی کئی اہم ریاستوں بشمول کیلیفورنیا، ورجینیا اور نیو جرسی میں زبردست فتح کا اشارہ ملا ہے۔
ورجینیا میں، ڈیموکریٹس پارٹی کی ابیگیل اسپینبرگر نے ریپبلکن پارٹی کے لیفٹیننٹ گورنر ونسنٹ ایرل سیرز کو کافی واضع فرق سے شکست دی۔
اسی طرح نیو جرسی میں، ڈیموکریٹس امیدوار مکی شیرل نے ریپبلکن تاجر جیک سیٹاریلی کے خلاف مقابلہ جیت لیا۔
نیویارک میں، ووٹروں نے ریاست کے سابق گورنر اینڈریو کومو کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، ڈیموکریٹس پارٹی کی ترقی پسند شخصیت زہران ممتانی کو نئے میئر کے طور پر منتخب کیا۔
تاہم، سب سے اہم تبدیلی کیلیفورنیا میں دیکھنے میں آئی، جہاں ووٹروں نے کثیر اکثریت سے ‘پروپوزیشن 50’ کو منظوری دی۔ اس تجویز کے تحت، ریاست کے ڈیموکریٹ قانون ساز 2026 کے midterm انتخابات سے پہلے، کانگریس کے انتخابی حلقوں کی حدود دوبارہ ترتیب دے سکیں گے اور ڈیموکریٹس کے حق میں پانچ نئی نشستیں بنا سکیں گے۔
یہ تجویز غیر جانبدار حدود بنانے والی کمیٹی کے کام کو عارضی طور پر معطل کر دے گی اور اس کی اختیارات ریاستی قانون ساز اسمبلی کے حوالے کر دے گی۔ قانون کے مطابق، 2030 کی مردم شماری کے بعد غیر جانبدار کمیٹی اپنا کام دوبارہ شروع کرے گی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تجویز کی منظوری، ٹیکساس میں ریپبلکن کے حق میں ہونے والی انتخابی حدود کی تبدیلی کا براہ راست جواب ہے، ایک ایسا اقدام جس کی شخصی طور پر صدر ٹرمپ نے حوصلہ افزائی کی تھی۔
ریپبلکن کے شکست اور ڈیموکریٹس کی فتح پر ردعمل
اوہائیو کے ریپبلکن گورنر امیدوار وویک راماسوامی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں۔ ہماری پارٹی کو ان نتائج سے سبق سیکھنا چاہیے۔
ریپبلکن کی شکست پر صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ سوشل’ پر ایک بار پھر سینیٹ میں فلی بسٹر قانون (60 ووٹوں کی شرط) کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ریپبلکن کو انتخابی قوانین میں اصلاحات کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
سابق صدر بارک اوباما، جنہوں نے انتخابات سے پہلے کے دنوں میں نیو جرسی اور ورجینیا میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی مہم چلائی تھی، نے ان کی فتح پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جب ہم دور اندیش اور ہمداد قائدین کے گرد جمع ہوتے ہیں تو ہم جیت سکتے ہیں۔ ابھی بہت کام باقی ہے اور مستقبل روشن ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ انتخابات کے نتائج ووٹروں کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے بیزاری کی علامت ہیں۔
دوسری جانب، کئی ریاستوں میں انتخابی حلقوں کی حدود کی نئی سرحد بندی کی لہر کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا کی دو اہم سیاسی جماعتیں 2026 کے midterm انتخابات سے قبل سیاسی اور قانونی کشمکش کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں۔

مشہور خبریں۔

غیرقانونی تارکین وطن کے انخلا کا فیصلہ بین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق ہے، دفتر خارجہ

?️ 30 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ غیرقانونی تارکین

افغان حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے ہیں۔ خواجہ آصف

?️ 12 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

ہماری وجہ سے اب تک زلنسکی زندہ اور اقتدار میں ہے:امریکی پارلیمنٹ اسپیکر 

?️ 3 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے یوکرینی صدر

اسرائیل ہماری آنکھوں کے سامنے ٹوٹ رہا ہے: ایہود باراک

?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے خبردار کیا ہے

لاکھوں افراد ٹرمپ کی مواخذے کی مہم کے حامی

?️ 14 مارچ 2025سچ خبریں: امریکی کانگریس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع

یورپی یونین کی جانب سے صیہونی نئی کابینہ کا خیرمقدم

?️ 14 جون 2021سچ خبریں:کونسل آف یورپ کے صدر نے ایک پیغام میں صیہونی حکومت

گلاسز کے بغیر 3 ڈی ڈسپلے کرنے والا لیپ ٹاپ متعارف کروا دیا گیا

?️ 17 اکتوبر 2021تائیوان (سچ خبریں)معروف کمپنی ایسر نے گلاسز کے بغیر تھری ڈی ٹیکنالوجی

مسئلہ فلسطین کو تباہ کرنا امریکہ اور مغرب کی سازش ہے: فیصل مقداد

?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں:  شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے آج سہ پہر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے