پنجاب میں حمزہ شریف کے لیے مشکلات تابحال برقرار

?️

لاہور(سچ خبریں)پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی قانون سازوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے ملاقات کی تاکہ منحرف قانون سازوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں مشترکہ حکمت عملی بنائی جاسکے۔

اسی دوران پاکستان تحریک انصاف نے صوبائی چیف ایگزیکٹو کو ہٹانے کے لیے عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے۔

میڈیارپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرنے کا عندیہ بھی دیا تاہم اگلے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد ہی۔

ساتھ ہی پارٹی نے حمزہ کو ہٹانے کے لیے اپنی مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کے لیے مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔

دوسری جانب حسن مرتضیٰ کی قیادت میں پی پی پی کے قانون سازوں نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے گورنر پنجاب اور اسپیکر کے عہدوں کے لیے بظاہر محروم رکھنے کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب میں کم از کم چار وزارتوں اور کچھ مشاورتی عہدوں پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

اس ضمن میں پی پی پی کے قانون سازوں نے حمزہ شہباز کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ وزیراعلیٰ کے لیے رن آف پول ہونے کی صورت میں پریشان نہ ہوں۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت دونوں نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے اثرات پر بات کرنے کے لیے قانونی ماہرین سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

اس پیش رفت کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو وہ نئے وزیراعلیٰ کے لیے رن آف الیکشن کے لیے تیار ہے۔

ادھر پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ ‘لوٹوں’ کی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے بعد حمزہ وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے اور اگر وہ فوری طور پر مستعفی نہیں ہوئے تو پارٹی انہیں گھر بھیجنے کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔

تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حمزہ شہباز استعفیٰ نہیں دیں گے اور اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور پنجاب دونوں حکومتیں (اگست 2023 تک) اپنی مدت پوری کریں گی۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب کے سیکریٹری جنرل اویس لغاری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے کہا ہے کہ وہ پنجاب میں آئینی بحران کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور گورنر کا تقرر کریں تاکہ صوبائی کابینہ تشکیل دی جا سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کو بہاولپور سے پارٹی کے وفادار بلیغ الرحمٰن کو گورنر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کی سمری بھیجی تھی تاہم صدر علوی اسے قبول نہیں کر رہے۔

مشہور خبریں۔

تمام صوبوں کو شامل نہیں کیا گیا تو پاکستان کبھی ترقی نہیں کرے گا، شہباز شریف

?️ 13 دسمبر 2022سکھر: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز  شریف نے کہا ہے کہ پاکستان

نیتن یاہو کے بیٹے کی نظر میں صیہونی ریاست میں کیسی جمہوریت ہے؟

?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیٹے یائیر نیتن یاہو نے

مودی پاکستان سے نفرت کرتا ہے وہ انتقام لے گا، قوم نے متحد اور الرٹ رہنا ہے، عمران خان

?️ 13 مئی 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کا

لبنان میں اسرائیل کی مستقل موجودگی فریم ورک معاہدے کے خلاف: امریکہ

?️ 13 اگست 2026سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے نیوز ویب سائٹ

امریکی وفاقی حکومت کو جزوی شٹ ڈاؤن کا سامنا

?️ 31 جنوری 2026سچ خبریں:ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان ہوم لینڈ سکیورٹی کے بجٹ پر

ایران نے فلسطینیوں کی کامیابی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے غزہ نامی ڈرون کی رونمائی کردی

?️ 22 مئی 2021تہران (سچ خبریں) ایران نے فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی دہشت گردی

امریکہ اور نیٹو نے سلامتی کی ضمانتوں سے متعلق روس کے خدشات کو نظر انداز کیا: کریملن

?️ 27 جنوری 2022سچ خبریں: دمتری پیسکوف نے آج کہا کہ کہ ایسا نہیں ہے

شیخ زکزاکی کی آزادی میں رکاوٹیں

?️ 30 مارچ 2021سچ خبریں:نائیجیریا میں شیخ زکزاکی کے نمائندے نے کہا کہ صیہونی سعودی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے