?️
سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی معاہدے کے اعلان کے بعد امریکی کانگریس میں مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں، جہاں بعض سینیٹرز نے سفارت کاری کی حمایت کی جبکہ دیگر نے معاہدے کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے اور جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کے ابتدائی معاہدے کے اعلان کے بعد امریکی کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اراکین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
ڈیموکریٹ سینیٹر اور سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے تھک چکے ہیں کہ ٹرمپ بار بار دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی ہے، جبکہ اس معاہدے کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں لائی جا رہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ فوری طور پر امریکی عوام کو اس مبینہ معاہدے کے بارے میں آگاہ کریں اور اس کی مکمل تفصیلات جاری کریں۔ ان کے مطابق امریکی عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ جانیں کہ یہ جنگ کس بنیاد پر ختم ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
چک شومر نے مزید کہا کہ کانگریس کی قیادت کو بھی اس معاہدے سے متعلق بریفنگ دی جانی چاہیے تاکہ قانون ساز ادارہ مکمل طور پر صورتحال سے آگاہ ہو سکے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مورفی نے ایران کے ساتھ جنگ کو ایک مکمل تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نہیں چاہتے کہ عوام اس معاہدے کی تفصیلات دیکھیں کیونکہ اس سے جنگ کی ناکامی واضح ہو جائے گی۔
دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے سفارت کاری کے ذریعے حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے رویے کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ جوہری تنازع کا پرامن حل نکالا جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران معمول کے رویے کی طرف واپس آتا ہے تو اس پر عائد پابندیاں نرم کی جا سکتی ہیں، تاہم ان کے مطابق یہ سوال برقرار ہے کہ آیا ایران کی موجودہ قیادت عالمی نظام کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔
ریپبلکن سینیٹر رک اسکاٹ نے ایران کے منجمد اثاثوں کو آزاد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقوم کسی بھی صورت ایران کو نہیں دی جانی چاہئیں اور انہیں امریکی فوجی کارروائیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایران کو براہ راست کوئی رقم نہیں دے رہا، تاہم بعض حالات میں منجمد اثاثوں کی جزوی رہائی پر بات ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ایران طویل المدتی جوہری معاہدے پر عمل کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کانگریس میں اٹھنے والے سوالات کے جواب میں کہا کہ وہ اپنے اتحادی سینیٹر لنڈسے گراہم سے اس معاملے پر بات کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق طے پانے والے معاہدے کے تحت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کر دی گئی ہیں اور ایران پر بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔


مشہور خبریں۔
ایرانی چیف آف آرمی اسٹاف کا اپنے ملک کے دشمنوں کو خطرناک انتباہ
?️ 16 جون 2021سچ خبریں:ایرانی مسلح افواد کے سربراہ نے ایران کے دشمنوں کو انبتاہ
جون
کوپ-27 کے ’لاس اینڈ ڈیمیج‘ فنڈ پر عملی اقدامات ضروری ہیں، وزیراعظم
?️ 2 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے شرم الشیخ کانفرنس میں ترقی
دسمبر
یمن میں انسانی تباہی کو روکنے کے لیے 172 قانونی تنظیموں کی درخواست
?️ 26 جنوری 2023سچ خبریں:انسانی حقوق کی 172 بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں نے یمن
جنوری
غزہ کے پناہ گزین کیمپوں اور مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری
?️ 20 جولائی 2026سچ خبریں: المیادین نیٹ ورک کے نامہ نگار نے رپورٹ کیا ہے
جولائی
بجٹ معاہدے میں ناکامی کے بعد امریکی حکومت بندش کا شکار
?️ 1 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی حکومت نے بجٹ کے حوالے سے ضروری قانون سازی
اکتوبر
مسقط میں ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات کا دوسرا مرحلہ مکمل
?️ 6 فروری 2026مسقط میں ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات کا دوسرا مرحلہ مکمل
فروری
ضمنی انتخابات کیلئے پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات کرنے کی منظوری
?️ 22 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے 23 نومبر کو ہونے والے
نومبر
مشرقی حلب میں شدید جھڑپیں ؛ گولانی کا ایک سپاہی ہلاک
?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: شام کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ قسد
اگست