?️
سچ خبریں: محور مقاومت کوئی ایسا واقعہ نہیں جو یکدم وجود میں آیا ہو، بلکہ اس کی جڑیں معاشرے، ثقافت، شناخت، مذہب اور خطے کی تاریخ میں پیوست ہیں، جہاں عوام نے بارہا استعماری اور صہیونی جارحیت کو جھیلا اور ہر بار اسی مٹی سے پھر اُبھرے۔
ایران کے اسلامی انقلاب نے دکھایا کہ عوامی عزم سامراجی طاقتوں کے گڑھے گراسکتا ہے، اور لبنان کی حزب اللہ نے ۲۰۰۶ میں اسرائیلی فوج کو پسپائی پر مجبور کیا۔ یہ کامیابیاں مذاکراتی میز پر نہیں، بلکہ جنگ کے میدان میں حاصل ہوئیں۔
۲۰۱۴ میں عراق کی حشد شعبی نے ایسے وقت داعش کا مقابلہ کیا، جب سرکاری فوج اور حکومت گرنے کے قریب تھیں اور نجف و کربلا اشغال سے چند کلومیٹر دور تھے۔ یمن کے انصار اللہ نے سات سال کی فضائی، بحری اور زمینی ناکہ بندی کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالے اور میزائل و ڈرون کے ذریعے علاقائی توازنِ قوت میں اپنا کردار ادا کیا۔
آج یہ محور محض ایک فوجی اتحاد نہیں، بلکہ ایک شناختی منصوبہ ہے جو مزاحمت کے تجربے، شہداء کے خون اور مشترکہ اجتماعی یادداشت سے تقویت پاتا ہے، جسے کوئی بیرونی دباؤ مٹا نہیں سکتا۔ اس پس منظر میں ہم یمن، لبنان اور عراق کی مزاحمتی قوتوں کے پیچیدہ حالات میں کردار کا جائزہ لیتے ہیں۔
یمنی خنجر باب المندب کی دھڑکن
انصار اللہ، جو برسوں کی بمباری اور محاصرے کے باوجود قائم ہے، اب فعال بازدارندگی اور معاملات کی زبان میں گفتگو کر رہا ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب کے ابھا ہوائی اڈے پر حملہ اس مرحلے کا واضح عملی پیغام تھا، جس نے ہوائی اڈے کے بدلے ہوائی اڈے کے نظریے کو عملی جامع پہنایا۔
یہ حملہ ریاض کی جانب سے صنعاء ہوائی اڈے پر حملے کے خلاف براہِ راست جواب تھا، جس نے جنگ کو حریف کی سرزمین پر منتقل کر دیا۔ اس کے ساتھ سعدہ میں انتباہی متحرک مظاہروں نے انسانی وسائل کی مکمل تیاری کا اظہار کیا۔ باب المندب، جو عالمی بحری تجارت کے ۱۸ فیصد کا راستہ ہے، انصار اللہ کے نزدیک ایک دباؤ کا ہتھیار ہے جسے ابھی مکمل استعمال نہیں کیا گیا، مگر یہ عالمی معیشت کے لیے واضح پیغام ہے۔
دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے سعودی اور اماراتی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اس تهدید کو حقیقی حکمت عملی میں بدل دیتی ہے۔ اس عرصے کی سب سے جری اعلان قطر کے العدید اور کویت کے علی السالم ائیربیسز کو جائز اہداف قرار دینا تھا، جس نے میزبان ممالک کو غیر جانبدار کا حصار توڑ دیا۔ اس پیچیدہ علاقائی شطرنج میں یمن سائے سے فعال کھلاڑی بن کر ابھرا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اس دروازے کی کنجی اور حریف پر مسلط کردہ لاگت ہی کسی مذاکرے کی اصل کلید ہوگی۔
حزب اللہ زندہ ہے
لبنان کی حزب اللہ، متعدد محاذوں پر بیک وقت دباؤ کے باوجود، مزاحمت کو اپنی سرزمین کے دفاع کا واحد جائز اور ناگزیر راستہ قرار دیتی ہے اور لبنان کی آزادی و سالمیت کا دفاع کرتی ہے۔ جوزف عون کی حکومت نے ۲۶ جون ۲۰۲۶ کو اسرائیل کے ساتھ فریم ورک معاہدہ کرکے وہ حاصل کرنے کی کوشش کی جو جنگ میں نہ ملا، تاہم حزب اللہ اسے تسلیم کا معاہدہ کہتی ہے اور اس پر عملدرآمد کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔
صدر جوزف عون نے اسرائیلی جارحیت روکنے، مہاجرین کی واپسی اور قیدیوں کی رہائی کے وعدے پورے نہیں کیے، اور بعبدا محل مزاحمت کے خلاف جہت کا پلیٹ فارم بن گیا۔ حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ نہ سرکاری دباؤ، نہ بیرونی دباؤ اور نہ مزاحمت کو جرم قرار دینے کی کوششیں اسے راستے سے ہٹا سکتی ہیں۔ مزاحمتی ہتھیار جمع نہیں کرائے جائیں گے، کیونکہ یہ شہداء کے خون سے وجود میں آیا ہے اور لبنان کا مستقبل نہ امریکی ہوگا نہ صہیونی۔
عراق میں پیچیدہ میدان
امریکی صدر ٹرمپ کی نئے عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات میں مزاحمتی گروہوں کو غیرمسلح کرنے اور داخلی دھڑوں کی انہیں سرکاری ڈھانچے میں ضم کرنے کی کوششوں کے باوجود، عراقی مزاحمت علاقائی محور کی ریڑھ کی ہڈی بنی ہوئی ہے۔ ۲۰۱۴ کا تجربہ اور داعش کے خلاف حشد شعبی کا فیصلہ کن کردار ثابت کرتا ہے کہ سرکاری فوج اکیلے عراق کی سالمیت کا تحفظ نہیں کر سکتی۔
یہ میدانی حقیقت مزاحمتی گروہوں کی غیرمسلحی کی مہم کے خلاف سب سے بڑی دفاعی قوت ہے۔ اس تناظر میں گردانهای سیدالشهداء کے ترجمان اور شیخ کاظم الفرطوسی نے کہا کہ سرکاری عہدوں کے بدلے ہتھیار جمع کرانا قوم اور ملک سے غداری ہے۔ عراق کی کتائب حزب اللہ نے داخلی حدود سے آگے بڑھتے ہوئے ایران کی جنگ کی صورت میں حمایت کا اعلان کیا اور اسے سیاسی مفاد نہیں، بلکہ عقیدہ و ایمان کا تقاضا قرار دیا۔
محور مقاومت کی امتیازی خصوصیت
محور مقاومت کو علاقائی اتحادوں سے الگ کرنے والی چیز محض فوجی طاقت یا جغرافیائی وسعت نہیں، بلکہ نرم طاقت ہے جو ایک زندہ ثقافت سے ابھرتی ہے۔ یہ ثقافت شہادت کو انجام نہیں، آغاز سمجھتی ہے اور ظلم کے خلاف مزاحمت کو سیاسی انتخاب نہیں، بلکہ دینی اور انسانی فریضہ قرار دیتی ہے۔
جب سعدہ کے لوگ غزہ کے بھائیوں کے لیے رویتے ہیں، جب کربلا کے جنگجو تہران کے دفاع کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور جب جنوبی لبنان کے لوگ خالی ہاتھ ٹینکوں کا سامنا کرتے ہیں، تو ان مناظر کے پیچھے ایک مشترکہ بیانیہ ہے۔ یہ بیانیہ نہ امریکہ خرید سکتا ہے، نہ اسرائیل بمباری سے مٹا سکتا ہے، اور نہ کوئی مسلط معاہدہ اسے بےاثر کر سکتا ہے۔ آج محور مقاومت میدانوں کی وحدت کی حکمت عملی کے تحت نئی جنگ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے تاکہ اپنے وجود کو جارحیت کے خلاف دوبارہ محفوظ کر سکے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اسرائیل میں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہوں:سابق صہیونی فوجی سربراہ
?️ 26 جولائی 2025 اسرائیل میں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہوں:سابق صہیونی فوجی سربراہ اسرائیلی
جولائی
عالمی انصاف کے امتحان میں اقوام متحدہ؛ روس کی طاقت کی دوبارہ تقسیم کی تجویز
?️ 4 مئی 2025سچ خبریں: جب کہ سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے کی نا اہلی
مئی
آئینی ترامیم کا معاملہ اب ’ایس سی او سمٹ‘ کے بعد دیکھا جائے گا، جے یو آئی (ف) کا دعویٰ
?️ 9 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) جمیت علمائے اسلام (ف) نے دعویٰ کیا ہے
اکتوبر
کراچی صحتمند ہوگا تو پاکستان صحتمند ہوگا، جہاں تک ممکن ہوسکا مسائل حل کریں گے، محسن نقوی
?️ 7 جولائی 2025کراچی: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ
جولائی
امریکہ کا پولرائزیشن ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے: رابرٹ گیٹس
?️ 18 اکتوبر 2021سچ خبریں: ریپبلکن جس نے آٹھ امریکی صدر کی انتظامیہ میں خدمات
اکتوبر
زلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے کیسے باہر نکالا گیا؟
?️ 2 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے وضاحت کی
مارچ
اسد کا تختہ الٹنے میں کون کون شامل تھا ؟
?️ 10 دسمبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کی نیوز سائٹ واللا نیوز کے ملٹری رپورٹر
دسمبر
کسی کے لئے آئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کرسکتے،الیکشن کمیشن
?️ 5 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} الیکشن کمیشن میں بروز جمعہ 5 مارچ کو
مارچ