عمران خان پر حملہ: پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کی تشکیل نو کردی

?️

لاہور: (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پر قاتلانہ حملے اور وزیرآباد پولیس کی جانب سے مقدمے میں ایف آئی آر کے اندراج کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی 5 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی 24 گھنٹے کے اندر ہی تشکیل نو کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی پنجاب حکومت نے عمران خان پر قاتلانہ حملے اور وزیرآباد پولیس کی جانب سے مقدمے میں ایف آئی آر کے اندراج کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی تھی۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے بنائی گئی نئی جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آر پی او ڈیرہ غازی خان سید خرم علی کریں گے جب کہ اس سے قبل بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی (اسٹیبلشمنٹ II) سی پی او لاہور طارق رستم چوہان تھے۔

از سر نو تشکیل جے آئی ٹی میں ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ طارق رستم چوہان، ڈیرہ انسوسٹی گیشن پنجاب ممبر سید خرم علی، اے آئی جی مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان، ایس پی پوٹھوہار ڈویژن راولپنڈی ملک طارق محبوب اور ایس پی سی ٹی ڈی لاہور نصیب اللہ خان شامل ہیں۔

وزیر آباد سانحہ کی تحقیقات کے لئے قائم نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کا نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ان عہدیداروں کے علاوہ جے آئی ٹی کسی اور سرکاری افسر کو بھی ممبر کے طور پر کمیٹی میں شامل کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بنائی گئی جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی (اسٹیبلشمنٹ II) سی پی او لاہور طارق رستم چوہان کر رہے تھے جب کہ اس کے 4 ارکان تھے جن میں ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس آفیسر سید خرم علی، اے آئی جی/مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان، انویسٹی گیشن برانچ وہاڑی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد زطر بزدار اور سی ٹی ڈی لاہور کے ایس پی نصیب اللہ خان شامل تھے۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے پنجاب پولیس کے سربراہ فیصل شاہکار کی درخواست پر یہ جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔

یاد رہے کہ وزیر آباد میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے کے چند گھنٹے بعد ہی وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت سے کہا تھا کہ وہ حقائق کو منظر عام پر لانے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے۔

وفاقی حکومت نے اس حوالے سے پنجاب حکومت کو خط لکھا تھا جس میں سینئر پولیس افسران اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو جے آئی ٹی میں شامل کرنے کا کہا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 3 نومبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سینیٹر فیصل جاوید سمیت متعدد رہنما زخمی اور ایک شہری جاں بحق ہوگیا تھا۔

مشہور خبریں۔

2022 کے اہم ترین واقعات

?️ 1 جنوری 2023سچ خبریں:بین الاقوامی امور کے ماہرین نے 2022 کے اہم ترین واقعات

امریکہ کو چین سے شدید خطرہ:امریکی سفارت کار

?️ 25 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکی نیول وار کالج کے سینئر رکن نے بحرالکاہل میں مشن

قومی اسمبلی میں ایک سانحہ ہوا،جس پر سب کو تشویش تھی، اسپیکر پنجاب اسمبلی

?️ 13 ستمبر 2024لاہور: (سچ خبریں) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام

عمران خان نے اپوزیشن کی چوری کو روکا ہوا،اپوزیشن کو ہر بل میں تحریک انصاف نے شکست دی:اعظم سواتی

?️ 7 مارچ 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے کہا

جاپانی حکومت کی عوامی مقبولیت میں غیر معمولی

?️ 21 نومبر 2022سچ خبریں:جاپانی حکومت کے تیسرے وزیر نے بھی مالی بدعنوانیوں کی وجہ

فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں: فواد چوہدری

?️ 21 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں) فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن،پی ٹی آئی

جون میں دہشتگردی کے 78 واقعات میں 53 جوانوں سمیت 94 افراد شہید ہوئے، رپورٹ

?️ 1 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں جون میں دہشتگردی کے 78 حملے

پاکستان کی دونوں جانب انتہا پسند ریاستیں ہیں

?️ 27 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے