امریکی وزیر خارجہ بار بار مشرق وسطی کیوں دوڑے چلے آتے ہیں ؟

امریکی

?️

سچ خبریں: غزہ کے مسئلے کے بعد دوسرے روایتی اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں انصاراللہ کی طاقت کو روکنا اور کنٹرول کرنا امریکہ کا مطالبہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن غزہ جنگ کے گزشتہ تین ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ کے اپنے چوتھے علاقائی دورے پر ایک نئے سفری دورے پر جمعہ سے اپنا بوریا بستر اٹھا کر ترکی، یونان، اردن، قطر ، سعودی عرب کے بعد مقبوضہ فلسطین پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں: یمنیوں کا بین الاقوامی جہاز رانی کے بارے میں عالمی برادری سے خطاب

اس سفر کے پردے کے پیچھے کیا ہے اور بلنکن کیا لے کر آئے ہیں؟

تھوڑی سی بصیرت سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ میں امریکی وزیر خارجہ نے جن ممالک کا دورہ کیا ہے ان میں سے ہر ایک کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر یہ کہ یونان اور ترکی صیہونیوں کے لیے خوراک اور ایندھن کے اہم سپلائی کرنے والے سمجھے جاتے ہیں،اس لیے اس سفر کا ایک حصہ ان ممالک کو تل ابیب کی حمایت جاری رکھنے پر راضی کرنا ہے۔

اگلا نکتہ یہ ہے کہ غزہ کی جنگ کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور رائے عامہ اور مغربی اور عرب ممالک کا میڈیا فلسطینی عوام کی امنگوں بالخصوص غزہ میں مزاحمت کی حمایت کر رہا ہے جو اس بات کا باعث بنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انسانی ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر اور غزہ کے لوگوں کی مدد کا بہانہ بنا کر نیز عارضی جنگ بندی کے منصوبوں کا جائزہ لینے کی آڑ میں مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں۔

بلنکن نے خاص طور پر انقرہ اور قاہرہ سے کہا ہے کہ وہ بحران میں ثالثی کریں اور سفارتی اور میڈیا دباؤ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے حماس کو تل ابیب کو رعایت دینے پر مجبور کریں، خاص طور پر اسرائیلی فوجی قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں۔

مزید پڑھیں: کیا امریکہ بحیرہ احمر کو فوجی بنانا چاہتا ہے؟

غزہ کے مسئلے کے بعد اپنے روایتی اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں انصاراللہ کی طاقت کو روکنا اور کنٹرول کرنا امریکہ کا دوسرا مطالبہ ہے، درحقیقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ بلنکن کا خطے کا چوتھا دورہ واشنگٹن کے روایتی اتحادیوں سے حوثیوں کی فوجی طاقت کو روکنے اور باب المندب میں بحری اتحاد میں شرکت کی ایک قسم کی درخواست ہے۔

آخر میں خطے میں بلنکن کے گھومنے کا پورا مقصد تل ابیب کو غزہ کی دلدل سے نکالنا اور رائے عامہ کی نظروں میں اس حکومت کی ساکھ کو خاص طور پر قابضین کے ان گنت جرائم کے بعد مکمل طور پر گرنے سے روکنا ہے ۔

مشہور خبریں۔

لبنان کی حزب اللہ کا نیا شاہکار

?️ 10 جون 2024سچ خبریں: 7 اکتوبر 2023 کےالاقصیٰ طوفان آپریشن کو روکنے میں اسرائیل کی

افغانستان میں انسانی بحران بچنے کے لئے عالمی اشتراک کی ضرورت ہے

?️ 24 نومبر 2021راولپنڈی(سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے

غیرفعال جی میل اکاؤنٹس دو دن بعد ختم کردیے جائیں گے

?️ 29 نومبر 2023سچ خبریں: ای میل کے لیے گوگل کی جی میل کا استعمال

انصاراللہ یمن کے حملوں کی وجہ سے صیہونی بندرگاہ کا دیوالیہ

?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: انصاراللہ یمن کے حملوں کے باعث صیہونی ایلات بندرگاہ کی

سابق آرمی چیف کو توسیع دینے کیلئے سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے تھے، سپریم کورٹ

?️ 25 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں

مغرب یوکرین کے بحران کی ذمہ داری سے دستبردار ہونا چاہتا ہے: روس

?️ 16 مئی 2023سچ خبریں:روسی فیڈریشن کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گرشکو کا کہنا ہے

لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری 

?️ 9 مئی 2026 سچ خبریں:لبنان کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی

غزہ جنگ کے شعلے کہاں تک اسرائیل کو جلا رہے ہیں؟

?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں: امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے