حزب اللہ کے ساتھ جنگ ​​بچوں کا کھیل نہیں:اسرائیلی تجزیہ کار

حزب اللہ

?️

سچ خبریں:صہیونی مورخ اور تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر نے حزب اللہ اور تہران کے ساتھ تنازعہ کے دعوے کرنے کے بارے میں صیہونی حکام کو خبردار کرتے ہوئے تاکید کی کہ یہ بیانات خوف کی علامت ہیں۔

صیہونی مورخ،تجزیہ کاراور تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر ایال زیسر نے اسرائیل ہیوم اخبار میں شائع ہونے والے اپنے ایک تجزیے میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف صیہونی حکام کی دھمکیوں کے پس پردہ حقائق بیان کرتے ہوئے لکھا کہ گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والی ہرتزلیا کانفرنس میں [صہیونی] سیکورٹی سروس کے اعلیٰ عہدے داروں کی طرف سے جو انتباہات اور دھمکیاں دی گئی تھیں درحقیقت یہحزب اللہ اور ایران کے ساتھ ہمہ گیر جنگ اور تصادم کے خدشات سے پائے جانے والے خوف وہراس کی نشاندہی کرتی ہیں ۔

واضح رہے کہ ہرتزلیا کانفرنسمقبوضہ علاقوں میں منعقعد ہونے والی صیہونی حکومت کی اہم ترین سکیورٹی اسٹریٹجک کانفرنسوں میں سے ایک ہے جس کا مقصد اس حکومت کی مدد کرنا ہے کہ وہ ارد گرد کے سکیورٹی اہداف کو جان سکے اور ان کے ساتھ کس طرح بات چیت کی جائے۔

یاد رہے کہ اس میں صیہونی حکومت کے سیاسی اور عسکری رہنما نیز اقتصادی امور کے ماہرین کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے نیز اس کانفرانس میں صیہونیوں کے علاوہ بڑی تعداد دوسرے افراد بھی شریک ہوتے ہیں جن میں ممتاز بین الاقوامی حکام جن میں یورپی وزرائے اعظم اور وزراء اور بعض عالمی اقتصادی اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔

زیسر، جو تل ابیب یونیورسٹی میں مشرقی علوم کے پروفیسر ہیں، نے مزید لکھا ہے کہ صہیونی سکیورٹی سروسز کے اہلکار، ایسی کانفرنسوں میں فوجیوں کی طرح نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیں اور توبیخ سے بچنے کے لیے عام طور پر ایسے بیانات دیتے ہیں جو وسیع پیمانے پر میڈیا میں ہنگامہ آرائی کا باعث بنتے ہیں۔

صیہونی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے اس کانفرنس میں کہا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کے شعبے میں پیش رفت کی ہے اور اگرچہ تہران نے ابھی تک جوہری بم بنانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن ہمارے خطے میں منفی صورتحال اس طرح کے فیصلے کا باعث بنے گی۔

امان کے سربراہ نے یہ بھی خبردار کیا کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ ایک ایسی غلطی کر رہے ہیں جو خطے میں جنگ کا سبب بنے گی،ان الزامات کے جواب میں ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے خبردار کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ ایک مکمل جنگ کا آغاز کر دے گا جس کی ذمہ دار صیہونی حکومت ہوگی۔

اس مسئلے کے جواب میں حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں ایک مشق کا انعقاد کیا جس میں صیہونی فوجیوں کو پکڑنے اور مقبوضہ سرحدی شہروں پر حملہ کرنے کی علامتی کاروائی کی گئی تھی لیکن یہ تمام امور جنگ کے قریب آنے کی نشاندہی نہیں کرتے۔

قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ کی علامتی مشق گذشتہ اتوار کو جنوبی لبنان میں اس علاقہ کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی جو صیہونی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی اور صیہونی حکومت کے ٹی وی چینلز اور نیوز ویب سائٹس نے اس سے متعلق خبروں کو شائع کیا۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ صہیونی حکام کی تنبیہات محض ایک جھنجھلاہٹ ہے مزید لکھا کہ تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ نصراللہ اکثر اس طرح کی تنبیہات کو اسرائیلی کی طرف سے کمزوری اور خوف سمجھتے ہیں اور یہ مسئلہ انہیں اسی حالت میں رہنے کی ترغیب دیتا ہے،حزب اللہ کے ساتھ جنگ ​​بچوں کا کھیل نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں شہدا کی تازہ ترین تعداد

?️ 1 ستمبر 2026سچ خبریں:غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی جسٹس عامر فاروق کے خلاف ’بدنیتی پر مبنی سوشل میڈیا مہم‘ کی مذمت

?️ 28 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف

ٹرمپ نے امریکی شہروں میں میرینز بھیجنے کی دھمکی دی

?️ 3 نومبر 2025سچ خبریں: سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ

ہمیں بد اور بدتر میں سے انتخاب کرنا تھا: اسرائیلی تجزیہ کار

?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں: اسرائیل کے چینل 12 ٹیلی ویژن کے صحافی اور تجزیہ

ایران اور امریکہ کے درمیان آخری میدان جنگ

?️ 15 جولائی 2026سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں آبنائے ہرمز

ویتنام جنگ سے لے کر غزہ تک امریکہ میں طلبہ تحریکوں کا کردار

?️ 28 اپریل 2024سچ خبریں: 1960 کی دہائی میں امریکہ میں ویتنام جنگ مخالف طلبا

ایران کے خلاف جنگ ایپسٹین کا غصہ ہے: امریکی عوام

?️ 18 مارچ 2026سچ خبریں:امریکیوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کو ایپسٹین کے

یمنی فوج سعودی عرب کی سرحدوں کے نزدیک

?️ 18 دسمبر 2021سچ خبریں:خبر رساں ذرائع کے مطابق یمنی فوج اور عوامی کمیٹیوں نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے