مغربی میڈیا میں سڈنی کے جرائم اور غزہ کی نسل کشی کی عکاسی

غزہ

?️

سچ خبریں: سڈنی کے بانڈی ساحل پر شہریوں کے اجتماع پر مسلح حملہ، جس کے نتیجے میں درجناں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، قطعی طور پر قابل مذمت ہے۔
 دنیا کے کسی بھی خطے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا، ان کے مذہب اور شناخت سے بالاتر ہو کر، انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس کی کوئی توجیہہ نہیں بنتی۔ تاہم، اس حملے کی مذمت، مغربی میڈیا کے بیانیے کے انداز اور شہریوں کے خلاف تشدد — خاص طور پر فلسطین میں — کے بارے میں انہی میڈیا کی خاموشی یا منتخب رویے کے تقابل پر تنقید میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
تشدد بلا امتیاز مذموم ہے
یہ بات صراحت کے ساتھ کہی جانا ضروری ہے کہ تشدد، خاص طور پر جب عام شہریوں کو نشانہ بنے، ہر شکل اور ہر جغرافیائی مقام پر قابل مذمت ہے۔ کوئی مقصد، نعرہ یا دعویٰ شہریوں کے قتل کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔ یہی اصول تمام تجزیوں کی بنیاد ہونا چاہیے۔ آسٹریلیا کے سڈنی واقعے کے حوالے سے بھی، یہ حملہ نہ تو کوئی "احتجاج” تھا اور نہ ہی "سیاسی پیغام”، بلکہ ایک بے ہدف اور تباہ کن کارروائی تھی جس نے معصوم جانوں کا زیاں کیا۔ اس بات پر زور اس لیے اہم ہے کہ مغربی میڈیا اور حکومتوں پر آئندہ تنقید کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس حملے کی مذمت میں کوئی تردید ہے۔
حملے کی مذمت اور بیانیے پر تنقید؛ دو متوازی راستے
واقعے کے اصل جوہر کی مذمت کا مطلب، مغربی میڈیا کی بیانیہ سازی کے انداز کی مکمل طور پر تائید ہرگز نہیں ہے۔ یہ دو الگ موضوعات ہیں۔ سڈنی میں یہودی تقریب پر حملے کے فوری بعد مغربی میین اسٹریم میڈیا نے خبریں دیتے وقت ایک ایسا فریم ورک استعمال کیا جس پر "قومی صدمہ”، "معاشرے کے لیے خطرہ” اور "یکجہتی کی ضرورت” کا زور تھا اور جذباتی فضا قائم کی گئی۔ اگرچہ یہ فریم ورک متاثرین کے ساتھ ہمدردی کے حوالے سے قابل فہم ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ ایک "منتخب” روایت بن جاتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے: کیا یہی میڈیا دیگر انسانی المیوں، خاص طور پر فلسطین میں ہونے والے واقعات کے سامنے اسی حساسیت، ہمدردی اور وسیع کوریج کا مظاہرہ کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہی میڈیا پر جائز تنقید کی بنیاد ہے۔
متاثرین کی عکاسی میں دوہلے معیار
مغربی میڈیا کوریج میں سب سے واضح تضاد سڈنی کے متاثرین اور فلسطین میں تشدد کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ برتاؤ میں فرق ہے۔ بانڈی ساحل کے واقعے میں میڈیا نے فوری طور پر متاثرین کے نام، ان کی ذاتی زندگیوں کے بارے میں بتایا اور جذباتی تصاویر و بیانیے شائع کیے، جس سے عوامی ہمدردی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے برعکس، غزہ میں ہزاروں خواتین اور بچے جو بمباری، محاصرے اور فوجی حملوں کا نشانہ بنے، زیادہ تر خشک اعداد و شمار کی شکل میں پیش کیے جاتے ہیں۔ مغربی عوام تک ان کے نام اور چہرے کم ہی پہنچتے ہیں۔ یہ فرق اتفاقی نہیں بلکہ ایک امتیازی سوچ کی عکاس ہے جو انسانی جان کی قیمت کا تعین سیاسی و جغرافیائی محل وقوع سے کرتی ہے، نہ کہ محض انسان ہونے کے اصول سے۔
ہمدردی کے مستحق متاثرین کی تعیین میں سیاست کا کردار
یہ دوہلا معیار ظاہر کرتا ہے کہ مغربی میڈیا کے بیانیے میں "ہمدردی کے مستحق متاثرین” کا تصویر بہت سیاسی ہو چکا ہے۔ وہ متاثرین جو مغرب کے سیاسی مفادات کے دائرے میں آتے ہیں، فوری طور پر دیکھے اور سنے جاتے ہیں، جبکہ وہ متاثرین جو مغرب کے اتحادیوں — خاص طور پر اسرائیل — کی پالیسیوں سے متعلق ہیں، یا تو نظر انداز کر دیے جاتے ہیں یا انہیں "سیکیورٹی” کے جواز سے ہمدردی کے دائرے سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ اخلاقی طور پر دفاعی ہے اور نہ ہی عوامی اعتماد کو برقرار رکھتا ہے۔
احمد الاحمد؛ شناخت کی سرحدوں سے بالاتر انسانی عمل
اس کشیدہ ماحول میں آسٹریلیائی مسلم شہری احمد الاحمد کا اقدام، جس نے بے جگری دکھاتے ہوئے حملہ آور کا ہتھیار چھین لیا، صحیح طور پر سراہا گیا۔ یہ رویہ اندھی تشدد کے سامنے انسانی عمل کی مثال ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اخلاقی ذمہ داری مشکل ترین لمحات میں بھی سامنے آ سکتی ہے۔ احمد الاحمد نے نہ تو کسی سیاسی کارکن کے طور پر اور نہ ہی کسی خاص مذہب کے نمائندے کے طور پر، بلکہ ایک عام انسان کی حیثیت سے دوسروں کی جانیں بچانے کا فیصلہ کیا۔ یہی اس عمل کی اصل قدر ہے۔ یہ روایت اپنا مثبت پیغام تب تک برقرار رکھ سکتی ہے جب تک اسے سیاسی اور پراپیگنڈے کے استعمال سے دور رکھا جائے۔
انسانی بیانیوں کے ممکنہ استعمال
مغربی میڈیا کا احمد الاحمد کی مذہبی شناخت پر زور، ظاہری طور پر ہم آہنگی اور کثیرالثقافتی معاشرے کے لیے تھا، لیکن اس کا ایک پوشیدہ مقصد بھی ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار ایسی روایت سازی اس طرح کی جاتی ہے کہ اسے "اچھے اسلام” کو غرب اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف کسی بھی سیاسی احتجاج سے الگ کرنے اور غزہ کے مظالم پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں کی آواز کو پس پشت ڈالنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایسا رویہ ظاہری طور پر انسانی دکھائی دے سکتا ہے، لیکن گہرائی میں عوامی رائے کی ہیئت سازی کا حصہ ہے۔
خشونت کی توجیہ کے بغیر مغربی پالیسیوں پر تنقید
مغربی میڈیا اور سیاسی دوہلے معیارات پر تنقید کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ سڈنی میں یہودی تقریب پر حملے کو جواز فراہم کیا جائے یا اس کی شدت کو کم سمجھا جائے۔ اصولی موقف واضح ہے: دنیا کے کسی بھی خطے میں شہریوں پر حملہ قابل مذمت ہے۔ بالکل اسی اخلاقی موقف کی بنیاد پر یہ سوال اٹھانا جائز ہے کہ جو حکومتیں اور میڈیا آج بانڈی ساحل کی دہشت گردی کی سختی سے مذمت کر رہے ہیں، وہ فلسطینی شہریوں کے وسیع پیمانے پر قتل کے سامنے خاموش کیوں ہیں یا اسے "جائز دفاع” جیسے الفاظ سے کیوں جواز فراہم کرتے ہیں؟ یہی تضاد مغرب کے "دہشت گردی مخالف” بیانیے کی اخلاقی جوازیت کو کمزور کرتا ہے۔
بانڈی ساحل اور غزہ؛ دو ردعمل، ایک اخلاقی معیار
اگر دہشت گردی کی مذمت کرنی ہے، تو یہ ایک مستقل اور عالمگیر معیار پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات پر۔ بانڈی ساحل کے لوگوں پر حملہ اسی طرح مذموم ہے جس طرح غزہ میں گھروں، ہسپتالوں اور پناہ گزیں کیمپوں پر بمباری مذموم ہے۔ ان دونوں میں فرق کرنا نہ انسانی نقطہ نظر سے قابل دفاع ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانونی لحاظ سے قابل قبول۔ یہی دوہرا پن دراصل وہ نقطہ ہے جہاں میڈیا اور سیاسی تنقید کو مرکوز ہونا چاہیے۔
نتیجہ
سڈنی کا واقعہ عام شہریوں کے خلاف ایک حملہ تھا اور یہ مکمل اور بلا شرط طور پر قابل مذمت ہے۔ لیکن اس مذمت کا صحیح معنی اور اعتماد تب ہی قائم ہو سکتا ہے جب یہ دنیا بھر میں تشدد کا نشانہ بننے والے تمام متاثرین کے لیے یکساں اور بلا امتیاز ہو۔ اگر انسانی جان قابل قدر ہے، تو یہ قدر منتخب نہیں ہونی چاہیے۔ اگر تشدد قابل مذمت ہے، تو یہ مذمت آسٹریلیا سے لے کر غزہ تک، اس کی ہر شکل پر لاگو ہونی چاہیے۔ صرف ایسے رویے سے ہی اندھی تشدد کا مقابلہ ممکن ہے اور منتخب اور سیاسی بیانیوں کے جال میں پھنسنے سے بچتے ہوئے انسانی و اخلاقی اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکہ کے یونیفل کے حوالے سے منفی رویے پر تنقید کی

