?️
سچ خبریں:عالمی میڈیا نے ایران کے خلاف جنگ کے فوجی، سیاسی اور اقتصادی اثرات، امریکی جنگی اخراجات، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، علاقائی کشیدگی اور مذاکرات کی صورتحال پر مختلف رپورٹس شائع کی ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد، نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہوئے بلکہ مغربی حکام اور امریکی میڈیا کے اعترافات کے مطابق، جارحین کو اس جنگ میں تزویراتی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز سے اب تک، اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد پورے نہیں ہوسکے۔ اس کے برعکس، مغربی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، جارحین کو تزویراتی تعطل اور میدان جنگ سمیت سیاسی محاذ پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ جنگ بڑے پیمانے پر حملوں اور عام شہریوں، بالخصوص بے گناہ طلبہ، کی ہلاکتوں کے ساتھ شروع ہوئی اور جلد ہی اس کے انسانی، سکیورٹی اور اقتصادی اثرات وسیع ہوگئے، جس پر عالمی میڈیا میں مختلف ردعمل سامنے آئے۔
دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان رپورٹوں اور تبصروں کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتحال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
برطانوی میڈیا
برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ کیا کہ امریکی ایوان نمائندگان نے جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور کرکے تیسری مرتبہ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس رائے شماری میں قرارداد کے حق میں 220 اور مخالفت میں 204 ووٹ پڑے، جبکہ مزید چند ریپبلکن ارکان بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ شامل ہوگئے۔
یہ اقدام وسط مدتی انتخابات سے قبل ایوان نمائندگان کی آخری رائے شماری ہے۔ تاہم، اب تک ان میں سے کوئی قرارداد صدر ٹرمپ کی میز تک نہیں پہنچی، اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ اسے ویٹو کردیں گے۔
گارڈین کے مطابق، یہ ووٹنگ کانگریس کے بجٹ دفتر (CBO) کی رپورٹ جاری ہونے کے چند گھنٹے بعد ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جنگ پر کم از کم 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں، جبکہ امریکی دفاعی میزائلوں کے ذخائر دوبارہ بھرنے میں ممکنہ طور پر کم از کم 5 سال لگیں گے۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ جاری رہنے کے ہر ماہ اخراجات میں تقریباً 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ کانگریس کے بجٹ دفتر نے خبردار کیا کہ پیٹریاٹ، تھاڈ اور بحری میزائلوں کے ذخائر میں کمی، تائیوان کے حوالے سے کسی فرضی تصادم کی صورت میں خصوصاً سنگین مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ چین کے پاس بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا بڑا ذخیرہ ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
گارڈین نے مزید لکھا کہ پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی پیر کے روز جاری ہونے والی رپورٹ نے بھی تصدیق کی کہ امریکہ نے صرف 30 جون تک گولہ بارود پر 22.3 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ مجموعی اخراجات 33.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ رپورٹ میں اسٹریٹجک ذخائر کی کمی اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی میں صنعتی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی۔
کانگریس کے بجٹ دفتر نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کو سابقہ اندازوں کے مقابلے میں مزید نصف فیصد بڑھا دیا ہے۔ جنگ سے پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت 64 ڈالر تھی، جو بڑھ کر عروج پر 103 ڈالر تک پہنچ گئی۔
امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے نے نکول رسل کے ایک تجزیہ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد سے شروع کی تھی، لیکن تقریباً 7 ماہ گزرنے کے باوجود یہ جنگ کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ اس کے بجائے، اس نے سنگین اقتصادی خلل پیدا کیا اور ریپبلکنز کے اندر بھی بڑھتی ہوئی ناراضی کو جنم دیا۔
رپورٹ کے مطابق، یمن کی انصاراللہ تحریک کے ڈرون حملوں میں سعودی عرب کی مشرق۔مغرب تیل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکہ کے تزویراتی تیل کے ذخائر گھٹ کر 285 ملین بیرل رہ گئے، جو 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 109 ڈالر سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی خام تیل تقریباً 105 ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ 16 ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔
