چین نے کیسے امریکہ اور یورپ کو سیاسی مار دی؟امریکی میگزین کی رپورٹ

چین نے کیسے امریکہ اور یورپ کو سیاسی مار دی؟امریکی میگزین کی رپورٹ

?️

سچ خبریں:چین نے پچھلے دو دہائیوں میں زیادہ تر قرضے ترقی یافتہ ممالک خصوصاً امریکہ اور یورپ کو دیئے، جس سے عالمی سیاست، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی اثرورسوخ میں بیجنگ کی طاقت بڑھ گئی۔

امریکی میگزین نیوزویک نے ایک جامع تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین نے اپنی مالیاتی حکمتِ عملی کے تحت سب سے زیادہ قرضے ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً امریکہ، کو فراہم کیے تاکہ اپنی قومی طاقت، ٹیکنالوجی اور جیوپولیٹیکل اثرورسوخ میں اضافہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:چین نے قرضوں کے ذریعے امریکہ اور یورپ میں کس طرح اثر و رسوخ بڑھایا؟

یہ تحقیق امریکہ کی ریاست ورجینیا میں قائم "کالج ولیم اینڈ میری” کے تحقیقی مرکز AidData نے تیار کی ہے، جس میں چینی قرضوں کے بارے میں روایتی دھاروں اور سابقہ مفروضوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔

نیوزویک کے مطابق 24 سالہ بین الاقوامی مالیاتی ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چین کا سب سے بڑا قرض لینے والا ملک خود امریکہ ہے، جس سے یہ عام تصور ٹوٹ جاتا ہے کہ چین صرف ترقی پذیر ممالک کو قرض دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2000 سے 2023 تک چین نے مجموعی طور پر 2.2 ٹریلین ڈالر کے بیرونی قرضے جاری کیے۔ 130 محققین پر مشتمل ٹیم نے 217 ممالک میں 30 ہزار سے زائد مالیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا، جس میں امریکہ 202 ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے، روس 172 ارب، آسٹریلیا 130 ارب اور وینیزویلا 106 ارب ڈالر کے ساتھ بعد کے مقامات پر ہیں۔

تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ قرضوں کے حوالے سے چین کا نقطہ نظر محض ترقی پذیر معیشتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اہداف زیادہ وسیع اور اسٹریٹجک ہیں۔ اگرچہ عموماً "بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” کو ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کا منصوبہ سمجھا جاتا ہے، لیکن رپورٹ بتاتی ہے کہ چین کے قرضوں کا 75 فیصد سے زیادہ حصہ امیر ممالک کو دیا گیا اور اس کے پس منظر میں واضح سیاسی، سکیورٹی اور تکنیکی مقاصد کارفرما ہیں۔

AidData کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برَڈ پارکس کہتے ہیں کہ چین کی اصل قرض دہی "پچھلے تمام اندازوں سے دو سے چار گنا زیادہ” ہے۔ ان کے مطابق یہ فنڈنگ زیادہ تر اہم بنیادی ڈھانچے، اسٹریٹجک معدنیات، اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی خریداری پر خرچ کی گئی۔

نیوزویک کے مطابق چین اپنے جیوپولیٹیکل مفادات کے لیے "اقتصادی ڈپلومیسی” کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد عالمی ٹیکنالوجی اور صنعت میں قیادت حاصل کرنا اور مغرب خصوصاً امریکہ کو پیچھے چھوڑنا ہے۔

مزید یہ کہ اس پالیسی کا اثر خود مغرب کی پالیسیوں میں بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ٹرمپ اور بائیڈن دونوں ادوار میں چین کے ماڈل کی نقل کی، جیسے یونان، گرین لینڈ، پاناما اور آسٹریلیا میں بندرگاہوں اور اہم معدنی وسائل میں سرمایہ کاری۔ حتیٰ کہ امریکہ کا 20 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج برائے ارجنٹینا بھی اسی چینی طرز کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس رجحان نے امریکی داخلی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں پیدا کیں۔ مثال کے طور پر USAID کے کچھ شعبوں کے خاتمے اور وسائل کو Development Finance Corporation کو منتقل کرنے کی تجاویز اسی وجہ سے سامنے آئیں، تاکہ قرض دہی کی حد 60 ارب سے بڑھا کر 250 ارب ڈالر کی جاسکے۔

مزید پڑھیں:امریکہ چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں ایماندار نہیں: چینی میڈیا

رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ چین کے اس مالیاتی ماڈل نے مغربی ممالک کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے مالیاتی اور امدادی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائیں۔ تاہم چین کا مرکزی فائدہ یہ ہے کہ اس کا حکومتی نظام نجی کمپنیوں کی سرگرمیوں کو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتا ہے، جبکہ مغربی جمہوریتوں میں یہ صلاحیت کمزور ہے۔ یہی عنصر عالمی مسابقت میں چین کی پوزیشن مزید مضبوط کرسکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

دوشنبے میں وزیر اعظم اور ایرانی صدر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی

?️ 17 ستمبر 2021دشنبے(سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر پر

ہندوستان اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی صنعت کا گاہک ہے

?️ 6 جنوری 2026سچ خبریں: یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ہندوستان اسرائیلی ہتھیاروں اور

مادورو کے مبینہ اغوا کو ایک ماہ گزرنے کے بعد وینزویلا میں احتجاج

?️ 4 فروری 2026مادورو کے مبینہ اغوا کو ایک ماہ گزرنے کے بعد وینزویلا میں

بھارت کبھی نہیں چاہتا تھا مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھے۔ شیری رحمان

?️ 11 مئی 2025کراچی (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا

پاکستان کی دنیا میں امن و رواداری کے فروغ کیلئے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان شراکت داری کی تجویز

?️ 23 ستمبر 2025نیویارک: (سچ خبریں) پاکستان نے دنیا میں امن و رواداری کے فروغ

مغربی کنارے میں خوف اور دہشت پھیلانے میں تل ابیب کی پالیسی

?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: المیادین نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی عناصر نے

دہشتگردی کا خاتمہ: پاکستان اور افغان طالبان میں مذاکرات کل استنبول میں ہوں گے

?️ 5 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا

بھارتی جارحیت عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کیلئے سفارتی کمیٹی کا اجلاس

?️ 20 مئی 2025کراچی (سچ خبریں) بھارت کی جارحیت اور پروپیگنڈے کو عالمی سطح پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے