?️
سچ خبریں:اسرائیل میں آئندہ حکومت خواہ کسی بھی سیاسی جماعت یا اتحاد کے ذریعے تشکیل پائے، اسے بھاری عوامی قرضوں، بڑھتے فوجی اخراجات، رہائشی بحران، مذہبی طبقے کو مالی معاونت اور ماہر افرادی قوت کی بیرون ملک ہجرت جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔
خبر رساں ادارے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے نتائج سے قطع نظر نئی حکومت کو پیچیدہ اقتصادی اور سیاسی معاملات سے نمٹنا پڑے گا۔
1: 2027 کے عام بجٹ کی منظوری
اسرائیل کی نئی حکومت کے لیے سب سے اہم اور فوری کام 2027 کے بجٹ کی منظوری ہوگا۔ بین الاقوامی ادارے اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں اس بجٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ کمی کر چکی ہیں۔
غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف جنگوں کے لیے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافے کے باعث اسرائیل کے عوامی قرضوں کا مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) سے تناسب، غزہ کی جنگ سے پہلے کے 59 فیصد سے بڑھ کر اب تقریباً 70 فیصد ہو گیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق، اگر نیتن یاہو کے فوجی اخراجات بڑھانے کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا تو 2035 تک یہ تناسب 85 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
عالمی بینک کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل کی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار تقریباً 610 ارب ڈالر ہے۔ اس حساب سے اسرائیل کے عوامی قرضوں کی مالیت 366 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگوں کے اخراجات پورے کرنے اور قرضوں کے شدید بحران سے بچنے کے لیے نئی حکومت کو وسیع مالیاتی اصلاحات کرنا پڑیں گی۔ ان اصلاحات میں ٹیکسوں میں اضافہ اور مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
2: فوجی اخراجات میں اضافہ
رواں سال اسرائیل کے فوجی اخراجات اس کی مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً 8 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ تناسب مغربی ممالک سمیت دیگر ملکوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
نیتن یاہو نے فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے 12 سال کے دوران 145 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔
اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو اخراجات پورے کرنے کی خاطر قرضوں میں اضافہ، ٹیکسوں میں اضافے، سرکاری اخراجات میں کٹوتی یا ان اقدامات کے امتزاج جیسے راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔
3: رہائشی بحران کا مقابلہ
صیہونی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق، اسرائیل میں رہائشی بحران ایک ایسے ٹائم بم کی مانند ہے جس کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
نئی حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے بیک وقت دو محاذوں پر کام کرنا ہوگا: مکانات کی خریداری کی قیمتوں میں کمی اور کرائے کے لیے ایک مستحکم رہائشی منڈی کا قیام۔ اس کے ساتھ رہائشی یونٹوں کی فراہمی میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔
غزہ کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تعمیراتی شعبے کو مقامی اور غیر ملکی مزدوروں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
صیہونی حکومت کو شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ حزب اللہ کے حملوں کے خدشے کے باعث بہت سے لوگوں نے ان علاقوں کو مستقل طور پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ افراد اب حکومت سے وسیع مالی معاونت اور ٹیکس مراعات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے علاقوں میں واپس آ سکیں۔
4: حریدی یہودیوں کی مالی معاونت
اس وقت اسرائیل میں بالغ آبادی کے صرف 60 فیصد افراد افرادی قوت میں شامل ہیں۔ یدیعوت آحارونوت نے اس شرح کو انتہائی کم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی حکومت کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
حریدی کہلانے والے مذہبی یہودیوں کی بڑی تعداد اپنی زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سرکاری مالی معاونت حاصل کرتی ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد فوج میں بھی خدمات انجام نہیں دیتے۔ یہودی مذہبی جماعتیں نیتن یاہو کی حکومت کے اتحادی اتحاد کی تشکیل میں ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مذہبی یہودی آبادی میں مسلسل اضافے کے ساتھ، جس میں خاندان کی تشکیل اور زیادہ بچوں کی پیدائش کو ترجیح دی جاتی ہے، ان افراد کی مالی معاونت کا بوجھ حکومت پر مزید بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب، ان کی جانب سے فوجی خدمات انجام نہ دینے کے معاملے سے صیہونی فوج پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
5: ماہر افرادی قوت کی بیرون ملک ہجرت
تل ابیب یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق، جسے بلومبرگ نے شائع کیا، کے مطابق 2023 اور 2024 کے دوران تقریباً ایک لاکھ صیہونی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے۔ یہ تعداد اس سے پہلے کے برسوں میں ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
ہجرت کرنے والوں میں بڑی تعداد ماہرین تعلیم، انجینئروں، ڈاکٹروں اور زیادہ آمدنی رکھنے والے دیگر پیشہ ور افراد کی تھی۔ ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رجحان 2025 میں بھی جاری رہا۔
غزہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے بعد ہجرت کی اس لہر میں شدت آئی۔ رپورٹ کے مطابق، بہت سے صیہونیوں نے فوج کے ریزرو دستوں میں بار بار طلب کیے جانے سے بچنے اور میزائل حملوں سے دور رہنے کے لیے بیرون ملک منتقل ہونے کا راستہ اختیار کیا۔


مشہور خبریں۔
موساد کے نئے سربراہ کے ایران کا مقابلہ کرنے کے منصوبے
?️ 3 جون 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت کی جاسوس تنظیم موساد کے نئے سربراہ نے ڈیوڈ
جون
ایک ہفتے میں 10 لاکھ سے زائد امریکی بچے کورونا کا شکار
?️ 27 جنوری 2022سچ خبریں: امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کا کہنا ہے کہ 20 جنوری
جنوری
کراچی کا اگلا میئر ہمارے ووٹوں سے منتخب ہوگا، پی ٹی آئی
?️ 9 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) کراچی کی بقیہ یونین کمیٹیوں پر ہونے والے ضمنی
مئی
پوپ نے ایران امریکہ مفاہمت کا کیا خیرمقدم
?️ 17 جون 2026 سچ خبریں: کیتھولک دنیا کے رہنما پوپ فرانسس نے ریاستہائے متحدہ
جون
غزہ جنگ کے بارے میں مذاکرات کو کون ناکام بنا رہا ہے؟صہیونی اخبار کی زبانی
?️ 11 مارچ 2024سچ خبریں: ایک صہیونی اخبار نے اعتراف کیا کہ تل ابیب اسرائیلی
مارچ
ایک پوسٹ لائک کرنے پر 15 سال قید کی سزا
?️ 23 اکتوبر 2022سچ خبریں:سعودی عرب کی حکومت نے 2020 میں گرفتار ہونے والی تیونسی
اکتوبر
پرانی اور بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کو رنگین بنایا جا سکتا ہے
?️ 30 اگست 2021نیویارک( سچ خبریں)پرانی اور بلیک اینڈ وائت تصاویر کو رنگین بنایا جا
اگست
عودہ کے قتل نے یروشلم کی آزادی کے لیے ہمارے عزم کو مضبوط کر دیا: قسام بریگیڈز
?️ 28 مئی 2026 سچ خبریں:شہید عزالدین قسام بریگیڈز، فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس)
مئی