تجزیہ میں مزید کہا گیا کہ امریکہ میں پٹرول کی قیمت 4.32 ڈالر فی گیلن اور ڈیزل کی قیمت ریکارڈ 6 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ سالانہ مہنگائی کی شرح بھی بڑھ کر 3.4 فیصد ہوگئی۔
این بی سی نیوز کے ایک نئے سروے کے مطابق، 70 فیصد ووٹرز جنگ سے متعلق ٹرمپ کی حکمت عملی کی حمایت نہیں کرتے۔ ریپبلکنز میں ان کی بھرپور حمایت 18 پوائنٹس کم ہوکر 30 فیصد رہ گئی، جبکہ میک امریکا گریٹ اگین (MAGA) کے حامیوں میں یہ کمی 21 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی۔
تجزیہ نگار نے ٹرمپ کے بار بار کیے گئے، لیکن پورے نہ ہونے والے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تازہ دھمکیوں میں نئی پابندیاں عائد کرنے اور یہ دعویٰ شامل ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ مصنف نے لکھا کہ انہیں شرط لگانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ایرانی حکومت شاید ان کی سوشل میڈیا پوسٹس پڑھتی بھی نہیں، چہ جائیکہ ان سے پریشان ہو۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران کا وینزویلا سے موازنہ کرنے کو غلطی قرار دیتے ہوئے مصنف نے نتیجہ اخذ کیا کہ امریکی صدر ایران میں پھنس چکے ہیں اور وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ ختم کرنے کے وعدے کے سوا ان کے پاس کوئی حقیقی منصوبہ نہیں۔
تجزیہ میں بنیادی سوال اٹھایا گیا ہے: ایران کی جنگ امریکی عوام سے اقتصادی استحکام، اعتبار اور صدر کی توجہ چھین رہی ہے۔ لیکن اس کی قیمت کیا ہے؟
امریکی جریدے ٹائم نے اپنی ایک رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ جنگ کے ساتویں مہینے میں بھی لڑائی ختم ہونے کے لیے کوئی واضح ٹائم ٹیبل موجود نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں پیش گوئی کی تھی کہ جنگ 4 سے 5 ہفتے جاری رہے گی، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران تیزی سے اور شدت کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
تاہم، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری محسن رضائی نے سخت لہجے میں جواب دیا: امریکی صدر کے متضاد اشاروں سے گمراہ نہ ہوں۔ ایران کی شرائط پوری ہونے تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ بس۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے علی واعظ نے ٹائم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار ٹرمپ کے طرز عمل پر ہوگا۔ ان کے بقول، اگر ان کا رویہ زیادہ سے زیادہ مطالبات پر مبنی ہوا تو کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔
ٹائم نے مزید لکھا کہ یمن کی انصاراللہ تحریک کی جانب سے آبنائے باب المندب میں جزیرہ پریم پر قبضے نے ایران کو دباؤ ڈالنے کا ایک نیا ذریعہ فراہم کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، باب المندب سے گزرنے والے تیل کی مقدار پہلی سہ ماہی میں روزانہ 5.6 ملین بیرل سے بڑھ کر دوسری سہ ماہی میں 8.1 ملین بیرل ہوگئی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار ڈینیئل بنعیم نے کہا: اقتصادی قوت کے مقابلے میں بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز کی بندش کے خلاف ایک حفاظتی راستے کے طور پر کام کررہا ہے۔
ٹائم نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر بتایا کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے صرف 10 بحری جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ تعداد 138 تھی۔ جریدے کے مطابق، پابندیوں کو بائی پاس کرنے کی امریکی صلاحیت اور ناکہ بندی نافذ کرنے کی ایران کی صلاحیت کے درمیان مقابلہ مذاکرات کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
عرب میڈیا
الجزیرہ نے آبنائے ہرمز سے باب المندب تک؛ حوثیوں کے ذریعے ایران کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور بحری جہاز رانی کے تحفظ کا استعمال کے عنوان سے ایک تجزیہ میں لکھا کہ مشرق وسطیٰ کے بحری راستے، جن میں آبنائے ہرمز اور باب المندب شامل ہیں، تجارتی گزرگاہوں سے علاقائی اثرورسوخ کی کشمکش کے میدان میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
تجزیہ نگار نے زور دیا کہ ایران بحری جغرافیے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اپنے ہم خیال مسلح گروہوں کی حمایت کے ذریعے حریفوں پر دباؤ کا دائرہ وسیع کررہا ہے۔ اس حکمت عملی میں یمن کی حوثی تحریک ایک اہم کڑی ہے۔
تجزیہ کے مطابق، ایران کی جانب سے حوثیوں کو فوجی، تکنیکی اور سیاسی حمایت فراہم کیے جانے سے ان کی میزائل، ڈرون اور بحری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے نتیجے میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرہ یمن کے ساحلوں سے باب المندب تک پھیل گیا ہے۔
تاہم، تجزیہ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حوثی محض ایران کا آلۂ کار نہیں ہیں بلکہ اپنے داخلی مقاصد بھی رکھتے ہیں، اگرچہ دونوں فریقوں کے اہداف میں تزویراتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
تجزیہ میں کہا گیا کہ باب المندب کی سکیورٹی صرف بحری افواج کی موجودگی سے یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔ اس کے لیے یمن کی حکومت کا اپنی سرزمین، ساحلوں، بندرگاہوں اور جزائر پر کنٹرول بحال کرنا، سرکاری فورسز کو مضبوط بنانا، علاقائی اور بین الاقوامی تعاون بڑھانا اور حوثیوں کی بیرونی حمایت کے ذرائع کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔
المیادین نے اپنے ایک تجزیہ میں وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے تیل کی قیمتوں، نقل و حمل، بیمے، پیداواری لاگت اور بالآخر مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی بینکوں کے فیصلے بھی متاثر ہوں گے۔
تجزیہ کے مطابق، جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں۔ یہی جغرافیائی اہمیت اسے عالمی معیشت کے حساس ترین مقامات میں شامل کرتی ہے۔
تجزیہ میں مزید کہا گیا کہ عالمی معیشت نے خلیج فارس سے باہر تیل کی پیداوار میں اضافے اور تزویراتی و تجارتی ذخائر سے تیل نکال کر تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کا کچھ حصہ برداشت کیا ہے، لیکن ذخائر میں کمی مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت محدود کردیتی ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے صنعت، زراعت، نقل و حمل، خوراک اور اجرتوں کے اخراجات بھی بڑھتے ہیں، جس سے مہنگائی زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتی ہے۔
تجزیہ نگار نے زور دیا کہ اس صورتحال نے امریکی فیڈرل ریزرو کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ شرح سود بڑھانے سے اقتصادی ترقی اور روزگار متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ شرح کم کرنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
شرح سود بلند رہنے سے قرضوں اور حکومتی واجبات کے اخراجات بڑھتے ہیں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک پر دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈالر مضبوط ہونے سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
نتیجتاً، آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والے اس بحران کے مالی اور افراط زر کے اثرات تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
روزنامہ رأی الیوم نے امریکہ کی ایران سے دشمنی کی 10 وجوہات کے عنوان سے ایک تجزیہ میں اس کشمکش کی جڑیں ایران کی استقامت اور خودمختاری، 1979 کے انقلاب کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت، تہران کی مزاحمتی گروہوں کی حمایت اور خطے میں امریکی مفادات کو چیلنج کرنے میں تلاش کی ہیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق، واشنگٹن کو عرب ممالک میں ایران کے خودمختاری کے ماڈل کے پھیلاؤ پر بھی تشویش ہے۔ یوکرین کی جنگ میں تہران اور ماسکو کے تعاون کو بھی کشیدگی کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔
مصنف کا خیال ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی موجودگی کو اسرائیل کی حمایت اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے جواز کے تحت پیش کرتا ہے، جبکہ ان کے بقول ایران کے پاس ایسا کوئی ہتھیار موجود نہیں۔
تجزیہ میں یہ بھی استدلال کیا گیا کہ خلیج فارس کے بعض ممالک ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور اس تصور نے تہران کے خلاف امریکی پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے۔
الأشعل نے آگے چل کر ٹرمپ کی پالیسیوں اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر تنقید کی اور پیش گوئی کی کہ اس طرز عمل کے جاری رہنے سے خطے میں امریکہ کا اثرورسوخ کم ہوسکتا ہے اور سیاسی توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔
روسی اور چینی میڈیا
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے ماسکو کو ایران کے مسئلے کے حل کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی شرائط پر پیش رفت نظر نہیں آتی کے عنوان سے ایک رپورٹ میں لکھا کہ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق صورتحال میں ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے کہ مسئلے کا سیاسی حل واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے خطے پر مسلط کردہ شرائط کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہو۔
ریابکوف کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل اب بھی خطے کی صورتحال میں دباؤ اور براہ راست فوجی مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کے بقول، لڑائی جلد ختم ہونے کے امکانات سے متعلق اقدامات اور بیانات کے باوجود یہ طرز عمل جاری ہے۔
انٹرفیکس نے ایک اقتصادی رپورٹ میں بلومبرگ کے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ سعودی عرب مشرق۔مغرب تیل پائپ لائن کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ پائپ لائن گزشتہ ہفتے ڈرون حملوں کے باعث بند ہوگئی تھی، اور سعودی حکام اسے آئندہ چند دنوں میں سابقہ گنجائش کے تقریباً نصف کے ساتھ دوبارہ چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی آرامکو متاثرہ حصے کو بائی پاس کرکے محدود پیمانے پر تیل کی ترسیل بحال کرنا چاہتی ہے، جبکہ پائپ لائن کی مکمل مرمت میں تقریباً 6 ہفتے لگیں گے۔
تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ گنجائش رکھنے والی یہ پائپ لائن سعودی تیل کو بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع تک پہنچاتی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل برآمد کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔
چینی اخبار چائنا ڈیلی نے نئے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یمن کی انصاراللہ تحریک اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے سے علاقائی خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
چائنا ڈیلی نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے حوالے سے بتایا کہ پیر کے روز انصاراللہ کے میزائل اور ڈرون حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے، جبکہ 7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
انصاراللہ نے بھی اعلان کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے اپنے زیر کنٹرول علاقوں پر 300 سے زائد فضائی حملوں کے جواب میں اس نے شاہ خالد ایئر بیس پر درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔
چائنا ڈیلی نے حالیہ دنوں میں یمن کے اندر 100 ہزار سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا ذکر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اسی دوران، ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ ال گایا نامی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کے بعد سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہوگیا۔
تاہم، امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ تیل بردار جہاز کو گزشتہ ماہ ایرانی میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
چینی میڈیا نے پاسداران انقلاب کی جانب سے چند روز کے دوران چوتھے امریکی MQ-1 ڈرون کو روکنے اور تباہ کرنے کی خبر بھی دی، جبکہ مذاکرات کے امکان پر ٹرمپ اور ایرانی حکام کے مختلف مؤقف کا بھی ذکر کیا۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی شہداء کے جسم کے اعضاء کی چوری
?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: ناصر میڈیکل کمپلیکس کے التحریر ہسپتال کے ڈائریکٹر احمد الفرا
نومبر
یوکرین کے پاس جوہری ہتھیار ہیں: جنرل پولش
?️ 9 فروری 2023سچ خبریں: پولینڈ کی زمینی فوج کے سابق کمانڈر جنرل والدیمار اسکرزیبچک
فروری
صیہونیوں کو اسلحہ دینے کے بارے میں کینیڈا کا اہم فیصلہ
?️ 11 ستمبر 2024سچ خبریں: کینیڈا کی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر غزہ کی
ستمبر
شہید ہنیہ کا قتل ایک گستاخانہ جرم تھا
?️ 2 اگست 2024سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے آج
اگست
ٹرمپ کا نیا قدم؛ مادورو کے بھتیجوں اور وینزویلا کے متعدد ٹینکرز پر پابندیاں
?️ 12 دسمبر 2025سچ خبریں: اخباری ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت نے
دسمبر
یاسمین راشد نے بیرون ملک جانے والے افرادکو خوشخبری سنا دی
?️ 3 جولائی 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے بیرون جانے والے افراد
جولائی
کیا اسرائیل نے غزہ جنگ کا ایک بھی مقصد حاصل کیا ہے؟صیہونی میڈیا
?️ 20 اپریل 2024سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اسرائیلی حکام کی جنگ کے اہداف کو
اپریل
آئندہ انتخابات کے لیے عراقی وزیر اعظم کا اتحاد
?️ 21 مئی 2025سچ خبریں: عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السودانی نے ملک کے آئندہ
مئی