?️ 21 اگست 2025لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکہ کے یونیفل کے حوالے سے

سیکیورٹی فورسز کا جنوبی وزیرستان میں آپریشن، 4 خارجی دہشت گرد ہلاک

?️ 3 نومبر 2024وزیرستان: (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان

دنیا میں امریکی مداخلت | برازیل میں اصلاحات کے خلاف ۲۱ بغاوت

?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں:  1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد، امریکہ

دنیا امریکہ سے نفرت کرتی ہے: ترک وزیر داخلہ

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویلو  نے واشنگٹن حکومت پر اپنی

بانی پی ٹی آئی کا حکومت اور فوج کو پیغام

?️ 5 اگست 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے غیر ملکی

لبنان میں پھٹنے والے وائرلیس آلات کس ماڈل کے تھے؟

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنان میں حالیہ دھماکوں کے دوران استعمال ہونے والے وائرلیس

اسلام آباد ہائیکورٹ کا گٹھ جوڑ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیل کیلئے بنایا گیا، علی ظفر

?️ 14 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ میں سیاسی جماعتوں کو پُر امن جلسے

گزشتہ 40 سال میں زمین کتنی بدل چکی ہے؟جانئے اس رپورٹ میں

?️ 16 اپریل 2021نیویارک(سچ خبریں)امریکی خلائی ادارے ناسا اور گوگل نے کچھ ویڈیوز جاری کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے