سیاسی جماعتوں کو مذہبی کارڈ اور غداری کے کارڈ سے اجتناب کرنا چاہیے۔خورشید شاہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ کی مدت میں ایک سال کی تجویز مسترد کردی ۔ وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کارڈ کا استعمال سیاسی جماعتوں کے لیے زہر قاتل ہے۔پیپلز پارٹی نے کبھی مذہب کارڈ استعمال نہیں کیا۔ سیاسی جماعتوں کو مذہبی کارڈ اور غداری کے کارڈ سے اجتناب کرنا چاہیے۔

جب کہ خورشید شاہ نے مولانا فضل الرحمن کی پارلیمنٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن بھی انتخابات میں توسیع قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیئے۔قبل ازیں سید خورشید شاہ نے عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر رد عمل میں کہا ہے کہ ابھی تک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کوئی بات یا مشاورت نہیں ، توسیع وزیر اعظم کی صوابدید ہے ، اگر ہوئی تو یہ الیکشن تک کیلئے نہیں پھر دو سال کیلئے ہوگی ،پارلیمنٹ کی مدت کو نہ بڑھانا چاہیے نہ ہی کم کر نا چاہیے ،کسی اور جماعت نے آئی ایم ایف کو پیسے نہ دینے کیلئے لکھا ہوتا تو وہ غدار بھی ہوتا اور سزائے موت بھی ہوتی ،ملک کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں ،دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے ، حکومت سب کو اعتماد میں لیکر سخت ایکشن لے ۔

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے پارلیمنٹ کی مدت بڑھانے کی تجویز کے حوالے سے سوال پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہاکہ پارلیمنٹ کی جتنی مدت ہے اسی پوری کر نی چاہیے ، پارلیمنٹ کی مدت نہ بڑھانا چاہیے اور نہ ہی کم کر نا چاہیے ، اگر سیاستدان ایسی بات کریں گے تو عوام کہیں گے سیاستدان اقتدار کے بھوکے ہیں ، عوام کی بہتری کیلئے اقتدارمیں آناچاہیے ۔

ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ عمران خان نے ملک کو جس نہج پر پہنچا دیا ہے اور ابھی تک ہم حالات بہتر نہیں کر سکے اور ہم چاہتے ہیں حکومت اپنی آئینی مدت پورے کرے تاکہ حالات بہتر ہو سکیں ۔جب ان سے عمران خان کی طرف سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں الیکشن تک توسیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوںنے کہاکہ عمران خان کبھی کچھ کہتا ہے ، کبھی کچھ ، عمران خان تو اپوزیشن میں ہے اور اسمبلیوں سے باہر ہے ، وہ اسمبلیوں میں آئے بات کرے اگر کوئی ضرورت ہوئی تو اس سے مشورہ کر لیں گے لیکن ابھی تک آرمی چیف مدت ملازت میں توسیع کے حوالے سے کوئی بات یا کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔

مشہور خبریں۔

بلنکن کے تل ابیب کے سفر کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

?️ 17 ستمبر 2024سچ خبریں: وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکی وزیر خارجہ

شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع

?️ 8 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئی سیاسی

قزاقستان بحران کے پست پردہ ہاتھ

?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں:قزاقستان میں پیش آنے والی حالیہ صورتحال کی رفتار اس ملکجو

نیتن یاہو: ٹرمپ اور میں جانتے تھے کہ ایران کا زوال یقینی نہیں ہے

?️ 11 مئی 2026سچ خبریں: جنگ کے تیسرے دن امریکی میڈیا میں وائٹ ہاؤس کے

نیتن یاہو کی تل ابیب میں بھی  نیندیں حرام

?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں: تل ابیب میں ہزاروں افراد نے صیہونی وزیراعظم کے استعفے

سارابھوانا نے شوہر کے انسٹاگرام پر تصویر شیئر کر ڈالی

?️ 17 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں) معروف گلوکار عاطف اسلم کی اہلیہ سارا بھوانا نے

بھارت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو مسلم اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے

?️ 25 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے

امریکہ کا عرب ممالک کی فوج اور اسرائیل کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ایک اڈہ قائم کرنے کا اعلان:المانیٹر

?️ 23 اکتوبر 2022سچ خبریں:تیل کی قیمتوں پر امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے