سڈنی میں ایک مسلمان شہری نے نیتن یاہو کے منصوبوں میں کیسے خلل ڈالا؟

سڈنی

?️

سچ خبریں: آسٹریلوی حکام نے سڈنی کے معروف بانڈی ساحل پر ہونوکا کے تہوار کے موقع پر ہونے والے مسلح حملے کو ایک مجرمانہ فعل قرار دیا ہے جس کی تحقیقات کی جانی چاہیں، جس میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔
 تاہم، اسرائیلی حکام نے واقعے کے فوراً بعد ہی اسے اپنے مستند دعووں یعنی یہود مخالف نفرت اور فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے حوالے سے منسلک کرنے کی کوشش کی ہے۔
واقعے کے پس منظر میں ایک مسلمان شہری احمد الاحمد کا بہادرانہ اقدام سامنے آیا، جس نے حملہ آوروں میں سے ایک کو سبکدوش کر کے حملے کے منصوبے میں رکاوٹ پیدا کردی۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل اسرائیلی حکومت کی طرف سے واقعے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کے برعکس ہے۔
ماہرین کا تجزیہ: سیاست اور حقائق کا فرق
آسٹریلیا کی اسلامی کونسلوں کے اتحاد کے صدر راتب جنید کا مؤقف ہے کہ اس حملے کا جائزہ سیاسی مقاصد سے بالاتر ہو کر لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں غیر فوجی شہریوں پر کسی بھی قسم کے حملے کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔
اسرائیلی امور کے ماہر محمد مصطفیٰ کے مطابق، وزیر اعظم نیتن یاہو اس حملے سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور اسے غزہ کی جنگ اور فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے احتجاج سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ تاہم، حملے کی تفصیلات اور ایک مسلمان شہری کی طرف سے جانیں بچانے اور حملہ آور کو سبکدوش کرنے کا عمل ان منصوبوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ثابت ہوا۔
عرب و اسلامی دنیا کے امور کے تجزیہ کار صلاح الدین القادری نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کی عوامی رائے اب یہودیت بطور الٰہی عقیدہ اور صہیونیت بطور سیاسی منصوبے کے درمیان فرق کرتی ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل اب فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کو یہود مخالف قرار دے کر عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتا۔
حملے کے منظر عام پر آنے والے حقائق
حملے کی تحقیقات کے دوران منظر عام پر آنے والے حقائق کے مطابق:
• حملے میں استعمال ہونے والے 6 ہتھیار حملہ آوروں میں سے ایک کی قانونی ملکیت تھے، جو خود حملے میں ہلاک ہوا۔
• حملہ آوروں کے باپ بیٹے تھے۔ باپ کو آسٹریلیا میں طالب علم ویزے پر لایا گیا تھا، جبکہ بیٹا آسٹریلیا میں پیدا ہوا تھا۔
• آسٹریلوی حکام قوانین میں سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔
بین الاقوامی رد عمل اور حفاظتی اقدامات
حملے کے بعد دنیا بھر میں یہودی برادریوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے واضح کیا کہ یہ حملہ یہودی آسٹریلوی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے تھا۔

مشہور خبریں۔

1.2 ملین عراقی اب بھی کیمپوں میں رہتے ہیں: بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت

?️ 15 دسمبر 2021سچ خبریں:بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرتIOM نے ایک رپورٹ میں کہا ہے

ہمیشہ خطرہ مول لینے والے کی ہی جیت ہوتی ہے: وزیر اعظم

?️ 26 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیشہ خطرہ

بھارت کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے بل پر دبانے کی پالیسی پر مسلسل عمل پیرا ہے، حریت کانفرنس

?️ 19 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

ہمارا مقصد یوکرین کو غیر مسلح کرنا ہے: روس

?️ 17 مارچ 2022سچ خبریں:روسی صدر نے کہا کہ یوکرین کی جنگ میں روسی فوجی

نیہا ککڑ کا خودکشی کے حوالے سے اہم انکشاف

?️ 28 جون 2021ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ کی مقبول ترین گلوکارہ نیہا ککڑ کے تلخ

شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ترکی کی کوششیں

?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ترکی

اپوزیشن نے چیلنج کرنے سے قوانین کو پڑھا بھی نہیں

?️ 19 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ

غزہ مکمل طور پر قحطی کا شکار

?️ 3 مئی 2025سچ خبریں: ڈاکٹر عبدالرحمٰن، فلسطینی تحریک حماس کے ایک اعلیٰ رہنما، نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے