?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر سپریم کورٹ میں 13 دسمبر کو سماعت ہوگی۔
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں کی سماعت جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ کرے گا۔
6 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔
واضح رہے کہ رواں برس 23 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے پر گرفتار عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے کیس کا 6 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن ڈی 2 کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 (4) بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے۔
سپریم کورٹ کے 1-4 کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ فوجی تحویل میں موجود تمام 103 افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوگا۔
عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کے تمام ملزمان کے ٹرائل متعلقہ فوجداری عدالتوں میں ہوں گے اور سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ہونے والے کسی ٹرائل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔
فیصلہ 1-4 کی اکثریت سے سنایا گیا تھا اور جسٹس یحیٰی آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔
بعدازں 17 نومبر کو نگران وفاقی حکومت اور وزارت دفاع نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔
درخواستوں میں آرمی تنصیبات پر حملوں کے ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
انٹراکورٹ اپیلوں میں مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جن درخواستوں پر فیصلہ دیا وہ ناقابل سماعت تھیں اور آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات کالعدم ہونے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
علاوہ ازیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے بھی فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ آرمی تنصیبات پر حملوں کے ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
بعدازاں 21 نومبر کو نگران حکومتِ پنجاب نے بھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو آئین کے خلاف قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔


مشہور خبریں۔
سعودی سفارت کار افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستان میں آباد
?️ 7 فروری 2023سچ خبریں:دو خبری ذرائع نے بتایا کہ کابل میں حملوں کے بڑھتے
فروری
لاکھوں یمنی بھوک اور افلاس کے خطرے سے دوچار
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن میں قحط یا
مارچ
شفاف انتخابات ایک چیلنج ہے
?️ 25 فروری 2021اسلام آباد {سچ خبریں} قوم کو اس وقت مجلس شوریٰ کے ایوانِ
فروری
عوام کی آواز کو روکنے سے کیا ہوگا؟بیرسٹر گوہر کی زبانی
?️ 27 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے
جولائی
16 تاریخ کو ملیر کی عوام سچے اور جھوٹا کا فیصلہ کر دے گی: خرم شیر زمان
?️ 8 فروری 2021کراچی (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ
فروری
بھارت نے افغاستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے
?️ 19 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا
ستمبر
سیاسی جماعتیں نیم جمہوری ہیں، مخالف کا سرقلم کرنیوالا خود بھی سزا بھگتتا ہے۔ سعد رفیق
?️ 21 دسمبر 2025لاہور (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے
دسمبر
صیہونی یمنیوں کو اپنے لیے خطرہ کیوں سمجھتے ہیں؟
?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی داخلی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ نے اسرائیل کے
نومبر